مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے سامنے آنے والی خبریں ہمیں خبردار کررہی ہیں کہ پانی کی قلت اب محض مستقبل کا اندیشہ نہیں بلکہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ پوری ریاست میں ۱۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں ہفتے میں ایک دن پانی کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ اس کے باوجود افسوس کی بات یہ ہے کہ ان علاقوں میں جہاں پانی کی فراوانی ہے اور جہاں نل کھولتے ہی پانی آجاتا ہے، لوگوں کو اس بات کا احساس کم ہی ہے۔ ان حالات میں شہریوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ہم نے قارئین سے جاننے کی کوشش کی ہے۔
آج پانی کی حفاظت ہی کل کی زندگی، خوش حالی اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے

پانی قدرت کی ایک بیش قیمت نعمت اور انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان، حیوانات، نباتات اور ماحول کی بقا کا انحصار پانی پر ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے صوبہ مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت کا مسئلہ ہے جو سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاستی حکومت نے شہری اور دیہی مقامی اداروں میں کم از کم۱۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی نافذ کر دی ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ پانی کی اس قلت کے اسباب میں بارش کی کمی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں گراوٹ، پانی کا بے جا استعمال، آبی ذخائر کی آلودگی اور پانی کے انتظام میں کوتاہی شامل ہیں۔ پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے صرف حکومت کی کوششیں کافی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔ ہمیں پانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ضرورت کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ نل کو بلاوجہ کھلا نہ چھوڑیں، پانی کے رساؤ کو فوراً درست کروائیں اور روزمرہ زندگی میں پانی کے ضیاع سے بچنے کی عادت اپنائیں۔ گھریلو استعمال کے پانی کو ممکنہ حد تک دوبارہ کام میں لانا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کیلئے چھتوں پر بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھانے کے انتظامات کیے جانے چاہئیں۔ تالابوں، کنوؤں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر کی صفائی و حفاظت بھی ضروری ہے۔ درخت لگانا، جنگلات کا تحفظ کرنا اور ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنا پانی کے قدرتی وسائل کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سماجی سطح پر رضاکارانہ تنظیموں، تعلیمی اداروں، مقامی بلدیاتی اداروں اور شہریوں کو مل کر بیداری مہم چلانی چاہیے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور قلت سے متاثرہ علاقوں کے ضرورت مند افراد تک پینے کا پانی پہنچانے میں تعاون کیا جائے۔ پانی کی ذخیرہ اندوزی کے نام پر ناجائز طور پر پانی جمع کرنا یا دوسروں کو اس کی فراہمی سے محروم کرنا مناسب نہیں۔ پانی کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہر شہری پانی کی بچت کو اپنا اخلاقی فریضہ سمجھےتو پانی کی قلت کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آج پانی کی حفاظت ہی کل کی زندگی، خوش حالی اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
ڈاکٹر رشید اشرف خان
( اسسٹنٹ پروفیسر، اسکول برائے انسانی وسماجی علوم، یشونت راؤ چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی، ناسک)
پانی کا تحفظ محض حکومت یا انتظامیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے

مہاراشٹر میں پانی کا بحران اب ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ یہ محض حکومت یا انتظامیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جن علاقوں میں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے، وہاں کے شہریوں کو یہ حساسیت پیدا کرنی ہوگی کہ ان کی ذرا سی لاپروائی اور پانی کا ضیاع، ریاست کے ان حصوں کیلئے پیاس اور اذیت کا سبب بن سکتا ہے جو پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ ہم شہریوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پانی کو محض ایک خریدی ہوئی چیز سمجھنے کے بجائے اسے ایک انمول قدرتی امانت سمجھیں۔ پانی بچانے کیلئے ہمیں اپنی روزمرہ کی عادات میں فوری اور عملی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے:
پانی کے رساؤ کی روک تھام: گھروں، سوسائٹیوں اور محلوں میں پانی کے ٹپکتے ہوئے نل اور پائپوں کے رساؤ کو فوری طور پر ٹھیک کروائیں۔ ایک ٹپکتا ہوا نل روزانہ درجنوں لیٹر پانی ضائع کر دیتا ہے۔
پائپ کی جگہ بالٹی کا استعمال: گاڑیوں کو دھونے، صحن یا راستوں کی صفائی کیلئے پائپ کا استعمال قطعی بند کریں اور اس کی جگہ بالٹی اور مگ کا استعمال کریں۔ اس چھوٹی سی تبدیلی سے بے تحاشہ پانی بچایا جا سکتا ہے۔
روزمرہ کے کاموں میں احتیاط: غسل، وضو، برتن دھونے، کپڑے دھونے اور برش کرنے کے دوران نل کو مسلسل کھلا نہ چھوڑیں۔ جتنا پانی درکار ہو، صرف اتنا ہی استعمال کریں۔
پانی کا دوبارہ استعمال: کچن میں سبزیاں، دالیں یا چاول دھونے کے بعد بچ جانے والے پانی کو نالے میں بہانے کے بجائے اسے گھر کے پودوں میں ڈال کر دوبارہ استعمال میں لائیں۔
بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی: رہائشی عمارتوں اور سوسائٹیوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ کے نظام کو فعال کیا جائے تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج بچایا گیا ایک ایک قطرہ، کل ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی زندگی کی ضمانت ہے۔ پانی کی بچت اب کوئی آپشن نہیں بلکہ ہماری بقا کی لازمی شرط ہے۔
عبید خان( منیجنگ ڈائریکٹر، فرسٹ ہیلتھ چیریٹیبل ٹرسٹ)
پانی کا استعمال اعتدال سے کریں

پانی زندگی ہے۔ یہ رحمت صرف انسانوں کیلئے نہیں بلکہ درخت، جانور، پرندے غرض ہر زندہ مخلوق کیلئے ہے۔ ہم اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے بھی اکثر اس بات کو بھول جاتے ہیں۔ پانی کا اسراف انسان ہی سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ آج ہم سب ایسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں پانی کی قلت بہت بڑا اور اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ ہم تو ممبئی جیسے شہر میں ہیں جہاں پھر بھی عافیت ہے دیہات اور گاؤں میں جو پریشانی ہے ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ بحیثیت شہری پانی کا استعمال اعتدال سے کرنا چاہئے۔ پانی کی کٹوتی کی اطلاع مل چکی ہے۔ یہ فیصلہ پانی کے ذخائر کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اسلئے اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہر ایک کو ہو نا چاہئے۔ یہ معاملہ مانسون آنے تک جاری رہے گا۔ ایسے میں ہم سب کو اپنا طرز بدلنے کی ضرورت ہے۔
روزانہ کی عادتوں میں شعوری طور پر پانی کم خرچ کرنے پر توجہ دیں۔
ممکن ہو تو مشینوں کی جگہ ہاتھ سے کپڑےا وربرتن دھوئیں۔
اگر مشین کا استعمال بھی کرنا ہے تو حکمت سے کریں۔ چند کپڑوں یا برتن کیلئے بھی مشین اتنا ہی پانی خرچ کرتی ہے جتنا زیادہ کپڑوں کیلئے، اس کا خیال رکھیں تو پانی بچایا جا سکتا ہے۔
نہانے کیلئے شاور کا استعمال ترک کرنا چاہئے۔
گھر میں، سوسائٹی میں اورمحلے میں پانی کی پائپ لائن کی جانچ کریں تاکہ پانی کے رساؤ سے پانی کی بربادی نہ ہو۔
نل کھول کر کر کوئی کام نہ کریں ۔
