قرآن مجید بلند شان اورعظمت وشرف والی کتاب ہےجو لاریب کی مہر سےمزین وآراستہ ہے

Updated: March 26, 2021, 10:49 AM IST | Mufaizuddin Misbahi

ہر صدی اور ہر دور میں قرآن کا محافظ ونگہبان اللہ تعالیٰ کی ذات رہی ہے ۔

Quran Reading - Pic : INN
قرآن شریف ۔ تصویر : آئی این این

ہر صدی اور ہر دور میں قرآن کا محافظ ونگہبان اللہ تعالیٰ کی ذات  رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی گردش دوراں ، گردش لیل ونہار اور زمانے کے تغیرات اس کے ایک حرف، زبر، زیر، مد، پیش،یہاں تک کہ اس کے ایک نقطہ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت و صیانت اور محافظت کا وعدہ قرآن مجید میں اس انداز میں بیان فرمایا ہے:
 ’’بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک 
ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔‘‘ (سورةالحجر:۹)
  اس آیت کی تفسیر میں تمام مفسرین نے فرمایا: اے حبیب ﷺ بے شک ہم نے آپؐ پر قرآن نازل کیا ہے اور ہم خود اس کی حفاظت فرماتے ہیں تحریف و تبدیلی، زیادتی اور کمی سے۔ 
 اس قدر واضح روشن اور صریح انداز میں خدائی وعدہ ہونے کے بعد بھی کسی شخص کا یہ کہنا کہ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے اپنی طاقت بڑھانے کے لئے قرآن مجید میں چھبیس آیات کا اضافہ کیا، جہالت ِفاحشہ   اور اسلام دشمنی کی حد انتہا ہے۔ اسلام دشمن عناصر اور مسلم دشمن تنظیموں کے آلۂ کار بدنام زمانہ وسیم رضوی  نے اپنے خلاف ہو رہی قانونی چارہ جوئی سے بچنے، کسانوں کی جاری تحریک کو متاثر کرنے، ڈیزل،پیٹرول کے بڑھتے داموں سے عوام کی توجہ ہٹانے، سستی شہرت پانے اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے  سپریم کورٹ میں ۶۲؍ صفحات پر مشتمل عرضی داخل کی ہے جس میں اس نے قرآن مجید کی چھبیس آیات  پر انگشت نمائی کی۔ 
 تعجب و افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص کو اردو زبان تک ڈھنگ سے بولنا، لکھنا نہ آتا ہو، اردو کے قواعد، گرامر اور اسرار و رموز سے ناآشنا، بے خبر، ناواقف اورجاہل ہو،   وہ قرآن پاک کی آیات پر انگشت نمائی کی جسارت کر رہا ہے جو کہ فصاحت و بلاغت کی غایت درجہ اعلیٰ منزل پر فائز ہیں۔  اگر ممکن ہوتا تو مشرکین عرب کے فصیح و بلیغ شہسواروں کیلئے یہ سب سے زیادہ آسان تھا کہ قرآن  پاک کی آیات میں کمیاں نکالتے لیکن اہل بیان، علم لسان کے ماہرین، ائمہ بلاغت اورکلام کے شہسوار ہرگز اس مقدس کلام پر اثر انداز نہ ہو سکے، اور اُن میں سے کوئی ایک بھی قرآن  پاک کی ایک آیت جیسا کلام نہ لا سکا!کیونکہ قرآن مجید کی خصوصیات میں یہ بھی ہے کہ تمام جن وانس یہاں تک کہ ساری مخلوق میں یہ طاقت نہیں ہے کہ قرآن کریم میں  ایک حرف کی کمی و بیشی یا تغیر یا تبدیلی کر سکیں۔ 
 درحقیقت وسیم رضوی ایک خبطی اور عصبی مریض ہے جو موجودہ وقت میں اس قدر حواس باختہ ہے کہ اس نے اپنی پٹیشن میں لکھا ہے : ’’زمانۂ  رسالت میں صرف چار حفاظ تھے۔‘‘یہ بات حقیقت، تاریخ اور کتب سیر وحدیث کے خلاف ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید کے حفاظ ومعلمین اس قدر زیادہ تھے کہ بخاری کی روایت کے مطابق صرف بئرمعونہ کے موقع پر ۷۰؍ حافظ قرآن شہید ہوئے۔ (صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوة الرجيع … ح ۳۸۶۲) اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ  کے زمانے  میں بھی جنگ یمامہ میں   ۷۰؍حافظ قرآن شہید ہوئے۔
 گویا حفظ قرآن کا سلسلہ مسلمانوں کے درمیان  نزول قرآن کے زمانے سے اب تک ایک سنت اور عبادت کے عنوان سے دیکھا گیا ہے۔ کیا اس حال میں بھی یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ قرآن میں تحریف و تبدیلی ہوئی ہے؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ یقیناً وسیم رضوی کا نجس اور فتنہ انگیز بیان شیطنت وابلیسیت کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے ذریعے ملک میں بد امنی، فساد، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سیدھے سادے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کی کوشش ہے، مگر یہ شخص ضرور قدرت کی گرفت میں آئے گا، جہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ جب جب دشمنان اسلام کی طرف سے اس طرح کی مذموم کوشش کی گئی ہے ان کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ 
 جس طرح کسی اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل، نرے جاہل، ابتر، مجنوں ومخالف  کے شک اور انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ بلند شان اور عظمت وشرف والی کتاب ہے جو ’’لاریب‘‘ کی  مہر سے مزین وآراستہ ہے۔ کیونکہ شک اس چیز میں  ہوتا ہے جس کی حقانیت و صداقت پر کوئی دلیل وبیان نہ ہو جبکہ قرآن مجید اپنی حقانیت و صداقت کی ایسی واضح روشن اور مضبوط و مستحکم دلیل رکھتا ہے  جو ہر منصف، انصاف پسند اور عقل و حکمت کی دولت سے مالا مال شخص کو اس کے حق ہونے کا یقین کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔   دورِ نزول سے آج تک قرآن مجید اپنی اصلی صورت و مشمولات پر باقی ہے۔ اسلام دشمن عناصر سیکڑوں سال سے  اپنے تمام تر مکر، دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود قرآن مجید کے نور کو تھوڑا سا بجھانے پر بھی نہ قادر ہوسکے، اور جس نے بھی اس میں کمی، زیادتی، تحریف و تبدیلی  یا اس کی آیات میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی  اسے بھی منہ کی کھانی پڑی اور رسوائی اس کا مقدر ٹھہری۔
 موجودہ حالات میں مشتعل نہ ہو کر حکمت و دانائی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہند سے گزارش ہے کہ ایسے فتنہ پرور شخص کو ضرور گرفتار کرے اور اس پر قدغن لگائے تاکہ عالمی سطح پر وطن عزیز کی شبیہ خراب نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK