قرآن میں حضورؐ کی شانِ رسالت، شانِ شاہدیت،شانِ مبشریت اور شانِ نذیریت کا بیان

Updated: October 23, 2020, 9:55 AM IST | Dr Mohammed Tahirul Qadiri

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺکو ان چار اقسام کی شان کے ساتھ مبعوث کرنے کی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے دوسرا حکم یہ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال درجہ تعظیم کے ساتھ مدد ونصرت کرو

Madina Sharif - Pic : youtube
مدینہ شریف ۔ تصویر : یوٹیوب

’’بے شک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لئے اعمال و احوالِ امت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ (اے لوگو!) تم الله اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین)کی مدد کرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) الله کی صبح و شام تسبیح کرو۔‘‘ (الفتح:۸۔۹)
مذکورہ آیاتِ کریمہ میں سے پہلی آیت میں اللہ رب العزت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار شانیں بیان فرمائی ہیں:
    (۱)شانِ رسالت
(۲)    شانِ شاہدیت
(۳)    شانِ مبشریت
(۴)    شانِ نذیریت
ان چاروں اقسام کی شان میں اللہ رب العزت نے اس امر کا اظہار فرمایا ہے کہ اے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بےشک ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت تک اپنی اُمت کے جمیع اعمال اور احوال کا گواہی دینے والا بنایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کا مشاہدہ فرمائیں اور آپ کو اُن کے تمام اعمال واحوال کی خبر رہے جس کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن ان کے بارے میں گواہی دے سکیں۔ پھر امت میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول کرکے ایمان اور اطاعت کی راہ پر آجائیں گے، ایسے لوگوں کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشخبری سنانے والا بنایا اور جنہو ں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو رد کر دیا اور نافرمان ہوگئے، ایسے لوگوں کے لئے آپ کو آخرت کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنایا ہے۔
چار ’شانوں‘ کے اظہار کی وجہ
اگلی آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان چار شانوں کے ساتھ دنیا میں مبعوث فرمانے کی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے اللہ رب العزت نے اُمت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے چار احکام صادر فرمائے:
۱۔ لِتُؤْمِنُوْا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ: پہلا حکم یہ دیا کہ تمہارے پاس میرے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاہد، مبشر اور نذیر کی شان کے ساتھ مبعوث ہوکر اس لئے آئے ہیں تاکہ تم سب اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ۔
۲۔ وَتُعَزِّرُوْهُ: اللہ رب العزت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار شانوں کے ساتھ مبعوث کرنے کی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے دوسرا حکم یہ دیا کہ اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال درجہ تعظیم کے ساتھ مدد ونصرت کرو۔ یعنی جب دشمن اور مخالف اِن کی ذات اور دین اسلام پر طعن کریں، ان کی اور دین کی بے ادبی و گستاخی کریں تو تمہارے اندر اِن کا ادب، تعظیم اور تکریم اِس کمال درجے کی ہو کہ تم اِن کی عظمت، شان اور ناموس کے تحفظ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاؤ اور اس مدد و نصرت کے پہلو میں اِن کی محبت، تعظیم اور تکریم کا جذبہ کار فرما ہو۔
یہاں اس امر کی وضاحت کرتا چلوں کہ مدد کی دو اقسام ہیں:    عمومی مدد اور     خاص مدد۔
 عمومی مدد وہ ہے جو انسان ہر ایک کی کرتا ہے مثلاً: ہم صلہ رحمی یا محتاجی کی وجہ سے کسی مسکین، کمزور،  رشتہ داروں، یتیموں، پڑوسیوں،  دوستوں، بھائیوں اور ہر اس شخص کی مدد کرتے ہیں جس کا ہم پر حق ہے۔ یہ مدد محض مدد ہے یعنی کسی کو طاقت مہیا کرنے، کسی کو ظلم سے بچانے، کسی کا محض دفاع کرنے یا کسی کو اس کا حق دلانے کیلئے ہے۔ یہ مدد ایک Reinforcement ہے۔
 دوسری مدد خاص مدد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وَتُعَزِّرُوْهُ کے ذریعے جس خاص مدد کا حکم دیا جارہا ہے، اِس مدد سے مراد وہ عمومی، مجرد اور مطلق مدد نہیں جو ہم ہر کمزور و بے بس یا رشتہ داروں، حق داروں اور سوسائٹی کے دیگر لوگوں کی کرتے ہیں۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد سے مراد وہ مدد ہے جو کمال درجے کی تعظیم کے جذبے سے اُبھرے۔ یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے محبت، آپؐ  کا ادب و احترام اور اکرام و تعظیم ہمارے دل میں اِتنی زیادہ ہو کہ ہم، آپؐ کے خلاف اٹھایا جانے والا کوئی قدم برداشت نہ کر سکیں۔ کوئی شخص اگر ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو آپ ؐ اور آپؐ کے دین کی بے ادبی و گستاخی پر مبنی ہو اور آپ ؐ کے شایانِ شان اور آپ ؐ کے منصب کے مطابق نہیں ہے تو ہمارے اندر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت، تعظیم، تکریم کا جذبہ اِتنا زیادہ ہو کہ اُس جذبۂ محبت و تعظیم کی وجہ سے ہم میدان میں آجائیں اور نہ صرف آپؐکا دفاع کریں بلکہ آپؐ کے اعداء سے لڑائی بھی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و تعظیم میں اپنی جان بھی قربان کریں۔ اگر اِس محبت وتعظیم کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی، آپؐ کی دعوت کی اور آپؐ کے دین کی مدد ہو تو وَتُعَزِّرُوْهُ کے حکمِ خداوندی پر صحیح معنی میں عمل درآمد ہوتا ہے۔
گویا ایک مدد وہ ہے جس کا تصور اس لفظ کو سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں آتاہے، وہ مدد یہاں مقصود نہیں ہے۔ آقا علیہ السلام کی ذاتِ اقدس اِس مدد کے تصور سے بلند ہے۔ یہاں وہ مدد مراد ہے جس میں جذبۂ محبت وتعظیم کے نتیجے میں انسان اپنی جان بھی دے دیتا ہے۔
۳۔ وَتُوَقِّرُوْهُ : مذکورہ آیتِ کریمہ میں تیسرا حکم اللہ رب العزت نے یہ دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال درجہ بے حد تعظیم وتکریم بجا لاؤ۔ یہ حکم دو مرتبہ دیا۔ وَتُعَزِّرُوْهُ میں بھی مدد کے ساتھ تعظیم و تکریم کا پہلو تھا یعنی اس مدد کی اصل، بنیاد، سبب اور محرک ادب اور تعظیم ہی ہے۔ اب وَتُعَزِّرُوْهُ کے بعد وَتُوَقِّرُوْهُ فرماکر حد سے بڑھ کر توقیر و تعظیم اور اُن کی عظمت کے ڈنکے بجانے کا دوبارہ حکم دیا جارہا ہے کہ حد سے بڑھ کر یعنی مبالغے کی حد تک اُن کی تعظیم کرو۔
۴۔وَتُسَبِّحُوْہٗ:اس آیت میں چوتھا حکم اللہ رب العزت نے اپنی ذات کے متعلق دیا کہ صبح و شام اس ربِ کائنات کی تسبیح بجا لاؤ۔
اگر ان چار احکام کی درجہ بندی کریں تو ان میں اللہ نے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ ایک حکم اللہ نے اپنی ذات کے لئے خاص کیا ہے اور وہ حکم یہ ہے کہ صبح وشام میری نماز، میری تسبیح کرو، میرا ذکر کرو، میری عظمت بیان کرو۔ جبکہ اس آیت میں دو حکم اللہ نے صرف اپنے محبوب کے لئے خاص کئے جو آقا علیہ السلام کے حقو ق ہیں یعنی تُعَزِّرُوْهُ اور تُوَقِّرُوْهُ اور آیت مبارکہ میں مذکور چوتھا حکم اپنے اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مشترک کیا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ پس اِن آیات کی ترتیب پورے دین کے اندر احکام کی اہمیت کا عکس ہے ۔
عقل سے ماوریٰ شان کا اظہار
بہت سے لوگ بعض اوقات آقا علیہ السلام کی شان کے بیان کے حوالے سے پریشان ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ہماری عقل میں نہیں آتا۔ ان لوگوں کو یہی تو سمجھانا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے اظہار و بیان کو اتنا ہی تو بلند کرنے کا حکم ہے جو عقل میں نہ آسکے۔ یہی تو آقا علیہ السلام کی شان کی عظمت ہے۔اگر ہماری عقل میں آجائے تو اِس کا مطلب ہے کہ عقل کی حدوں کے اندر آگیا اور جو بلندی عقل کی حد کے اندر ہے وہ  وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ سے خارج ہے۔ انسان کی عقل جس کا احاطہ کرسکے، جس چیز کو سمجھ سکے تو وہ سمجھ ایک حد ہے۔ اگر ہم کسی چیز کو سمجھتے ہیں تو اس سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عقل اور فہم کو اتنی استعداد و صلاحیت ہے، تب ہی اُس کو سمجھ رہی ہے اور اُس بات کا احاطہ کر رہی ہے۔ جو چیز عقل میں آسکے اور عقل نے اس کا احاطہ کرلیا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی بلندی کے تصور پر عقل غالب آگئی۔ کوئی چیز ہماری عقل کی پرواز کے اندر رہی تو عقل سمجھ لے گی اور عقل جس کو نہ سمجھ سکے، وہی تو مقامِ مصطفیٰ ﷺ  ہے۔
ادب کی اہمیت اور درجات
افسوس! ہم آج ایک ایسے دور میں ہیں کہ جس دور میں روحانی قدریں ختم ہو گئی ہیں۔ روحانی قدروں کے ختم ہونے کی وجہ سے ہم بہت سی چیزوں کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا کلچر تبدیل ہو گیا اور جب کلچر تبدیل ہوتا ہے تو نفسیات اور ذہن کے سوچنے کے انداز بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کلچر تبدیل ہونے سے ہمارے تصور کلیئر نہیں ہوتے اور نہ ہمیں اُن کی اہمیت کا انداز ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس ہمیں ان تصورات پر تعجب ہوتا ہے۔ کفر اور الحاد پر مبنی کلچر نے ایمانی، روحانی، اخلاقی اور اعلیٰ قدروں کے تصور اور تصورات کو اختیار کرنے اور اُنہیں سمجھنے سے بھی ہمیں دور کر دیا ہے۔ آج اِس مادی کلچر کے سبب ادب اور تعظیم و تکریم کا پہلو ہماری زندگیوں سے نکل گیا ہے۔ اللہ کا ادب، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب، اللہ کے دین، قرآن، کعبۃ اللہ، روضہ رسول، مدینہ طیبہ، اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، اولیاء و صالحین، والدین، مشائخ، بزرگوں الغرض سارے آداب ہماری زندگی کے تصور سے نکل گئے ہیں۔ ہماری زندگی ادب سے خالی ہوگئی اور ہم ادب سے شنا سا نہیں رہے۔
یاد رکھیں! ادب کے چار درجے ہیں جن پر پورے دین کی عمارت قائم ہے:
٭    اللہ کا ادب
٭    اللہ کے رسول ؐ کا ادب
٭    اکابر کا ادب، اور
٭    پوری مخلوق کا ادب
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور رسولؐ کے ادب کی اہمیت کو بڑھانے کے لئے اُسے بھی اپنا ادب کرکے بیان کیا ہے ۔اکابر کے ادب سے مراد اہل بیت اطہار، صحابہ کرام، اولیاء و صالحین، ماں باپ، اساتذہ، مشائخ کا ادب ہے۔ پوری مخلوق کے ادب سے مراد اپنے جیسوں اور چھوٹوں کا ادب ہے۔گویا سارا دین ادب کے اِن چار درجوں پر قائم ہے، اگر زندگی سے ادب نکل جائے تو دین نہیں بچتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK