• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت کئی پیشوں کی نوعیت بدل رہی ہے، انجینئر بیروزگار ہیں اور تعلیم یافتہ خانسامےکما رہےہیں

Updated: October 27, 2026, 4:32 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

بیسویں صدی کے نامور مستقبل شناس مصنف’ ا لوِن ٹافلر‘ کی مشہور کتاب’ فیوچر شاک‘ کا جائزہ،جس میں دنیا کو احساس دلایا گیا ہے کہ تبدیلی صرف ترقی کا دوسرا نام نہیں ہے بلکہ اگر اس کی رفتار حد سے بڑھ جائے تو وہ انسان کیلئے ذہنی اور سماجی بحران بھی پیدا کر سکتی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

دنیا میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد کی ترجمانی نہیں کرتیں بلکہ آنے والے زمانوں کی چاپ بھی سن لیتی ہیں۔ ان کی نگاہ حال کے افق سے بہت آگے مستقبل کی دھند میں پوشیدہ امکانات کو دیکھ لیتی ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ایک دانشور نے بدلتی ہوئی دنیا کے خد و خال  بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیے جن کا نام تھا ا لوِن ٹافلر۔ انہوں نے انسان کو یہ باور کرایا کہ مستقبل کسی دور افتادہ منزل کا نام نہیں بلکہ وہ خاموشی سے ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے استقبال کیلئے کس قدر تیار ہیں؟

۱۹۷۰ء میں شائع ہونے والی کتاب ’فیوچر شاک‘ یعنی مستقبل کا جھٹکا نے الوِن ٹافلر کو راتوں رات عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ الوِن ٹافلر کو عام طور پر فیوچرسٹ یعنی مستقبل شناس کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ نجومی نہ تھے بلکہ موجودہ سماجی، معاشی، سائنسی اور سیاسی رجحانات کا باریک بینی سے مطالعہ کرکے ان کے منطقی نتائج اخذ کرتے تھے۔ ان میدانوں میں تبدیلیوں پر گہری تحقیق ان کا وطیرہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بیشتر پیش گوئیاں بعد کے عشروں میں حیرت انگیز حد تک درست ثابت ہوئیں جنہوں نے عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھئے:زندگی کوئی خواب یا اتفاق نہیں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا نتیجہ ہے

اس کتاب نے پہلی بار دنیا کو یہ احساس دلایا کہ تبدیلی صرف ترقی کا دوسرا نام نہیں بلکہ اگر اس کی رفتار حد سے بڑھ جائے تو وہ انسان کیلئے کیسے کیسے ذہنی اور سماجی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ تھوڑا سا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مستقبل بڑی  تیزی سے وارد ہوچکا ہے اور برق رفتاری سے اپنے آپ کو ظاہر کرتا جا رہا ہے۔ اس تیزرفتاری کو یوں سمجھیں کہ زمین پر انسان کے وجود کے۵۰؍ ہزاربرسوں کو اگر اوسط عمر ۶۲؍ سے تقسیم کریں تو نوع انسانی نے ایسی ۸۰۰؍ زندگیوں کو ترتیب سے نسل در نسل جیا ہے۔ لیکن ماضی میں ترقی اتنی سُست رہی کہ ان ۸۰۰؍  میں سے  ۶۵۰؍ زندگیاں  انسان نے غاروں میں گزار دیں۔ جوترقی ہم دیکھتے ہیں وہ باقی ڈیڑھ سو زندگیوں کا نتیجہ ہے۔ تبدیلی تو ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس کی رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ جو تغیر پہلے کئی صدیوں میں نظر آتا تھا وہ صرف پچھلی چند دہائیوں میں واقع ہوا۔ اور اب تو چند برسوں یا چند ماہ میں ہو رہا ہے۔

انسان کی نفسیاتی ساخت بتدریج تبدیلیوں کو تو قبول کرلیتی ہے لیکن جب تبدیلیاں برق رفتاری سے وقوع پذیر ہوں تو فرد اور معاشرہ دونوں عدم توازن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی، نئے پیشے، نئے سماجی رویے، نئی اقدار اور بدلتے ہوئے خاندانی ڈھانچے انسان کو اس کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں جسے ٹافلر نےفیوچر شاک کا نام دیا۔

۱۸۵۰ء تک دنیا میں صرف چار شہروں کی آبادی ایک ملین سے زیادہ تھی۔ ۱۹۰۰ء تک یہ تعداد صرف۱۹؍ شہروں ہی تک پہنچ سکی لیکن ۱۹۶۰ء تک ایسے میٹروپولیٹنوں کی تعداد ۱۴۱؍ تک جا پہنچی۔ لوگ شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ زراعت جو کبھی تقریباً ہر انسان کا ذریعہ معاش تھا، اب صرف ایک قلیل آبادی کا پیشہ ہے۔ امید ہے کہ  ہمارے قارئین ان مثالوں سے’اضافی رفتار‘کا تصور سمجھیں گے۔ ہر شعبے میں رفتارِ تغیر کی رفتار بھی مسلسل اضافہ پذیر ہے! یہ لوگوں کیلئے ایک ذہنی تشنج کا باعث بن رہی ہے۔ یہی فیوچرشاک ہے۔

اشیاء کے ساتھ انسان کے تعلق کی میعاد کم ہورہی ہے لہٰذا اب استعمال کی چیزوں سے پائیداری کی توقع کم ہی کی جاتی ہے۔ ڈسپوزیبل چیزیں اورعارضی ڈھانچے مقبول ہیں۔ اب فرنیچر ہوں یا عمارتیں ماڈیولر فیشن کا نمونہ ہیں۔ اپنے ذاتی گھر کی جگہ کرائے کے لیکن ماڈرن اور عالیشان مکان میں رہنے میں لوگ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ آج ایک موبائل فون چند برسوں میں پرانا ہوجاتا ہے۔مصنوعی ذہانت کئی پیشوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔ انجینئر بیروزگار ہیں، تعلیم یافتہ خانسامے خوب کما رہے ہیں۔ کتنے پیشے اب بالکل کالعدم ہیں۔ کتنے نئے پیشے جن کی خوب مانگ ہے، ککرمتوں کی طرح نمودار ہو رہے ہیں۔ نوجوان نسل ہر چند برس بعد بالکل مختلف مہارتیں سیکھنے پر مجبور ہے۔ کبھی نوجوانی میں اختیار کردہ  پیشہ عمر بھر کیلئے ہوا کرتا تھا۔ آج کوئی گارنٹی نہیں کہ آپ جو کام کر رہے ہوں وہ پانچ چھ برسوں بعد بھی روزی  پیدا کرسکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: آج نیتن یاہو‘ کی قسمت کا فیصلہ

انسانی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ ذرا غور کیجئے۔ شادی عموماً، ایک زندگی بھر کا رشتہ ہوا کرتا ہے۔ کم از کم ایسا خیال کیا جاتا ہے، لیکن  دیکھتے دیکھتے لیونگ اِن  جیسے عارضی تعلق کا تصور آیا۔ ظاہر ہے کہ سماج کا ڈھانچہ اور اخلاقی نظام متاثرہوا۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے ٹافلر نے نصف صدی پہلے محسوس کر لیا تھا۔

اکثرلوگ تبدیلیوں سے سراسیمہ ہوجاتے ہیں، بوکھلا جاتے ہیں۔ یہ کتاب لوگوں کی اور معاشروں کی اسی کیفیت کے ارد گرد اپنا مقدمہ ترتیب دیتی ہے۔ ہم مستقبل کے مطابق اپنے کو کس طرح ڈھال پاتے ہیں یا ڈھالنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، بس یہی اس کتاب میں بیان ہے۔ ٹافلر کہتےہیں کہ ’’معاشرہ تبدیل نہیں ہو رہا بلکہ ایک بالکل نیا معاشرہ تشکیل پا رہا ہے۔ یہ ہمارے موجودہ سماج کی ترقی یافتہ شکل نہیں بلکہ ایک بالکل ہی نئی طرز کی سوسائٹی ہے۔‘‘ یہ بات ہضم کرنا مشکل ضرور ہے لیکن اگر ہم اسے نہ سمجھیں تو مستقبل سے ہم آہنگ ہونے کی اپنی صلاحیت گنوا دیں گے۔ ایک زبرست انقلاب کا سامنا کرنے کیلئے ہمیں ایک گہرے تخیل کی ضرورت ہے۔ انقلاب خط مستقیم پر نہیں چلتا۔ وہ جھٹکے دیتا ہے۔ خمدار راستوں پر چلتے ہوئے اچانک بہت بڑی، دنگ کردینے والی تبدیلی برپا کردیتا ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد ہی ہم مستقبل سے نبرد آزما ہونے کے طور طریقے وضع کر پائیں گے۔

ٹافلر نے لکھا  تھا کہ مستقبل میں سب سے بڑی مشکل معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کی زیادتی ہوگی۔ انسان کے سامنے اتنی خبریں، اتنے خیالات، اتنے فیصلے اور اتنے امکانات ہوں گے کہ وہ  ذہنی انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ آج ’انفارمیشن اوورلوڈ‘ دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات اور ابلاغیات کے نزدیک ایک تسلیم شدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ روزانہ ہزاروں اطلاعات، ویڈیوز، پیغامات اور خبروں کی یلغار انسان کی توجہ، یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ ٹافلر نے اِس زمانے کی تصویر دہائیوں پہلے کھینچ دی تھی۔

پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور روشن خیال لوگوں سمیت انسانوں کی بڑی اکثریت کو تبدیلی کے خیال سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ فیوچر شاک کا ایک اہم پیغام یہ تھا کہ تبدیلی سے گھبرانے کے بجائے اس کیلئے خود کو تیار کیا جائے۔ ٹافلر کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کو مسلسل سیکھنے کی صلاحیت عطا کرنا ہے۔ اکیسویں صدی کا جاہل وہ نہیں ہے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا، بلکہ وہ ہے جو سیکھنے،  سیکھے ہوئے علم کو بھولنے اور نئے سرے سے سیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگا۔ آئندہ دنیا میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو نئی مہارتیں سیکھنے، پرانی عادتوں کو ترک کرنے اور مسلسل خود کو بدلنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ جو لوگ ماضی سے چمٹے رہیں گے، وقت کا دھارا انہیں پیچھے چھوڑ دے گا۔

ٹافلر کی تحریروں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں نہ تو خشک علمی اصطلاحات کا بوجھ ہے اور نہ ہی محض صحافتی سنسنی خیزی۔ ان کے ہاں تحقیق کی مضبوطی، صحافت کی روانی اور فلسفے کی گہرائی ایک دوسرے سے اس طرح ہم آہنگ ہو جاتی ہیں کہ قاری پیچیدہ ترین موضوعات بھی آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابیں صرف جامعات کے نصاب تک محدود نہیں رہیں بلکہ عام قارئین میں بھی بے حد مقبول ہوئیں۔فیوچرشاک نے حکومتوں، جامعات، بڑی کمپنیوں اور عسکری اداروں کو بھی اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی پر مجبور کیا۔ پہلی بار یہ احساس  پیدا ہوا کہ مستقبل کی منصوبہ بندی صرف اقتصادی اعداد و شمار سے نہیں ہوگی بلکہ انسانی نفسیات، سماجی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی رفتار کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ یہ کتاب دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہوئی، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں قارئین تک پہنچی، اور اس نے الوِن ٹافلر کو بیسویں صدی کے ممتاز مفکرین کی صف میں لا کھڑا کیا۔

آج جب مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بگ ڈیٹا، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل معیشت، آن لائن تعلیم اور ریموٹ ورک ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، تو الوِن ٹافلر کی تحریریں حیرت انگیز طور پر تازہ محسوس ہوتی ہیں۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے کوئی مصنف نصف صدی پہلے نہیں بلکہ آج کے زمانے میں بیٹھ کر ہمارے حالات کا تجزیہ کر رہا ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK