موجودہ دور میں جبکہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، دینی تعلیم کا نظام ختم کیا جانے لگا ہے اوردین و اخلاق کی باتیں کرنے کو پسماندگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے ، مسلم اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے انتہائی سوجھ بوجھ کے ساتھ غیر محسوس طور پر تعلیم وتدریس کو قرآن سے جوڑنے کی کوشش کریں ، اس مقصد کیلئے ان کو اپنے مضمون کے ساتھ ساتھ قرآن کی تعلیمات کا شعور وادراک رکھنا بھی ضروری ہے
ہر ٹیچر، ہر استاد، ہر لیکچرر ، ہر پروفیسر کو اپنے فن کی ،اتنی تو تیاری کرلینا چاہئے کہ ہدایت نامہ (قرآن) ہمارے لئے کیا کہتا ہے اس پر مہارت حاصل ہو
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو آیت نازل کی ہے وہ ہے ،اقراء ،اقراء یعنی پڑھ، پڑھو، علم حاصل کرو ،اور تب سے لے کر آج تک دُنیا کی ہر قوم ہر مذہب اور ہر نسل کے لوگ علم کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ۔
علم کا حاصل کرنا دو طرح کا ہوتا ہے: ایک صرف علم حاصل کرنا اور ایک معرفت ِ حق حاصل کرنا۔ معرفت حق کے علم سے ہم جڑ تو گئے ہیں مگر اسے صحیح معنوں میں حاصل نہیں کر رہے ہیں ۔ معرفت ِ حق کیلئے ساڑھے چودہ سو سال پہلے امانت ( قرآن ) دی گئی ہے اس کو مد نظر رکھ کر عصری تعلیم اور دینی تعلیم دونوں کو مکمل کرنا ہے۔ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اگر یہ پتہ چل جاتا ہے تو ہم صحیح معلم ہیں ، اردو میڈیم، انگریزی میڈیم، تعلیم سے دلچسپی کا فقدان، یہ سارے مسائل ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ہمیں ہی اس کا حل ڈھونڈنا ہے۔ ہر دور میں وقت کے تقاضوں کے ساتھ انسان کو قدم اٹھانا پڑتا ہے کہ چاند تارے توڑ کر لانا ہے یا زمین کھود کر سونا نکالنا ہے، ہم ایسے مضبوط فیصلوں کیلئے ایک پلیٹ فارم پر ہیں اور ہمارے ساتھ جڑے ہوئے دو کھرے آئینے ہیں : ایک ہماری اولاد اور دوسرے طلبہ۔ اس آئینے کو گرد سے بچانا اور شفاف رکھنا ہمارا فن اور فرض ہے۔
سب سے پہلے تو ہمیں اپنے فن کو ستھرا بنانا ہے۔ ہر ٹیچر، ہر استاد، ہر لیکچرر ، ہر پروفیسر کو اپنے فن کی، اتنی تو تیاری کرلینا چاہئے کہ ہدایت نامہ (قرآن) ہمارے لئے کیا کہتا ہے اس پر مہارت حاصل ہو اور ہم اپنے ہر لیسن اور ہر لیکچر کے بعد اس کو قرآن سے جوڑیں ۔ حقیقت میں تو ایسا ہی ہے لیکن ہم لاپروائی میں بتاتے نہیں ہیں ۔ اردو ، سائنس، معاشیات، تاریخ، جغرافیہ ، ریاضی … یہ سب قرآن ہی سے جڑے ہیں ۔
سب سے پہلے یہ بتادیں کہ یہ عصری تعلیم آئی کہاں سے؟ جنگ بدر کے بعض قیدیوں کے پاس رہائی کے لئے فدیہ نہیں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک قیدی سے دس دس لوگوں کو تعلیم دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اب ان لوگوں کے پاس ظاہر ہےدینی تعلیم تو تھی نہیں ، وہ مشرکین تھے ، وقت کے تقاضے کی تعلیم تھی، اور آج بھی وقت کے تقاضےکی ہی تعلیم ہے۔ یہی عصری تعلیم ہے جو سب کو حاصل کرنا ہے اور قرآن کی حدودِ میں رہ کر حاصل کرنا ہے ۔ اس سے دلچسپی گھٹ رہی ہے۔
سب سے پہلے پارہ نمبر ۳۰؍ سورہ نمبر ۸۲؍ المطففین کا بغور مطالعہ کریں ۔ ماشاءاللہ سب نے کیا ہوگا، ناپ تول کی کمی کی طرف اشارہ ہے (شعیب علیہ السلام کی قوم نے ناپ تول میں کمی کی تھی انھیں کیا سزا ملی ) یہ سورہ صرف ٹماٹر ، آلو ، بیگن ،کپڑے، سیمنٹ ، چاندی ، سونا ، پلاٹینیم ، کے ناپ تول کی کمی کا اشارہ نہیں ہے۔ ہر انسان کی غلطیاں ناپ تول کی کمی کے زمرے میں ہیں ، خاص کر استاد کی ناپ تول کی کمی کو پہچان لیں کہ استاد ڈنڈی کہاں مار رہا ہے اور کہاں ناپ تول کی کمی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مدرسے کے ڈسپلن سے ہٹتے ہی ناپ تول کی کمی میں بیٹھ رہا ہے، ہیڈ بھی اسی ذمہ داری میں ہے، پرنسپل بھی، طلباء وطالبات بھی، اسی زمرہ میں ہیں ۔ روزانہ کے معمولات میں ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو آسانی سے نظر انداز کرتے رہتے ہیں مگر وہ المطففین کے ناپ تول کی کمی ہے۔
وقت پر پابندی پہلا زمرہ ہے۔ تدریس سے انصاف، اپنے اچھے اخلاق، صحیح راستے کا انصاف کرانا، جتنا معاوضہ ہے اتنا حق ادا کرنا، ہم ایک بار اپنے کمرہ ٔجماعت میں یہ بتادیں ، نہیں بتایا تو آج بتادیں ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے ، ہر لیسن پر قرآن کا ذکر اس طرح کریں ۔
بہت سے افراد کو تو پتہ ہی ہے، سائنس اور جغرافیہ کے لیسن میں یہ تو بتا دیا جاتا ہے کہ دُنیا میں زمین کا حصہ کم ہے پانی کا زیادہ ہے، پانی دو گیسوں سے مل کر بنتا ہے، آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ ہائیڈروجن خود ایک طرح سے آگ بجھانے کے کام آتی ہے اور آکسیجن آگ کو بھڑکنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ یہی دو گیسیں جب کیمیائی طریقے سے ملائی جاتی ہیں تو پانی بنتا ہے اور ان دو گیسوں کے برعکس ہوتا ہے یعنی یہ پانی آگ بجھاتا ہے، سمندروں کو پھر سے دو گیسوں میں بدل دیتا ہے ، یہ نکتہ ہمیں سورہ التکویر سے معلوم ہوتا ہے۔ قیامت کی سب سے زیادہ ہولناکی اسی سورہ میں بیان کی گئی ہے۔ سمندروں کا پانی بھاپ بن کر اڑ جانے والا ہے۔ طلباء وطالبات کو ضرور بتائیں کہ یہ دونوں گیسوں کا علم قرآن سے ہوا ہے، اس سے بچوں کی دلچسپی بڑھے گی۔
اگر آپ اسرائیل کا لیسن پڑھا رہے ہیں اور بحر مردار کا ذکر ہے تو طلبہ کو ضرور بتائیں کہ کون سے پیغمبر کی قوم کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ سمندر کی نمکینی دو سو دس کیوں ہے، ہر سمندر میں نمکینی کا اوسط ۳۵؍ ہے اور بحر مردار میں ۲۱۰؍ ہے۔یہ قرآن سے جڑی ہوئی بات ہے۔ سمندروں کے پانی کا ذکر سورہ رحمٰن میں بھی کیا گیا ہے۔ بیت لحم کا تعارف کرا دیں ، فلسطین کا ذکر ہو تو بیت المقدس کا تعارف کرادیں ۔ ایسا کیا جائیگا تو آپ دیکھیں گے کہ طلبہ کی دلچسپی غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے۔
ہندوستان میں کیرالا کے ذکر پر یہ بتا دیں کہ شق القمر کے واقعے کو مالابار یعنی کیرالا کے راجہ زمورن سامری نے خود اپنی آنکھوں سے چاند کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ لیا تھا،اس واقعے سے متاثر ہو کر وہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ یہ بتانے سے بھی طلبہ و طالبات کی دلچسپی بڑھے گی۔ اسی طرح ہر بات کے پیچھے ایک بات جڑی ہے، صرف قرآن کا حوالہ دیتے رہیں اور طلبہ کو ذہنی طور پر مرکوز رکھیں ۔اس میں یقینی طور پر محنت درکار ہوگی کیونکہ آپ جس کسی حوالے کا منصوبہ بنائینگے کہ مجھے اسلامی کتب سے فلاں حوالہ دینا ہے یا واقعہ کا ذکر کرنا ہے تو کلاس میں جانے سے پہلے اُس حوالے یا واقعہ کااعادہ کرلینا ہوگا۔
حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں تعلیم کیلئے پانچ سورتیں ضروری تھیں : سورہ البقرہ ، سورہ النساء ، سورہ المائدہ ، سورہ الحج اور سورہ النور۔آج بھی مسلم ممالک میں یہ سورتیں تعلیم میں لازمی ہیں ۔
اردو کی درس و تدریس میں سادگی اور بہادری کے موضوع پر یہ ضرور بتادیں کہ ’’بیت المقدس‘‘کی فتح کے بعد یہودی گورنر جرنیل نے معاہدہ پر دستخط کیلئے بادشاہ کو طلب کیا۔ حضرت عمر فاروقؓ گھوڑے کی لگام پکڑے، کپڑے دھول میں اٹے ہوئے پیدل تشریف لا رہے ہیں ، گورنر نے کہا ہم نے بادشاہ کو بلایا ہے ، بتایا گیا کہ یہی ہمارے خلیفہ ہیں ، گورنر نے کہا کہ ہم تو سمجھے کہ کوئی بہت بڑا لاؤ لشکر ہوگا، سامنے بادشاہ پیچھے پوری فوج … مگر وہاں ایسا کچھ نہ تھا بلکہ سادگی کی غیر معمولی مثال تھی۔ طلبہ کو اس بات کا تعارف کرائیں ۔ حضرت عمر فاروقؓ نے جن پانچ سورتوں کو تعلیم کے لئےمختص کیا ہے انہیں ایک بار پڑھ کر غور کریں کہ اسی میں سے عصری تعلیم کے مضامین بنائے گئے ہیں ۔ پارہ نمبر اٹھارہ قد افلح سورہ نمبر۲۳؍ المؤمنون میں انسان کے ارتقاء کی جھلک بتائی گئی ہے، ہم نے حیاتیات میں کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی، مگر اس بات کا اشارہ ضرور دیں ، بچوں کی دلچسپی بڑھے گی۔ ہر لیسن سے پہلے ایک بار دہرا دیا کریں اور قرآن کا یہ اشارہ دیں کہ ’’ ہم نے انسان کو کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔‘‘ آپ کے لیسن میں جان آجائے گی۔
معاشیات کے اساتذہ کیلئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ یہ بتا دیں(سورہ ہود آیت نمبر۶)’’زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔ ‘‘ قرآنی معاشیات کو مد نظر رکھتے ہوئے طلبہ کو بتائیں کہ شب وروز کی آمدورفت اور لیل ونہار کی گردشیں پیداوری عمل کو ممکن بنانے اور جاری وساری رکھنے میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں ، یہ بہت گہری بات ہے، قرآن مجید میں بہت سے تفصیلی معاشی احکام کا تذکرہ ملتا ہے، مثلاً فضول خرچی کے لئے ’’ تبذیر‘‘ اور ’’اسراف‘‘ یہ دو لفظ آئے ہیں عموماً انہیں ہم معنی سمجھا جاتا ہے لیکن فی الحقیقت دونوں میں فرق ہے، تبذیر غیر شرعی مصارف پر خرچ کرنے کیلئےآتا ہے اور اسراف جائز مقاصد پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کا نام ہے۔ ایک کیفیت اور ایک کمیت کیلئے استعمال ہوا ہے۔ یہ قرآن سے جڑی ہوئی بات ہے،کمرۂ جماعت میں ضرور بتائیں۔ سود در سود پڑھائیں تو یہ ضرور بتائیں کہ سود پر پابندی قرآن میں واضح طور پر بتائی گئی ہے۔ زکوٰۃ کا ذکر کر دیں یہ عبادت بھی ہے اور مالی فریضہ بھی۔ غرض ہر لیسن میں ایک اشارہ آسکتا ہے اور دلچسپی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
اگر چہ امت مسلمہ کی تاریخ فنونِ حرب اور جنگی کارناموں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے لیکن مغربی مؤرخین کو نپولین بوناپارٹ ، جولیس سیزر اور چنگیز خان کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر چہ یہ جرنیل بھی اپنی جگہ فن حرب کے ماہر تھے اور انہوں نے بڑے بڑے دشمنوں کو شکست دی تھی لیکن تاریخ اسلام کا ایک ایسا جرنیل بھی ہے جس کا تذکرہ دنیا کی جنگی تاریخ میں لازمی ہونا چاہئے۔ اس نڈر اور ناقابلِ شکست جرنیل کا نام ٫ خالد بن ولید ہے۔ جنگ موتہ میں خالد بن ولید نے فوجی کمان سنبھالی اور بعد میں خالد بن ولید نے خود بتایا کہ اس جنگ میں میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹی ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ آپؓ کو اسی جنگ کے بعد ’’ سیف اللہ‘‘ کا لقب ملا اور بعض روایات کے مطابق یہ لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دیا ہے۔ خالد بن ولید کا اسلام میں داخل ہونے کا پیراگراف بہت خوب صورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم، صلح حدیبیہ کے ایک سال بعد مکہ مکرمہ عمرہ کیلئے تشریف لے گئے، آپؐ کا مبارک قول تھا: ’’ خالد کہاں ہے؟‘‘ اس جملے سے حضرت خالد بن ولید ؓ کے تئیں آپؐ کی محبت ظاہر ہوتی ہے۔
(مضمون کا دوسرا حصہ آئندہ جمعہ کو ملاحظہ فرمائیں )
(مضمون نگار مدینتہ العلوم گرلز پرائمری اسکول ،ناندیڑ کی معلمہ ہیں )