اپنی اصلاح کیساتھ اہل خانہ کی اصلاح کیلئے قرآنی ہدایت: اہمیت و معنویت

Updated: August 13, 2021, 4:36 PM IST | Zafarul Islam Islahi

سچ پوچھئے تو اس سے بڑھ کر ضروری اور اہم کام اور کیا ہوسکتا ہے کہ اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔

Rahul Dravid.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

رشادِ الٰہی ہے: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائو جس کے ایندھن انسان اور پتّھر ہوں گے۔‘‘ (سورہ التحریم:۶) یہ آیت اس لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں مومنین کو ایک انتہائی ا ہم ہدایت ( جس پر انسان کی حقیقی کامیابی کا دارو مدار ہے) دی گئی ہے اور وہ ہے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو نارِ جہنم سے بچانے کی فکر و کوشش کرنے کی۔ بلا شبہ جہنم سے بچ جانا اور جنت نصیب ہونا ہی انسان کی اصل کامیابی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ  ہے: ’’ جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہی (حقیقی معنوں میں) کامیاب ہوا ۔‘‘ ( آل عمران: ۱۸۵)  ظاہر ہے کہ جنت نصیب ہونا منحصر ہے روز مرہ زندگی میں اللہ رب العزت اور رسول کریم ﷺ کی مخلصانہ اطاعت پر ۔ اہلِ ایمان کے لئے آیت کا پیغام بہت ہی واضح ہے کہ وہ حکمِ الٰہی و سنت ِ رسولﷺ کے مطابق اپنے حالات سدھاریں، زندگی کے ہر شعبہ میں دین کے تقاضوں کو پورا کریں اور اسی طور پر اپنے گھر والوں کی اصلاح کیلئے پوری کوشش کریں۔ اس آیت کی تشریح سے متعلق یہ روایت بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اس کے نزول پر حضرت عمر ابن خطابؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنے آپ کو کیسے جہنم سے بچائیں، یہ تو سمجھ میں آگیا ( کہ احکامِ الٰہی پر عمل کریں اور گناہوں سے دور رہیں ) مگر ہم اپنے اہل و عیال کو کس طرح جہنم سے بچائیں؟  آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اس طر ح کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جن کاموں سے منع فرمایا ہے ، اہل وعیال کو ان کاموں سے منع کرو، اور اللہ نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے ان کے کرنے کا انہیں حکم دو، تو یہ عمل ان کو جہنم کی آگ سے بچا ئے گا۔ حضرت قتادۃؓ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ مروی ہے کہ اپنے اہل کو نارِجہنم سے بچانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو اللہ کی اطاعت کا حکم دو، اللہ کی نافرمانی سے انہیں روکو، احکامِ الٰہی کی بجا آوری پر ان کو آمادہ کرو، شریعت کے حکم پر چلنے میں مدد کرو، جب ان میں کوئی معصیت دیکھو تو اس کے سدّباب میں جلدی کرو اور اس معاملہ میں ضرورت پڑنے پر زجر وتوبیخ (سرزنش، ملامت) کرو۔ (تفسیر ابن کثیر، ۴؍۱۶۱)۔ صاحبِ تفہیم القرآن نے اس آیت کی تشریح میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ اپنی ذات کو اللہ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے،بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ جس خاندان کا وہ سربراہ ہے اس کو بھی ممکن حد تک ایسی تعلیم و تربیت دے کہ وہ احکامِ الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرنے والا بن جائے، تاکہ اللہ رب العزت اس سے راضی ہو جائے اور وہ جہنم سے بچ جائے۔ (سیدابوالاعلیٰ مودودی۔ تفہیم القرآن) قرآن کریم میں نبی آخر الزماں ﷺ کی امت کو ’’خیر امت‘‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ یہ شرف و اعزاز مُر تبط (مربوط) ہے ایک بہت بڑی ذمہ داری ( یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر) سے  (آل عمران: ۱۱۰)۔ سورۃ التوبۃ کی آیت۷۱؍ میں مومن مردوں اور عورتوں کے امتیازی اوصاف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ و ہ ایک دوسرے کے باہم رفیق ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ کی ادائیگی کے پابند ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں سر گرم رہتے ہیں ۔ اس آیت سے یہ نکتہ اخذ ہوتا ہے کہ رفاقت و دوستی ا ور بھائی چارگی کے تقاضے میں سے یہ ہے کہ ایک دوسرے کو نیکی کی دعوت دی جائے اور برے کام سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ مزید برآں حدیث میں دین کو سراپا ’’ نصیحۃ‘‘ ( نصیحت،  خیر خواہی) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم)  اس سے بڑھ کر کسی کی خیر خواہی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے نیکی کی راہ پر چلنے کے لئے کہا جائے اور برے کاموں سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے۔ سورۃ العصر ایک مختصر لیکن مضمون کے لحاظ سے جامع ترین سورہ ہے ۔ اس میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ کس کو حقیقی نفع نصیب ہوگا اور کون خسرانِ عظیم سے دوچار ہوگا۔ اس کے مطابق وہ لوگ سب سے بڑے خسران سے محفوظ رہیں گے جو ایمان و عملِ صالح کے ساتھ’ ’ تواصی بالحق‘‘ اور ’’تواصی بالصبر‘‘ سے شغف رکھتے ہیں۔ مولانا عبد الباری ندوی فلسفی ؒ اس سورہ کی تشریح پر مبنی اپنی کتاب ’’ قرآن کا دو آیاتی نظام ِ صلاح و اصلاح ‘‘ میں رقم طراز ہیں: ’’ انسان کو بحیثیت مجموعی خسران سے بچانے کے لئے صرف کچھ افراد کا اپنی اپنی جگہ ’’آمنوا وعملوا الصٰلحٰت ‘‘ کا حق ادا کر کے مومن ِ صالح بن جانا کافی نہیں ، بلکہ ایمان و عمل صالح کی اس حقّانی زندگی کو پوری نوع انسانی میں پھیلانے اور پیدا کرنے کے لئے آپس میںایک دوسرے کو اس کی فہمائش و تاکید کرتے رہنا بھی لازم ہے۔ ‘‘ 
 زیرِ مطالعہ آیت میں اپنے کو اور اپنے ’’ اہل‘‘ کو نارِ جہنم سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے یعنی اپنی اصلاح کے ساتھ ’’اہل‘‘ کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لفظ ’’ اہل‘‘ سے کون لوگ مراد ہیں۔ اس آیت کے علاوہ دیگر متعدد آیات میں یہ لفظ آیا ہے اور مختلف معانی (بیٹا، اولاد، بیوی، افراد ِ خانہ ،گھر والے، اہلِ خاندان) میں استعمال ہوا ہے۔ ان سب آیتوں پر غور وفکر کا ما حصل یہ ہے کہ اس کا عمومی اطلاق ان تمام افرا د پر ہوتا ہے جو ایک ساتھ کسی گھر میں رہتے ہیں۔ اردو میں اس کی جامع و عام فہم تعبیر ’’ گھر والے، گھر والوں ‘‘ سے کی جا تی ہے۔ اہم بات یہ کہ قرآن مجید کے بیشتر اردو مترجمین نے ’’ اہل‘‘ کا ترجمہ گھر والوں یا اہل و عیال کیا ہے۔ اور بعض مفسرین کی رائے میں ’’اہل‘‘ کے دائرہ میں غلام اور مستقل ملازمین و خادمین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے (معارف القرآن)۔ بہر حال قرآن ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ ہو یا ’’ تواصی بالحق‘‘، اس ذمہ داری کی انجام دہی سب سے پہلے اپنے گھر والوں کی نسبت سے مطلوب ہے، جیسا کہ محولہ بالا آیت میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی لائق ِ توجہ ہے کہ زیرِ بحث آیت میں اپنے کو او ر اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچانے کے لئے ’’ امر ‘‘ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے،یعنی تاکید کے لئے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس نے اس کام کو فرض کا درجہ دے دیا ہے۔ مقصود یہ کہ ا پنی اور گھر والوں  کی اصلاح کے لئے کوشش محض مطلوب نہیں ، بلکہ ضروری ہے۔ آیت میں جہنم کی آگ کے بھڑکنے کے ذرائع کا ذکر کر کے اس کام ( نارِ جہنم   سے بچانے) کی ضرورت و اہمیت کو اور بڑھا دیا گیا ہے۔ سچ پوچھئے تو اس سے بڑھ کر ضروری و اہم کام اور کیا ہوسکتا ہے کہ اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنے کی بھر پور کوشش کی جائے۔ اس آیت کی تشریح میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے بجا تحریر فرما یا ہے : ’’ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لئے جو کچھ کر سکتا ہے اسے اٹھائے نہ رکھے۔  جب بھی دیکھے کہ ان کے اندر اللہ کی شریعت سے بے پروائی راہ پارہی ہے، فوراً اسکے سدّباب  کی فکر کرے۔‘‘ ( تدبر قرآن )۔  یہاں اِس روایت کا نقل کیا جانا  ضروری اور  بر محل معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ آیت ’’وانذرعشیرتک الاقربین ‘‘   اور (اے حبیب ِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے (الشعراء :۲۶؍۲۱۴) نازل ہوئی  تو نبی کریم ﷺ نے قبیلہ ٔ قریش کی تمام  شاخوں کے لوگوں کو جمع کیا اور ایک ایک شاخ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو، میں (روزِجزا) تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ آخر میں حضرت فاطمہ ؓ سے ان الفاظ میں مخاطب ہوئے : و یا فاطمہ بنتُ محمد! سَلینی ما شئت من مالی،لا اغنی عنک من اللہ شیئاً (اے محمد کی بیٹی فا طمہ! تم بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو، میرے پاس جو کچھ مال ہے اس میں جو چاہو لے سکتی ہو لیکن ( یاد رکھو کہ) میں قیامت کے دن اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا) (سید جلال الدین عمری، اوراقِ سیرت)۔ حقیقت یہ کہ گھر والوں کی تذکیر اور انہیں نارِ جہنم سے بچانے کی راہ میں کوشش کی نسبت سے اس فرمان نبویؐ میں ہم سب کے لئے بڑی عبرت و نصیحت ہے اور ان مختصر جملوں میں انذار کے پہلو سے جو جامعیت ہے وہ اپنی جگہ مسلَّم ہے ۔

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK