کچھ دنوں قبل مدھیہ پردیش کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری سنجے دوبے نے شہری ترقیات کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں بدعنوانیوں کے بہت سارے واقعات گنائے تھے۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 12:43 PM IST | Agency | Bhopal
کچھ دنوں قبل مدھیہ پردیش کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری سنجے دوبے نے شہری ترقیات کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں بدعنوانیوں کے بہت سارے واقعات گنائے تھے۔
ابھی حال ہی میں مدھیہ پردیش سے محکمہ شہری انتظامیہ کی ایک میٹنگ کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ اس ویڈیو میں محکمہ کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری سنجے دوبے نے خود شہری اداروں میں پھیلی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا تھا اور حیرت انگیز طور پر بہت ساری خامیاں گنانے کے بعد انہیں ’معاف‘ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سال تو ہم جانے دے رہے ہیں، لیکن اگلی بار سب کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسی حوالے سے پیر کوریاستی کانگریس نےایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ ویڈیو میں مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری کہہ رہے ہیں کہ ’’مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کی بدعنوانی دیکھئے... ایک لاکھ روپے کی ایک بالٹی،۳۶؍ ہزار روپے کی ایک لیٹر فنائل کی بوتل،۱۱؍ ہزار روپے کا ایک بلب۔ بی جےپی نے یہاں بدعنوانی اور لوٹ مار کی دہشت مچا رکھی ہے۔‘‘ ویڈیو میں وہ مدھیہ پردیش کی موہن یادو حکومت پر بدعنوانی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ٹی وی چینل کاویڈیو بھی شیئر کیا ہے، جس میں مدھیہ پردیش حکومت کی بدعنوانی کے کئی اہم انکشافات کئے گئے ہیں۔ ویڈیو میں اینکر بتاتا ہے کہ اے سی ایس سنجے دوبے کا کہنا ہے کہ جو کچرے کی گاڑی ایک میونسپل باڈی۲؍ لاکھ روپے میں لیتا ہے، وہی کچرے کی گاڑی دوسرا میونسپل باڈی ۶؍ لاکھ روپے میں خرید رہا ہے، یعنی صرف ایک معاملے میں صاف صاف۴؍ لاکھ روپے کی بدعنوانی کر دی گئی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک میونسپل کارپوریشن میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی کچرا گاڑی خریدی گئی ہے، حالانکہ اس کارپوریشن میں اتنے وارڈ ہی نہیں ہیں کہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی کچرا گاڑیوں کی ضرورت پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: لندن: آکسفورڈ اسٹریٹ ٹریفک کیلئے بند، صرف راہگیروں کیلئے کھلی رہے گی
ٹی وی اینکر نے اے سی ایس سنجے دوبے کو یہ جانکاریاں سامنے لانے کیلئے سلام پیش کیا، اور اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ صرف کچرا گاڑی ہی میں بدعنوانی نہیں ہوئی بلکہ ایسا ہی معاملہ کچھ دیگر چیزوں کی خریداریوں میں بھی پیش آیا ہے۔ مثلاً۶۰؍ واٹ کے ۲۰۰؍ ایل ای ڈی بلب۶۰؍ لاکھ روپے میں خریدے گئے، یعنی ایک بلب کی قیمت ۳۰؍ ہزار روپے ادا کی گئی۔ حالانکہ یہ بلب عام دکانوں میں ایک دو بلب خریدنے پر ۱۰۰؍ سے۱۵۰؍ روپے میں مل جاتے ہیں۔ اگرانہیں عام دکانوں سے زیادہ بلب خریدے جائیں تو اس کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے۔ فنائل کی خریداری میں بھی کچھ یہی انداز دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک میونسپل باڈی نے ایک لیٹر فنائل۵؍ روپے میں خریدا ہے جبکہ دوسرے میونسپل باڈی نےایک لیٹر فنائل کیلئے۳۳؍ ہزار سے زائد کی رقم ادا کی ہے۔ ایسے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس پیمانے کی بدعنوانی چل رہی ہے۔
خیال رہے کہ میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے اے سی ایس سنجے دوبے کا بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنےوالا مذکورہ ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب گردش کررہا ہے۔میٹنگ میں افسران سے دوران خطاب سنجے دوبے کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’آپ کو لگتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ کیا خرید رہے ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے کہ آپ کیا خرید رہے ہیں اور کس قیمت پر خرید رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہرشخص کے خلاف کارروائی کریں، لیکن ہم نے امسال سے کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کی آمدنی کیا ہے؟لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ آپ اسے کہاں خرچ کر رہے ہیں؟ کانگریس نے ریاستی حکومت کو اس بات کیلئے بھی نشانہ بنایا کہ بدعنوانیاں سامنے ہیں، اس کے باوجود انہیں معاف کرنے کی بات کیوں کہی جارہی ہے۔ اتنے سنگین جرائم کیلئے محض انتباہ کا کیا مطلب ہے؟
دلچسپ ہے کہ جب یہ بات آگے بڑھی اور کانگریس نے اسے موضوع بنالیا تو اُن افسران کو جنہیں گزشتہ بدعنوانیوں کیلئے ’معاف‘ کرنے کی بات ہورہی تھی، شکنجہ کسنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مختلف سطح کے ۳۹۲؍ میونسپل افسران کے خلاف کارروائی کی باتیں کی جارہی ہیں جن میں سے ۱۳۵؍چیف میونسپل (سی ایم او) کی سطح کے افسران ہیں۔