رگھورام راجن کا اِنتباہ 

Updated: April 26, 2022, 10:30 AM IST | Mumbai

 رگھو رام راجن ۲۰۱۳ء تا ۲۰۱۶ء آر بی آئی کے گورنر رہ چکے ہیں۔ اسی دوران اُنہیں بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کا نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔

Raghuram Rajan.Picture:INN
رگھورام راجن۔ تصویر: آئی این این

 رگھو رام راجن ۲۰۱۳ء تا ۲۰۱۶ء آر بی آئی کے گورنر رہ چکے ہیں۔ اسی دوران اُنہیں بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کا نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ۲۰۰۳ء تا ۲۰۰۶ء وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں چیف اکنامسٹ اور ڈائریکٹر آف ریسرچ جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ اب تک کئی کتابوں کے مصنف رگھو رام راجن کے مضامین کئی عالمی جریدوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اتنے بڑے منصب پر فائز شخص جب کچھ کہتا ہے تو ایسا نہیں کہ اس کے فرمودات چند ایک اخبارات میں شائع ہوکر رہ گئے بلکہ ایسا شخص جب لب کشائی کرتا ہے تو پوری دُنیا بالخصوص وہ تمام ادارے اس کا نوٹس لیتے ہیں جن کا تعلق بین الاقوامی معاشیات سے ہے۔ اس پر پالیسی ساز سے لے کر ماہرین معاشیات تک اور سرمایہ کاری سے دلچسپی رکھنے والوں سے لے کر الگ الگ ملکوں کی حکمرانوں تک، سب ہی توجہ دیتے ہیں۔ اسی لئے رگھو رام راجن کے اظہارِ خیال کو، جو اُنہوں نے ٹائمس نیٹ ورک انڈیا اکنامک کانکلیو کے دوران کیا، مخاصمانہ تنقید کہہ کر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مخاصمانہ تنقید نہیں، ہمدردانہ مشورہ ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ یہ نہ دیکھئے کہ کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھئے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ اگر ہم نے اُن کی باتوں پر دھیان دیا اور حالات کو سنوارنے کی کوشش کی تو یہ دانشمندی ہوگی اور اگر اُن کی آواز کو مخالف آوازوں میں شمار کرکے نظرانداز کردیا تو اس سے کسی اور کا نہیں،ہمارا ہی نقصان ہوگا۔ آپ یقیناً جانتے ہوں کہ رگھو رام راجن کی کس بات اور اُن کے کس بیان یا خیال کی طرف ہمارا اشارہ ہے۔ اگر آپ نے نہیں پڑھا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ مذکورہ کانکلیو میں اُنہوں نے کہا کیا۔ بہت سی دیگر باتوں کے علاوہ ایک بات جو اُنہوں نے بالکل دوٹوک انداز میں کہی وہ یہ تھی کہ ہندوستان کی شبیہ اقلیت مخالف ملک کی ہوگئی تو اس سے بیرونی ملکوں میں ہماری مصنوعات کی کھپت متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ جس طرح ایک صارف یہ دیکھتا ہے کہ وہ جس ملک کا پروڈکٹ خرید رہا ہے وہ ملک عمومی طور پر کیسا ہے، مستحکم ہے یا نہیں، بالکل اُسی طرح ایک ملک یہ دیکھتا ہے کہ جس ملک سے وہ تجارتی و معاشی لین دین کررہا ہے وہ بھروسہ مند ہے یا نہیں۔ اِس بات کو سرمایہ کاروں کی ذہنیت کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ سرمایہ کار اسی ملک میں پیسہ لگاتے ہیں جہاں امن و سکون ہو اور سماج مستحکم ہو۔ ظاہر ہے کہ راجن کا یہ بیان گزشتہ چند برسوں کے حالات بالخصوص ہریانہ میں ادائیگیٔ نمازِ جمعہ سے نمازیوں کے روکے جانے، کرناٹک میں حجاب تنازع، دھرم سنسد میں زہر افشانی، جہانگیر پوری اور دیگر مقامات پر رام نومی اور ہنومان جیتنی پر ہونے والے تصادم اور بل ڈوزر کلچر کے حالیہ تناظر میں ہے مگر اُن کی تشویش یقیناً بیرونی ملکوں میں مرتب ہونے والے اثرات کے پیش نظر ہوگی جس کی ایک مثال امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کا وہ بیان ہے جو اُنہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں ہندوستانی وزیر دفاع اور وزیر اُمور خارجہ کی موجودگی میں دیا تھا اور جس کا مفہوم یہ تھا کہ امریکہ ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، مرکزی حکومت کو راجن کے مشورہ کو مسترد کرنے کے بجائے اس پر غور کرتے ہوئے ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ حالات جتنے بہتر، فرقہ وارانہ عصبیت و کشیدگی سے پاک اور امن و امان کی فضا جتنی بے داغ ہوگی، معاشی ترقی کا امکان اُتنا ہی روشن ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK