• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ: یوپی میں سیاسی سرگرمیاں کافی بڑھ گئی ہیں، کیا یہ قبل از وقت اسمبلی انتخابات کی تیاری ہے؟

Updated: October 27, 2026, 4:33 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ابھی حال ہی میں چیف الیکشن کمشنرنےاُترپردیش کے بی ایل اوز کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ اسی دوران ایک خبر آئی کہ یوگی حکومت کی جانب سے خواتین کیلئے ۵۰؍ ہزار روپے کی ایک اسکیم کااعلان ہونے والا ہے جس میںسے ۲۰؍ ہزار پہلے اور تین قسطوں میں ۱۰۔۱۰؍ ہزار انتخابات کے بعد دیئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں بی جے پی کی اپنی سیاست کے مطابق سہارنپور کی مسجد شہید کردی گئی اور دیگرکئی مساجد بھی نشانے پر ہیں۔مایاوتی اور اکھلیش بھی سرگرم ہوگئےہیں اور راہل گاندھی نےبھی یوپی کا دورہ کیا ہے، یہ سوال اسی پس منظر میں ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اس کا انحصار  ووٹوں کی تقسیم اور اپوزیشن کے اتحاد پر ہوگا

اترپردیش میں سیاسی سرگرمیاں جس تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اسے صرف عام انتخابی تیاری کہنا درست نہیں ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا دورہ کرنا اور افسران کے ساتھ انتخابی کاموں پر بات کرنا یقیناً انتخابی مشینری کی تیاری کا حصہ ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا جلد بازی ہوگی کہ انتخابات وقت سے پہلے ہی کرا دیئے جائیں گے۔البتہ سیاسی جماعتوں کی بھاگ دوڑ سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۲۷ء کے انتخابات کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔ بی جے پی جہاں سرکاری اسکیموں، خواتین اور دیگر طبقات کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں کے ذریعے اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی وہیں مذہبی اور جذباتی موضوعات بھی انتخابی سیاست کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔سہارنپور کی مسجدکے انہدام کا معاملہ اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔ بقول انتظامیہ  یہ کارروائی غیر قانونی تعمیر اور عدالتی فیصلے کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ اپوزیشن کے مطابق یہ فرقہ وارانہ کھیل ہے۔

اس طرح کے واقعات بی جے پی کے روایتی ہندو ووٹروں کو اکٹھا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں لیکن دوسری طرف مسلم ووٹوں کے ساتھ ساتھ سیکولر اور پسماندہ طبقات کے ووٹوں کو بھی بی جے پی کے خلاف ایک کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔سماجوادی پارٹی اس وقت بی جے پی مخالف ووٹوں کو جمع کرنے کی پوزیشن میں نظر آتی ہے جبکہ کانگریس راہل گاندھی کی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی ایس پی بھی اپنی سیاسی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہے۔ اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ اپوزیشن الگ الگ رہتی ہے یا کوئی مضبوط سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔اگر انتخابات وقت سے پہلے ہوتے ہیں تو بی جے پی کو فائدہ ملنے کا امکان زیادہ ہوگا کیونکہ حکومت، تنظیم اور واضح انتخابی موضوعات اس کے پاس ہیں، لیکن اگر سماجوادی پارٹی، کانگریس اور دیگر جماعتیں مل کر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی انصاف اور آئینی حقوق جیسے اصل مسائل کو سامنے لانے میں کامیاب ہوئیں تو یہی سیاسی سرگرمیاں بی جے پی کیلئے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ آخر میں فیصلہ وقت سے پہلے انتخابات کا نہیں بلکہ ووٹوں کی تقسیم اور اپوزیشن کے اتحاد پر ہوگا۔ 

ڈاکٹر محمدتابش خان (اسسٹنٹ پروفیسر ممبئی یونیورسٹی)

جین زی کا غصہ کم نہیں ہواتو حکومت کو اس کا نقصان ہوگا

لاڈلی بہنا اسکیم کی طرح یوگی حکومت کی ۵۰؍ ہزار کی اسکیم بھی اب شبہ سے باہر نہیں۔ خواتین کے ووٹ حاصل کرکے، بعد میں تفتیش کے بہانے لاکھوں لوگوں کے کھاتے بند بھی کئے جاسکتے ہیں۔ایک طرف ریوڑی اسکیم اور ایک طرف  فرقہ وارانہ سیاست کا استعمال کرکے سرکار کسی بھی طرح ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چیف الیکشن کمیشن صاحب کا خاص دورہ اور بی ایل اوز حضرات سے ملاقات ایک الگ ہی تجسس پیدا کر رہا ہے۔ پچھلی دفعہ یہ خبر بھی سننے میں آئی تھی کی بی ایل اوز پر خاص دباؤ تھا کہ ایک خاص طبقے کے نام حذف کیے جائیں۔  راہل گاندھی کے رائے بریلی کے دورے کی اور سماج وادی اور بی ایس پی کی سرگرمیوں سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کی سیاسی اتھل پتھل ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ مسجدوں کو مسمار کرنا اور اقلیتوں میں بےچینی پیدا کرنا تا کہ لوگ مشتعل ہوجائیں اور پھر’ بٹیں گے تو کٹیں گےکی سیاست کرکے ماحول کو گرم کرنا بی جے پی کا پرانا کھیل ہے۔ ماضی میں اس طرح کی سیاست کا فائدہ بی جے پی ہی اٹھاتی رہی ہے۔لیکن اب حالات قدرے تبدیل ہوئے ہیں۔ اس دوران شمالی ہندمیں بھی نوجوان نسل یعنی جین زی حکومت سے خاصی ناراض دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کی غیر ذمےداری سے، اسکول کی بدحالی اور پیپر لیک سے اسٹوڈنٹس پریشان اور سخت ناراض ہیں۔ اگر نئے جین زی ووٹر س کو ووٹ دینے کا موقع ملا تو ضرور سرکار کو اس کا نقصان ہوگا۔ شاید اسی خوف میں الیکشن جلد کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عرفان احمد انصاری(پرنسپل زیڈ بی زکریا انگلش ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، نالا سوپارہ)

 ریاست انتخابی موڈ میں داخل ہو چکی ہے

اترپردیش کے حالیہ سیاسی و انتظامی تحرک نے لکھنؤ سے دہلی تک چہ مگوئیاں تیز کر دی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا دورہ، بوتھ لیول افسران کے ساتھ ہنگامی میٹنگ، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی اور نئی فلاحی اسکیموں کی گونج اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ریاست انتخابی موڈ میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم، اسے قبل از وقت انتخابات کی یقینی پیش رفت کہنے کے بجائے۲۰۲۶ء کے اختتام یا۲۰۲۷ء کے آغاز کی پیشگی صف بندی سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔انتظامی نقطہ نظر سے الیکشن کمیشن اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہا ہے، جبکہ سیاسی سطح پر لوک سبھا انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے نئے معرکے کی تیاری جاری ہے۔اسی سیاسی شطرنج اور فریقین کی حکمت عملی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

 بی جے پی: زعفرانی پارٹی کا بنیادی مقصد لوک سبھا میں لگنے والے سیاسی دھچکے کا ازالہ کرنا ہے۔ اگر انتخابات طے شدہ وقت سے کچھ ماہ قبل ہوتے ہیں، تو پارٹی اپوزیشن کو صف بندی کا موقع دیئے بغیر فلاحی اسکیموں کی فوری تقسیم اور نظریاتی پولرائزیشن کے گرد ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گی۔

سماجوادی  اور انڈیا اتحاد: اپوزیشن کیلئے یہ ماحول سازگار ہو سکتا ہے۔ اگرپی ڈی اے (پچھڑے، دلت، اقلیت) کا توازن برقرار رہتا ہے اور اکھلیش ، راہل کی جوڑی مہنگائی اور بے روزگاری جیسے معاشی مسائل پر حکومت مخالف لہر یعنی کو مہمیز دینے میں کامیاب رہتی ہے، تو وہ حکمران جماعت کیلئے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

 بی ایس پی:بہوجن سماج پارٹی کیلئے وقت کی تنگی سب سے بڑا امتحان ہوگی۔ اپنے کھوئے ہوئے دلت ووٹ بینک کو واپس لانے اور نچلی سطح پر تنظیم کی بازیافت کیلئے مایاوتی کو مزید وقت کی ضرورت ہے، جو جلد انتخابات کی صورت میں ناممکن ہو جائے گا۔

قبل از وقت یا بروقت، الیکشن کا حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر نہیں ہوگا کہ کون سی جماعت کتنا شور مچاتی ہے، بلکہ کامیابی اس کا مقدر بنے گی جو نچلی سطح پر عوام کی معاشی بے چینی اور سماجی تحرک کو اپنے ووٹ بینک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ فی الحال، فریقین میدانِ جنگ کی ناپ تول میں مصروف ہیں۔

عبدالحسیب جامعی(بنیادی رکن، دی پین فاؤنڈیشن، نئی دہلی)

جس کا کیڈر مضبوط ہوگا، اسے زیادہ فائدہ ملے گا

الیکشن کمیشن کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت، بی ایل اوز کی میٹنگیں، فلاحی اسکیموں کی آمد اور سیاسی  لیڈروں کے متحرک دوروں سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ ریاست میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ قانونی اور آئینی طور پر اترپردیش کے اگلے اسمبلی انتخابات ۲۰۲۷ء کے آغاز میں متوقع ہیں، لیکن جس پیمانے پر سیاسی فریقین صف بندی کر رہے ہیں، وہ قبل از وقت (یا کم از کم اپنے متعینہ وقت سے کچھ ماہ قبل) انتخابات کے امکانات کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔اگر انتخابات وقت سے پہلے ہوتے ہیں تو اس کے سیاسی اثرات اور فریقین کیلئے فائدے کا تناسب کچھ اس طرح ہو سکتا ہے:

حکمران جماعت کو فائدہ: اگر ریاست میں سیاسی پولرائزیشن اپنے عروج پر ہو اور فلاحی اسکیموں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کی جا رہی ہو، تو جلدی انتخابات کرانے سے حکمران پارٹی کو مخالفین کی تیاریوں کو سست کرنے اور اپنے سیاسی بیانیے پر الیکشن لڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔

اپوزیشن کیلئے موقع: اپوزیشن اپنے مضبوط بیانیے اور زمینی سرگرمیوں کے سبب خود کو متحرک دکھا رہی ہے۔ اگر الیکشن جلدی ہوتے ہیں اور اپوزیشن مخالفِ حکومت جذبات کو کیش کرانے میں کامیاب رہتی ہے، تو انڈیا الائنس یعنی سماجوادی اور کانگریس کو نچلی سطح پر بننے والے سیاسی ماحول کا فوری فائدہ مل سکتا ہے۔

بی ایس پی کی جدوجہد: بی ایس پی کی خاموش یا آزادانہ سرگرمیوں کا فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اپنے بنیادی ووٹ بینک کو کس حد تک برقرار رکھ پاتی ہے، تاہم روایتی دو قطبی  (بی جے پی بمقابلہ ایس پی) مقابلے میں اسے اپنی جگہ بنانے کیلئے سخت چیلنج کا سامنا رہے گا۔

خلاصہ یہ کہ قبل از وقت انتخابات کا حتمی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کون سی پارٹی زمینی سطح پر اپنے کیڈر کو فوراً متحرک کرتی ہے اور ووٹروں کے حقیقی مسائل (معیشت، روزگار اور سماجی ہم آہنگی) کو مؤثر انداز میں سامنے لاتی ہے،اس کے باوجود یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بی جے پی  کا خوف بتا رہا ہے کہ اس کیلئے حالات ٹھیک نہیں ۔

طارق اعجاز اعظمی ریسرچ اسکالر اینڈ ڈائریکٹر اعجاز اعظمی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ

سیاست کے آسمان پر بادل گہرے ہیں، سوال یہ ہے کہ بارش کب ہو گی ؟

سیاست میں اچانک آئی تبدیلی اور تیزی نے ایک سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا انتخابی موسم مقررہ وقت سے پہلے دستک دے رہا ہے؟ حالیہ سیاسی سرگرمیوں میں اس طرح کا اضافہ انتخابات کی تیاری کی اہم علامت ہو سکتا ہے۔ انتخابات قریب آنے پر سیاسی جماعتیں عوام سے اپنا رابطہ مضبوط کرتی ہیں۔ لیڈران مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہیں، عوامی مسائل سنتے ہیں اور اپنی جماعت کے منشور اور پالیسیوں کو عوام تک پہنچاتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت بھی اپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔ اسکیموں، سڑکوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا جاتا ہے۔ رائے دہندگان کیلئے رشوت کے طور پر کچھ نئی اسکیموں کابھی اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کو حکومت کی کارکردگی سے آگاہ کرنا اور ان کا اعتماد حاصل کرنا اور دوبارہ ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ایسے میں اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کی پالیسیوں اور اس کی سازشوں پر تنقید کرتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔

تاہم، صرف سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسمبلی انتخابات وقت سے پہلے ہونے والے ہیں۔ سیاسی جماعتیں عام حالات میں بھی وقتاً فوقتاً خصوصی رابطہ مہم چلاتی رہتی ہیں۔ انتخابات کی تاریخ اور وقت کا حتمی فیصلہ متعلقہ انتخابی ادارے کی سفارش اور حکومت کے سرکاری اعلان کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔

ایک مضبوط جمہوریت کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں صرف وعدے نہ کریں بلکہ روزگار، مہنگائی، صحت، تعلیم، نوجوانوں کے مستقبل اور خواتین کی حفاظت جیسے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ صرف نعروں اور افواہوں کے بجائے امیدواروں کی کارکردگی اور کردار کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتنی جلدی سیاسی سرگرمیوں کا بڑھنا ممکنہ طور پر انتخابات کی تیاری کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اسے یقینی طور پر قبل از وقت انتخابات کی علامت قرار دینا مناسب نہیں۔ حتمی صورتِ حال سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔سیاسی بساط پر مہرے بڑی تیزی سے حرکت کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بازی کس کے حق میں پلٹتی ہے؟

شیخ نسرین عارف( لیکچرار، رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ، بھیونڈی)

سیاسی سرگرمیوں کو قبل از وقت اسمبلی انتخابات کی تیاری قرار دینا شاید درست نہیں

اترپردیش میں گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی ضرور دکھائی دے رہی ہے، لیکن ان سرگرمیوں کو فوراً قبل از وقت اسمبلی انتخابات کی تیاری قرار دینا شاید درست نہیں ہوگا۔ زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں۲۰۲۷ءکے اسمبلی انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے ابھی سے اپنی سیاسی اور تنظیمی صف بندی میں مصروف ہیں۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا اترپردیش کا دورہ اور بی ایل اوز کے ساتھ میٹنگ بھی اسی انتخابی تیاری کے تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ صرف اس بنیاد پر یہ نتیجہ نکالنا کہ ریاست میں فوری طور پر اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، مناسب نہیں ہوگا۔

اترپردیش اسمبلی کی موجودہ مدت مارچ۲۰۲۷ء تک ہے لہٰذا اسمبلی کو مقررہ مدت سے تقریباً ۶؍ ماہ پہلے تحلیل کرکے انتخابات کرانے کیلئے فی الحال کوئی واضح سیاسی یا آئینی ضرورت نظر نہیں آتی البتہ سیاست میں حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں، اسلئے مستقبل کے امکانات کو مکمل طور پر خارج بھی نہیں کیا جا سکتا۔

۵۰؍ ہزار کی خواتین اسکیم اور سیاسی حکمتِ عملی

خواتین کو ۵۰؍ ہزاردینے سے متعلق جو خبریں گردش کر رہی ہیں، ان کے بارے میں سرکاری تصدیق کے بغیر کوئی حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اگر یوگی حکومت مستقبل میں ایسی کوئی اسکیم نافذ کرتی ہے تو اسے انتخابات سے پہلے خواتین ووٹروں تک رسائی بڑھانے اور فلاحی سیاست کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔آج کی انتخابی سیاست میں خواتین ووٹر ایک اہم سیاسی طاقت بن چکی ہیں۔ اسلئے خواتین کیلئے براہِ راست مالی یا فلاحی اسکیمیں محض سماجی بہبود تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سہارنپور میں مسجد سے متعلق تنازع اور ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی نوعیت کے دیگر معاملات نے سیاسی ماحول کو حساس ضرور بنایا ہے۔ ایسے واقعات انتخابی سیاست میں پولرائزیشن کا سبب بن سکتے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں سیاسی جماعتیں ان معاملات کو کس طرح اپنے انتخابی بیانیے کا حصہ بناتی ہیں اور عوام ان مسائل کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں۔

دوسری طرف سماجوادی پارٹی، بی ایس پی اور کانگریس بھی خاموش نہیں ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے، کارکنوں کو متحرک کرنے اور عوام کے درمیان اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔راہل گاندھی کا رائے بریلی کا دورہ بھی اسی وسیع تر سیاسی سرگرمی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔

انصاری اخلاق احمد محمد اسماعیل(سینئر ٹیچر،کھیر نگر میونسپل کارپوریشن سیکنڈری،باندرہ)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK