سب سے پہلے سمجھیں کہ اس سے قبل بھی کئی سارے میڈیا اور رُکاوٹیں آئیں، کیا سوشل میڈیا بھی اُسی قبیل کاایک ہے یا یہ کوئی ناقابل تسخیر کوئی چیلنج ہے؟آئیے جائزہ لیں۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 7:50 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
سب سے پہلے سمجھیں کہ اس سے قبل بھی کئی سارے میڈیا اور رُکاوٹیں آئیں، کیا سوشل میڈیا بھی اُسی قبیل کاایک ہے یا یہ کوئی ناقابل تسخیر کوئی چیلنج ہے؟آئیے جائزہ لیں۔
مقابلہ جاتی امتحانات کے محاذ سے خبر آرہی ہے، سینئر کالج، جو نیئر کالج در کنار اسکولوں کے کلاس روم میں شوربرپا ہے، گھروں میں بھی ہنگامہ برپا ہے کہ شیٖر خوار بچّے بھی اسمارٹ فون کے عادی ہوچکے ہیں وہ سبھی اِس کی لت میں مبتلا ہیں۔ اساتذہ والدین اور لگ بھگ سارا ذمہ دار معاشرہ بے حد فکر مند ہے کہ اسکول سے لے کرکریئر کے سارے اہم امتحانات میں کئی طلبہ کے سارے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں کیونکہ طلبہ کے ذہنوں پر سوشل میڈیاحاوی ہو چکا ہے اور اب اِسی سوشل میڈیا کے ساتھ جینا ہے، مگر کیسے ؟
سب سے پہلے سمجھیں کہ اس سے قبل بھی کئی سارے میڈیا اور رُکاوٹیں آئیں، کیا سوشل میڈیا بھی اُسی قبیل کاایک ہے یا یہ کوئی ناقابل تسخیر کوئی چیلنج ہے؟آئیے جائزہ لیں۔ سوشل میڈیا کے وجود میں آنے سے نصف صدی پہلے فلمیں اور پھر گزشتہ چہار دہائیوں تک ٹی وی کی ساس بہو کی سیرئیل کا دَور دَورہ تھا بلکہ خواتین کی ہر رات کی ۸؍سے ۱۲؍بجے تک سب سے بڑی مصروفیت کا نا م تھا:رونے دھونے کی سیریل۔ اُنھیں دیکھنے کے لئے وہ بڑی بڑی ’قربانیاں ‘ دیا کرتی تھیں مثلاً صبح جلدی اُٹھ کرکھانا بنانا یا دونوں وقت کا ایک ساتھ کھانا پکالینا، دو سیریل کے درمیانی وقفے میں جلدی جلدی نماز پڑھنا، رات میں شو ہر کو خود ہی کھانا گرم کر لینے کی ہدایت دنیا وغیرہ۔ اُس زمانے میں خواتین کا آپسی گفتگو کا موضوع بھی اسی قسم کا ہوا کرتا تھا کہ فلاں کی فلاں سے شادی ہوئی یا نہیں۔ ساس سُدھر گئی یا، بہو ساس پر ابھی تک ظلم کرتی ہے وغیرہ۔ مَردوں کے لئے ٹی وی کے اُس میڈیا کا مصرف یہ تھا کہ وہ زمبابوے اور آئر لینڈ کے درمیان کا ۵؍روزہ کرکٹ میچ بھی پورا پورا دیکھتے اور رات میں اُس میچ کی جھلکیاں دیکھنے کے لئے بھی بے تاب رہتے۔
پھر موبائیل آگیا۔ اُسے چالاک (یعنی اسمارٹ) بنتے دیر نہیں لگی اور سب سے پہلے اُس کو نوجوان طبقے نے دل و جان سے اپنا لیا کیونکہ اُنھیں ’پیغام‘ یا مسیج بھیجنے کا بڑا آسان ذریعہ مل گیا۔ اُس کے بعد سیلفی اور ریٖل بنابنا کر سینما گھروں کے اسکرین سے زیادہ مقبول ہیرو بننے کے مواقع مل گئے اور اب تو نئی نسل اِن ریٖل کے سمندر میں پوری طرح ڈوبتی جاری ہے۔ فیس بُک، انسٹا گرام، واٹس اپ اور اِس جیسے ایسے ایسے ایپ آگئے کہ ڈرگس کی طرح ایک مہلک نشہ بن گیا۔
آج طلبہ سے لے کر بڑے بھی قسم کھا کے چند منٹوں کے لئے ان ریلس کے جنگل کی سیر کو نکلتے ہیں اور پھر گھنٹوں اُس سے باہر نہیں نکلتے پاتے، کیوں ؟ اُن ریلس کو دلچسپ، مزیدار بلکہ چٹخارے دار بنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑتے لہٰذا سبھی ایک کے بعد ایک ریلس پر کوئی اسکرول کرتے ہیں اور اس دوران ہم سبھوں کو نہ ٹائم ٹیبل یاد رہتا ہے نہ اپنی ترجیحات کی لسٹ! یہاں ایک بات یہ بھی سمجھئے کہ آپ کسی پوسٹ پر کتنے سیکنڈ کے لیے رُکے اور جہاں آپ کسی پوسٹ ۷؍سے ۱۰؍سیکنڈ رُکی، بس ویساہی، اُس سے ملتا جلتا مواد آپ کو پروسا جاتا ہے۔ اسی کو الگورتھم کہتے ہیں یعنی ایک خود کار نظام جو اندازہ لگا لیتا ہے کہ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ آپ جو سوچتے ہیں، وہی چیز آپ کے سامنے آجاتی ہے یعنی ہماری سوچ بھی ہائی جیک ہوچکی ہے۔
آخرصرف نئی نسل نہیں بلکہ سبھی لوگ سوشل میڈیا کے نشے میں اس قدر ڈوبتے کیوں جا رہے ہیں ؟ (الف ) تاک جھانک (ب) تضحیک (ج) کردار کشی (د) فرار کی کیفیت۔ معلومات کیلئے انتہائی مؤثر ذریعہ چھوٹے سے بڑوں کے لئے تاک جھانک کا ذریعہ بن گیا۔ اکثر اس بات پر خوش ہوئے کہ ہمارا اپنا کردار کچھ بھی ہو البتّہ دوسروں کی کردار کشی پر لوگ لطف اندوز ہونے لگے۔ سوشل میڈیا میں کسی کا مذاق اُڑایا جاتا ہے تو اُس سے لوگ لطف اندوز ہونے لگے۔ سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کو اُن لوگوں نے زیادہ گلے لگالیا جو اپنی ذہنی بیماریوں کا اس درجہ شکار ہیں کہ موبائل کے سارے ایپ میں وہ نجات تلاش کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنی دیر تک اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے ایپ اُن کی جیب میں ہیں ، اُنھیں کوئی ڈر نہیں۔ زندگی سے فرار حاصل کرنے کی کیفیت میں مبتلا افراد کے دماغ میں خوش کُن مائع جسے ڈوپا مان کہتے ہیں کی بناء پر انہیں حق و باطل کی کوئی تمیز نہیں ہوتی اور سوشل میڈیا کے نشہ میں مزید ڈوب جاتے ہیں۔ بس ان چار نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہمارے نوجوان و دیگر افراد آج اسمارٹ فون کے بغیر لگ بھگ جی نہیں سکتے۔ ۳۔ ۴؍ گھنٹے نہیں ، ہر ۳۔ ۴؍منٹ کے بعد اُن کی انگلیاں بس بے تاب ہو جاتی ہیں فون کے اسکرین پر دوڑنے کیلئے۔ کیوں ؟ صرف یہ سوچ کرکہ نہ جانے ابھی سوشل میڈیا میں کیاکیا چل رہا ہے؟ کون کس پر کیچڑ اُچھال رہا ہے؟ کون کس پر طعنے کس رہا ہے؟ کیا کیا مباحثہ چل رہا ہے اور کہیں کچھ چُھوٹا تو نہیں جارہا ہے ؟ نوجوانو، سنئے! کچھ نہیں چُھوٹا جارہا ہے۔ اس سوشل میڈیا کے نشے کی لت سے آپ کا وقت چُھوٹا جارہا ہے، نوجوانوں کی تو اپنی زندگی ہی چُھوٹی جارہی ہے، کریئر کی ساری گاڑیاں، چُھوٹی جارہی ہیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اسمارٹ فون کے مختلف ایپس، ریلٖس اور سوشل میڈیا سے نجات ممکن ہے ؟ ممکن ہے یہ کہنے والا دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے کیوں کہ یہ میڈیا اب ہماری زندگی کا ایک حصہ بن گیاہے۔ کچھ لوگ اِسے معلومات کے لیے استعمال کر رہے ہیں، مثبت فکر کے( چند فیصد ہی سہی) طلبہ شخصیت سازی کے لیے، پڑھائی کے لیے، نوٹس کے لیے، حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ البتہ ایک بڑی اکثریت جو ہر قسم کا اختراعی صلاحیتوں سے عاری ہے وہ صرف نقل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ خصوصاً اب اے آئی کی مدد سے یہ نقل بہت آسان ہو گئی ہے البتہ سب سے بڑابلکہ ناقابل تلافی نقصان یہ ہورہا ہے کہ اس میڈیا کے کئی اخلاق سوز ایپس سے صرف نئی نسل نہیں بلکہ پورا معاشرہ شدید اخلاقی بحران سے دو چار ہوچکا ہے۔ کئی شیطانی ذہن اس محاذ پر دن رات کام کر رہے ہیں کہ وہ ساری اخلاق سوز باتیں معاشرے میں مفت پہنچ رہیں۔ وہی انسان دشمن عناصر اس میں بھی مصروف ہے کہ نئی نسل کو اپنا مکمل گرویدہ بنانے کے لئے آن لائن گیمس سے متعارف کرائیں اور آنکھوں پر بٹھا کر اپنی جان تک دینے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا ایک نشہ، ایک لت بن گئی ہے اور مشرق یا مغرب پورے معاشرے کو اُس کو لگ بھگ اغوکر لیا ہے، یہ تو جگ ظاہر ہوگیا ہے۔ کیا اس سے ہم نکل سکتے ہیں ؟ ہمارا لائحہ عمل کیا ہو ؟
یہ بھی پڑھئے: چھٹیاں مبارک! مگر کیا آپ کا مستقبل بھی چھٹی پر ہے؟
(۱) سب سے پہلے یہ جان لیں کہ آج دنیا بھر میں نشہ یالت کی فہرست یہ ہے۔ نمبرایک شراب، نمبر دو ہیروئن/کوکین، نمبر تین سوشل میڈیا، نمبر چار جُوا اور نمبر پانچ سگریٹ، دیکھ لیجئے کتنے جلد دنیا کے سارے نشو و نمامیں سوشل میڈیا نمبر تین پر پہنچ گیا۔
(۲) سوشل میڈیا کی وجہ سے کئی جسمانی بیماریاں جیسے آنکھوں میں جلن، گردن کا درد وغیرہ عام ہوگیا ہے۔ اُسی کے ساتھ ذہنی بیماریاں جیسے چڑچڑاہٹ، ذہنی اضطراب، نا اُمیدی مایوسی عام ہورہی ہیں۔
(۳) پورے معاشرے میں ہنگامہ آرائی ہے بلکہ کہرام مچا ہے کہ ہمارے نوجوان رات رات بھر جاگ رہے ہیں۔ انھیں نیند نہیں آرہی، والدین پریشان ہیں، معاشرے کے ذمہ داران نوجوانوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ رات بھر نہ جاگیں مگر وہ جو صرف جاگ رہے ہیں اس میں سوشل میڈیا بڑا سبب ہے۔
(۴) سوشل میڈیا کے ساتھ مثبت طریقے سے جینے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے ؟ (الف) اسمارٹ فون کو اپنی ضرورت بنائیں مگر اپنی کمزوری ہر گز نہیں (ب) یہ بیماری فوری غائب نہیں ہو گی اس کے لئے ہم پورے دن میں ایک یا زیادہ سے زیادہ دو اسکرین اور (گھنٹے ) قائم کر یں دن میں ایک سے دو گھنٹے پوری فیملی ایک ساتھ مل کراسمارٹ فون دیکھیں اور اچھی معلومات یا سائٹس ایک دوسرے سے شیئر کریں۔ (ج)ہمیں ایک بغیر تالے والی زندگی تشکیل دینی ہوگی یعنی اپنے موبائل پر کسی کوڈ سے تالہ نہ لگائیں جس سے ہم اپنے بچّوں کو یہ کہہ سکیں کہ وہ بھی اپنے موبائل کو کھلا رکھیں تاکہ گھر میں کوئی بھی غلط سلط سائٹ پر نہ چلا جائے۔ (د) یہاں ہم والدین کو ایک مستقل ہوم ورک دینا چاہیں گے اور وہ یہ کہ وہ اپنے بچّوں کا روزانہ کاٹائم ٹیبل بنانے میں اُن کی ہر روز مددکریں۔ کم پڑھے لکھے والدین بھی یہ کام کرسکتے ہیں اور روزانہ دس منٹ اپنے بچّے کی پڑھائی، کھیل، مشغلہ، نیند سوشل میڈیا ان سب پر مشتمل ٹائم ٹیبل بنانے پر صَرف کریں اس سے بچّے کے بھٹکنے کے امکانات کم سے کم ہوجائیں گے۔ والدین اپنے لیے بھی ہر روز چھوٹی موٹی ٹائم ٹیبل مرتّب کرکے اُس پر عمل کرنے کی روایت قائم کریں۔ بچّہ بنیادی طور پرنقلچی ہوتا ہے، وہ آپ کی نقل کرے گا۔
ہمیں امید ہے کہ بچّوں اور نوجوانوں کی موبائل کے اسکرین پر پھسلتی ہوئی انگلیاں بہت حد تک اس طرح رُک جائیں گی، اور آپ اپنے بچّوں کو یہ بتانے میں کامیاب بھی ہوجائیں گے کہ فالورس، لائکس، کمنٹس پر یہ زندگی نہ شروع ہوتی ہے اور نہ ہی ختم!