کئی دہائیاں قبل، جب میں ایک اخبار میں صحافتی زندگی کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہا تھا، آنجہانی صحافی موہن رام نے سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کا ایک واقعہ سنایا تھا۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 4:41 PM IST | Ajaz Ashraf | Mumbai
کئی دہائیاں قبل، جب میں ایک اخبار میں صحافتی زندگی کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہا تھا، آنجہانی صحافی موہن رام نے سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کا ایک واقعہ سنایا تھا۔
کئی دہائیاں قبل، جب میں ایک اخبار میں صحافتی زندگی کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہا تھا، آنجہانی صحافی موہن رام نے سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کا ایک واقعہ سنایا تھا۔ راؤ نے بیورو کریٹس کی اس بات پر سرزنش کی تھی کہ وہ Nonaligned کو Non-alignedکیوں لکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب کسی لفظ کے شروع میں non لگا دیا جائے تو اس میں منفی مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔‘‘
موہن رام کی یہ بات میرے لیے ایک طرح کی چشم کشائی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ سبزی خور لوگ زبان اور اصطلاحات کے استعمال کو اس طرح برتتے رہے ہیں کہ ان کھانوں کیلئے اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی جا سکے جو صرف نباتاتی اشیاء یا دودھ سے تیار نہ ہوں۔ ہندوستانی معاشرے نے بھی رفتہ رفتہ اس احساس کو اپنے اندر جذب کر لیا اور مٹن، مرغی اور مچھلی کو ایک ہی زمرے، یعنی ’نان ویجیٹیرین‘ (گوشت خور) میں شامل کر دیا۔
مغربی بنگال اس معاملے میں ایک استثنا ہے۔ وہاں کے لوگ اور مشرقی ہندوستان کے بعض دوسرے علاقوں کے لوگ بھی، مٹن، مرغی اور مچھلی سے تیار ہونے والے کھانوں کیلئے ’آمیش‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ’نیرامیش‘ سے مراد ایسے کھانے ہیں جن میں گوشت یا مچھلی شامل نہ ہو۔ یہ بات قابل فہم ہے۔ آخر بنگالی اُس کھانے کو منفی نظر سے کیوں دیکھیں جس کے وہ بے حد شوقین ہیں؟ بنگالیوں کی اس پسند کی تصدیق نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار سے بھی ہوتی ہے۔ ۲۰۱۹ءسے ۲۰۲۱ءکے درمیان کیے گئے اس سروے کے مطابق ۱۵؍سے ۴۹؍سال کی عمر کے تقریباً ۹۰؍فیصد افراد ’مچھلی، مرغی یا گوشت‘ کھاتے ہیں۔ انڈہ بھی ’آمیش‘ میں شمار ہوتا ہے، تاہم سروے میں اسے الگ زمرے میں رکھا گیا اور اس کے مطابق تقریباً ۸۵؍ فیصدآبادی انڈے استعمال کرتی ہے۔
۲۰۱۴ءمیں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سبزی خور بنیاد پرستوں کی عدم برداشت میں مزید شدت آئی ہے۔ انہوں نے ریاستی طاقت اور تشدد کے خطرے کا سہارا لے کر ہندو تہواروں کے موقع پر گوشت اور مچھلی فروخت کرنے والی دکانیں بند کرانے کی کوشش کی ہے، یا اس بنیاد پر کارروائی کی ہے کہ ان کے پاس مطلوبہ لائسنس موجود نہیں۔ غیر سبزی خور کھانے فراہم کرنے والے ریستورانوں کو صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے نام پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ان کے سبزی خور ہم منصب شاذونادر ہی اسی پیمانے کی سخت انتظامی جانچ پڑتال کا سامنا کرتے ہیں۔ سبزی خور بنیاد پرستی کے عروج کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کا تعلق گجرات سے ہے، جہاں ویشنو مت کو تاریخی طور پر خاص غلبہ حاصل رہا ہے اور جس میں سبزی خوری کی سخت پابندی کی جاتی ہے۔مہاتما گاندھی نےاپنی خودنوشت’’سچائی کے ساتھ میرے تجربات کی کہانی‘‘ میں گجرات کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’گجرات میں جینوں اور ویشنوؤں کے درمیان گوشت خوری کی مخالفت اور اس سے نفرت جس شدت سے پائی جاتی تھی، ویسی شدت ہندوستان یا اس سے باہر کہیں اور نظر نہیں آتی تھی۔ یہی وہ روایات تھیں جن میں میری پیدائش اور پرورش ہوئی۔‘‘
یہ بات واضح ہے کہ اپنی مرضی منوانے کی خاطر سخت رویے کیلئے معروف مودی اور شاہ کو سبزی خوری مسلط کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ گاندھی کا رویہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ اسکول کے زمانے میں ایک دوست کے اثر میں آ کر سبزی خوری سے منحرف ہوئے اور’گوشت کے پکوانوں کے لذت شناس‘ بن گئے، اگرچہ شاید خود گوشت کے شوقین نہیں ہوئے تھے، لیکن ویشنو خاندان میں پرورش پانے کے باعث احساس جرم انہیں اندر ہی اندر کھاتا رہا۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ سبزی خوری اختیار کر لی اور انگلستان میں بھی اس پر قائم رہے، کیونکہ انہوں نے اپنی والدہ سے ایسا کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن گاندھی سبزی خوری میں بنیاد پرست نہیں تھے۔
۱۸؍ مئی ۱۹۲۱ء کو ینگ انڈیامیں گاندھی نے ہندوؤں سے کہا کہ وہ مسلمانوں کو گوشت، حتیٰ کہ گائے کا گوشت کھانے سے بھی باز رہنے پر مجبور نہ کریں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ’’سبزی خور ہندو دوسرے ہندوؤں کو مچھلی، گوشت یا مرغی کھانے سے پرہیز پر مجبور نہیں کر سکتے۔ میں تلوار کے زور پر ہندوستان کو ’مہذب‘ نہیں بنانا چاہوں گا۔‘‘اس کے برعکس آج سبزی خور بنیاد پرستوں کی سرگرمیوں کی شناخت ہی تشدد سے ہوتی ہے۔سبزی خوری اور اہنسا کی حدود سے پوری طرح واقف گاندھی نے یکم نومبر ۱۹۲۸ءکو ینگ انڈیامیں لکھا کہ’’سبزیاں کھانا بھی ہنسایعنی تشدد کا سبب بنتی ہیں، لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ میں انہیں ترک نہیں کر سکتا۔‘‘ زندگی سے تشدد کو مکمل طور پر ختم کر دینے کا ناممکن خیال ہی شاید ہان کانگ کے ناول ’’دی ویجیٹیرین‘‘ کی مرکزی کردار نہیں سمجھ پاتی۔ جانوروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کا ایک خواب اسے گوشت سے مکمل طور پر دست بردار ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔
ہریانہ کی ۹۰؍ فیصد آبادی سبزی خور ہے، لیکن نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق ۲۰۲۱ءمیں وہاں پرتشدد جرائم کی شرح ۴۳ء۳؍تھی جبکہ تمام ریاستوں کی اوسط شرح ۳۰؍ تھی۔ اس کے برعکس لکش دیپ کی۹۸؍فیصد آبادی غیر سبزی خور ہے، لیکن وہاں جرائم کی شرح صرف ۷ء۴؍ ہے۔مغربی بنگال میں یہ شرح خاصی بلند، یعنی ۴۸ء۷؍ہے جبکہ گجرات میں صرف ۱۱ء۹؍ ہے۔ گجرات میں سبزی خوری کا وسیع پیمانے پر رواج ان لوگوں کیلئے بے رحمانہ اذیت کا باعث بنتا ہے جو گوشت اور انڈے پسند کرتے ہیں۔ اس صورت حال کی ایک نہایت مؤثر عکاسی ہنسدا سوویندر شیکھر کی مختصر کہانی ’’They Eat Meat!‘‘ میں ملتی ہے۔ یہ کہانی ۲۰۱۵ء میں شائع مجموعے The Adivasi Will Not Danceکا حصہ ہے۔
کہانی میں ایک سنتھال سرکاری افسر کا تبادلہ بھونیشور سے بڑودہ ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی سنتھال بیوی اور اپنے دو بیٹوں میں سے ایک بیٹے کے ساتھ وہاں منتقل ہو جاتا ہے۔ایک تیلگو میاں بیوی اپنے گھر کا ایک حصہ سنتھال خاندان کو کرائے پر دیتے ہیں، لیکن شرط یہ ہوتی ہے کہ وہ کوئی غیر سبزی خور کھانا نہیں پکائیں گے، حتیٰ کہ انڈے بھی نہیں۔سنتھال افسر کی بیوی ایک شوقین کھانے والی ہے اور گوشت کے پکوانوں سے اس کی محبت پر قابو پانا آسان نہیں۔ نیم فوجی دستے کے کیمپس میں رہنے والے ایک کزن سے ملنے کے موقع پر وہ کبھی کبھار گوشت کھا لیتی ہے۔
دوسری طرف شہر کی صفائی ستھرائی اسے اس قدر متاثر کرتی ہے کہ وہ سوچنے لگتی ہے کہ شاید گوشت اور مچھلی کی عدم دستیابی یہاں رہنے کی ایک معمولی سی قیمت ہے۔ بڑودہ کی صفائی کا بار بار حوالہ دراصل اس نظم و ضبط کی طرف اشارہ ہے جس نے وہاں سبزی خور ثقافت کو بھی مسلط کر رکھا ہے۔ رفتہ رفتہ یہی ثقافت اس عورت کی شناخت کو بدلنے لگتی ہے۔ کہانی کا راوی اس صورتحال پر افسوس کرتے ہوئے کہتا ہے’’ادیشہ میں وہ ایک سنتھال، ایک اوڑیہ، ایک بنگالی ہو سکتی تھی۔ گجرات میں اسے صرف گجراتی ہونا تھا۔‘‘
کہانی اپنے انجام تک فروری ۲۰۰۲ءمیں پہنچتی ہے۔ سنتھال کرایہ دار اورتیلگو مالک مکان کی بیویاں، انڈوں سے اپنی مشترکہ محبت کے باعث ایک دوسرے کے قریب آ جاتی ہیں۔ جب ایک مشتعل ہجوم محلے میں موجود واحد مسلمان گھر کو آگ لگانے کیلئے پہنچتا ہے تو دونوں عورتیں اس کے خلاف مزاحمت شروع کر دیتی ہیں۔ ان کے ہتھیار کیا ہوتے ہیں؟ باورچی خانے کے اوزار اور برتن۔ ایسے برتن جن میں کبھی مٹن یا مچھلی نہیں پکائی گئی تھی۔ فسادات کے دو برس بعد سنتھال خاندان رانچی واپس چلا جاتا ہے۔ وہاں بیوی اکثر’سلور کارپ مچھلی کو مصالحے میں میرینیٹ‘ کرتے ہوئے کہا کرتی ہے کہ’’یہاں کسی کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں اور ہمیں بھی اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ دوسرے کیا کھاتے ہیں۔‘‘
شیکھر کی یہ کہانی بنگال کیلئے ایک سبق ہونی چاہیے۔ اگر سبزی خور بنیاد پرستوں کی جانب سے اپنی غذائی پسند مسلط کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو بنگال کے لوگ کہیں ایسا نہ ہو کہ، تھامس بیبنگٹن میکالے کے ایک بدنامِ زمانہ قول کو ذرا بدل کر کہیں تو، زبان کے اعتبار سے تو بنگالی رہیں، لیکن ذائقے اور کھانے کے بارے میں خیالات کے اعتبار سے گجراتی بن جائیں۔
(مضمون نگار سینئر صحافی اور کتاب اور بھیما کورے گائوں چیلنجنگ کاسٹ کتاب کے مصنف ہیں۔)