استعمال شدہ پانی کا دوبارہ استعمال کریں ۔ جیسے دال، چاول اورگوشت وغیرہ دھونے کے بعد جو پانی بچتا ہے، اس کو نہ پھینکتے ہوئے گھر کے پودوں کے گملوں میں استعمال کریں۔
کپڑے دھونےاورنچوڑنے کے بعد بچنے والا پانی احاطہ اورصحن وغیرہ دھونےکیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بچوں کی از خود برش کرنے اورنہانے کی روٹین پر نظر رکھیں تاکہ پانی کا اسراف نہ ہو، بچے لا پروائی کر سکتے ہیں۔
ٹپکتے نل بھی درست کر نے کی فوری ضرورت ہے۔
آپ کےاےسی سے جو پانی یہاں وہاں ٹپکتا ہے اس کے بھی ذخیرہ کا انتظام کریں تو وہ پانی بھی گاڑی دھونے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
احتیاط اور کفایت کی تمام عادتیں اپنانے کا وقت ہے کیونکہ پانی جیسی نعمت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اگر نیت اور ارادہ کر لیں تو ہم سب اس دشواری پر قابو پا لیں گےان شاء اللہ۔
خان صبیحہ( سینئر معلمہ، پٹھان واڑی اردو اسکول، ملاڈ)
ہمیں واشنگ مشین کا روزمرہ کااستعمال کم کرنا چاہئے

مفاد پرست عالمی طاقتوں نے سیاسی مفادات کی خاطر دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جس سے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ موسموں کا توازن بھی بگڑ رہا ہے۔ اس کے اثرات صوبہ مہاراشٹر پہ بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہاں پانی کی۱۰؍ فیصد کٹوتی اور کئی شہروں میں ہفتے میں ایک دن پانی کی فراہمی کا معطل ہونا اس کا واضح ثبوت ہے کہ پانی کا شدید بحران اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ حکومت اپنی سطح پر انتظامات کر رہی ہے، لیکن جب تک ہم بطور شہری اپنی سماجی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے، یہ بحران سنگین تر ہوتا جائے گا۔ پانی کی بچت صرف حکومت کا دردِ سر نہیں بلکہ ہم سب کا اولین اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے۔ ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پانی کو اللہ رب العزت کی عظیم نعمت سمجھ کر استعمال کریں اور اس کے ضیاع سے سختی سے پرہیز کریں۔ گھروں میں نلکوں کا ٹپکنا، پانی کی ٹانکی کا بھرکربہنا اور برش یا شیو کے دوران نل کھلا ہوا رکھنایہ بظاہر چھوٹی لاپروائیاں روزانہ ہزاروں لیٹر صاف پانی کی بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ ہمیں فوری طور پر ان عادتوں کو بدلنا ہوگا۔
ہمیں اپنے طرزِ زندگی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ گاڑیوں اور صحن کی دھلائی یا باغبانی کیلئے صاف پانی کے بجائے استعمال شدہ پانی کو کام میں لائیں۔ واشنگ مشین کا روزمرہ استعمال کم کریں اور شاور کے بجائے بالٹی کا استعمال کر کے پانی کی بچت کو یقینی بنائیں۔ رہائشی عمارتوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام لازمی طور پر نافذ کیا جائے۔ محلے اور سوسائٹی کی سطح پر وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ مساجد، اسکولوں اور سوشل میڈیا سے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ آج جو لوگ لاپروائی برت رہے ہیں، کل انہیں بھی اس سنگین قلت کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے اورپانی بچانا ایک بہترین عبادت بھی ہے۔
شہیر زیڈ عابد مومن(بھیونڈی، سماجی کارکن)
پانی کے ہر قطرے کو بچانے کی کوشش ہونی چاہئے

پانی ایک انمول نعمت ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی نہیں۔ فی الحال پانی کا بحران ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر اس مسئلے پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلام نے پانی کے استعمال میں احتیاط کی تاکید کی ہے لہٰذا ہمیں پانی کی قدر کرنا چاہئے اور اس کے بےجا استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ وضو کرتے ہوئے بھی نل کھلا چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہمیں ایسا کرنے کی سخت ممانعت ہے۔
بارش کے دوران پہاڑوں اور چھتوں سے آنے والے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے واٹر ہارویسٹنگ جیسے طریقہ کار عمل میں لانے کی شدید ضرورت ہے۔ دریاؤں، ندیوں اور نالوں میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے باندھ تعمیر کرنے سے پانی کے ذخیرے اور ماحول کی شادابی دونوں میں اضافہ ہوگا۔ کنوؤں اور تالابوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بوقت ضرورت اس پانی کو استعمال میں لایا جاسکے۔ درختوں اور کیاریوں میں صاف پانی کے بجائے استعمال شدہ پانی کو مصرف میں لایا جائے۔ سرکاری سطح پر استعمال شدہ پانی کو دوبارہ استعمال کے لائق بنانے اور سمندر کے نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جانا چاہئے۔ کھیت کھلیانوں میں روایتی طریقے کے بجائے جدید آبپاشی کے ذرائع کو اپنایا جانا چاہئے۔ اسی طرح فیکٹریوں اور کارخانوں میں پانی کے بےجا استعمال پر روک لگائی جانی چاہئے اور عوام میں پانی کے تحفظ سے متعلق بیداری پیدا کی جانی چاہئے۔ جہاں تک شہریوں کی بات ہے، انہیں پانی کے ہر قطرے کو قیمتی سمجھتے ہوئے اسے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ گھروں میں شاور اور نل کے بجائے روایتی برتنوں کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور انسان دوست ماحول کی تعمیر میں کلیدی رول نبھائیں۔
اظہرالدین ریاض الدین ملاجی(معلم، نیشنل ہائی اسکول فور بوائز اینڈ جونیئر کالج، ناسک)
پانی کی ناقدری دراصل زندگی کی ناقدری ہے

پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور حیاتِ انسانی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر نہ زندگی کا تصوّر ممکن ہے اور نہ نباتات و حیوانات کی بقا۔ ایسے میں اس کے تحفظ پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پانی کی قلت کے اہم اسباب میں افزائشِ آبادی، آبی ذخائر کی کمی، دریاؤں، نہروں، تالابوں اور جھیلوں کی آلودگی، صنعتی فضلات، کیمیائی مادّوں، پلاسٹک اور گھریلو کچرے کا پانی میں اخراج شامل ہیں۔ قدرتی آبی ذخائر کی تباہی، ان کی جگہ عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر، بارشوں کی بے قاعدگی اور موسمیاتی تغیرات بھی اس مسئلے کو سنگین بناتے ہیں۔ مزید برآں، پانی کا بے جا استعمال، اسراف، نل کھلا چھوڑ دینا، رساؤ سے غفلت، زراعت میں آب پاشی کے غیر مؤثر طریقے اور زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استخراج قلتِ آب کے اہم اسباب ہیں۔
پانی کی حفاظت محض حکومت کا فریضہ نہیں، بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں پانی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور امانت سمجھتے ہوئے غسل، صفائی ستھرائی اور گھریلو امور میں حسبِ ضرورت استعمال کرنا چاہیے۔ اسراف سے بچنا، پانی کے رساؤ کی بروقت اصلاح کرنا ضروری ہے۔ آبی ذخائر میں کچرا و فضلات پھینکنے سے اجتناب، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، شجرکاری اور قدرتی آبی ذخائر کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ برق و بجلی اور دیگر قدرتی وسائل کا غیر ضروری استعمال ترک کرنا چاہیے۔ مدارس، مساجد اور تعلیمی اداروں کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے اور بچوں و نوجوانوں کو پانی کے محتاط استعمال کی تربیت دی جائے تاکہ آنے والی نسلوں اور محروم طبقات کے آبی حقوق محفوظ رہیں۔
پانی کی قلت کا تدارک انفرادی احتیاط، اجتماعی تعاون اور مؤثر حکومتی اقدامات ہی سے ممکن ہے۔ پانی کی ناقدری دراصل زندگی کی ناقدری ہے۔ ایسے میں یہی کہنا چاہئے کہ پانی بچائیے اور زندگی بچائیے۔
خان گلناز محمد نسیم (طالبہ، مہاراشٹر کالج آف آرٹس، سائنس، اینڈ کامرس، ممبئی)