راہل گاندھی کیا کریں ، کیا نہ کریں

Updated: August 01, 2020, 8:31 AM IST | Editorial | Mumbai

راہل گاندھی کو این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے جو مشورہ دیا ہے، وہ بزرگانہ تو ہے ہی، اس حوالے سے دانشمندانہ بھی ہے۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ راہل گاندھی پارٹی کی قیادت سنبھالیں ، پارٹی کارکنان کو متحد کریں ، اس کیلئے پورے ملک کے دورہ کی ضرورت پیش آئے تو اس سے بھی گریز نہ کریں۔

Rahul Gandhi Photo: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

 راہل گاندھی کو این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے جو مشورہ دیا ہے، وہ بزرگانہ تو ہے ہی، اس حوالے سے دانشمندانہ بھی ہے۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ راہل گاندھی پارٹی کی قیادت سنبھالیں ، پارٹی کارکنان کو متحد کریں ، اس کیلئے پورے ملک کے دورہ کی ضرورت پیش آئے تو اس سے بھی گریز نہ کریں ، ایک ایک علاقے میں جاکر وہاں کے پارٹی ورکرس سے ملاقات کریں ۔ اُنہوں نے ماضی میں ایسا کیا ہے، اب از سرنو ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ این سی پی چیف نے راہل کے ذریعہ نریندر مودی پر بار بار تنقید کی بابت کہا کہ ’’ہمارا مشاہدہ ہے، جب آپ کسی ایک شخص کو تسلسل کے ساتھ ہدف بناتے ہیں تو (اُس شخص کی نہیں بلکہ) آپ کی ساکھ متاثر ہونے لگتی ہے۔ اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔‘‘  جہاں تک تنقید کا سوال ہے، جمہوریت میں اس کی گنجائش تو ہوتی ہے ، اہمیت وافادیت بھی کم نہیں ہوتی مگر اُس وقت جب یہ کسی پارٹی کی آواز ہو یا بیک وقت کئی پارٹیوں کی مشترکہ آواز۔ راہل کی تنقید ایک فرد کی تنقید ہے جسے ایک رکن پارلیمان کی تنقید تو مانا جاسکتا ہے، پارٹی کا موقف نہیں مانا جائیگا کیونکہ وہ پارٹی کے صدر ہیں نہ ترجمان، اسی طرح اپوزیشن کا مشترکہ ردعمل بھی نہیں مانا جاسکتا کیونکہ وہ اپوزیشن کی بھی باضابطہ ترجمانی نہیں کررہے ہیں ۔ 
 اسی پس منظر میں شرد پوار کا مشورہ کافی اہمیت کا حامل ہے کہ راہل پہلے پارٹی کی قیادت سنبھالیں جس سے اُنہوں نے ۲۰۱۹ء کی شرمناک شکست کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ مشورہ کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ یہ ہے کہ وہ پارٹی کارکنان کو جوڑیں اور اُن کے قریب جائیں ۔ تیسرا مشورہ مذکورہ دونوں مشوروں کے بین السطور ہے کہ وہ اُن لیڈروں کو اعتماد میں لیں جو اُن کی پارٹی کے خلاف بغاوت کررہے ہیں جس سے پارٹی کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے۔ پوار کے مشورہ کا چوتھا حصہ یہ ہے کہ وہ ایک شخص (وزیر اعظم مودی) کو بار بار تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کریں کیونکہ ماضی میں یہ تجربہ سیاسی طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ 
 ہم نہیں جانتے کہ راہل سننے کے موڈ میں ہیں یا نہیں مگر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ مسلسل سیاسی ناکامی کے بعد اب اُنہیں ایک جامع اور وسیع تر منصوبے کے تحت پارٹی کے جسم میں نئی روح پھونکنے پر توجہ دینی چاہئے کہ اس کے بغیر بھرپور امکانات اور مواقع کے باوجود پارٹی اپنی ساکھ مضبوط نہیں کرپائے گی۔ اُن کی پارٹی کا کہنا ہے کہ اُن کے حالیہ ویڈیوز کافی مقبول ہورہےہیں جنہیں ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب اور وہاٹس ایپ پر اب تک کروڑوں لوگ دیکھ چکے ہیں (تعداد ۱۵؍ کروڑ بتائی گئی) مگر ویڈیوز کا دیکھا جانا اور اُن میں کی گئی تنقید کا اثر پزیر ہونا دو الگ باتیں ہیں ۔ راہل گاندھی قیادت نہیں سنبھالیں گے، کسی او رکو قیادت کیلئے منتخب بھی نہیں کروائیں گے اور ٹویٹ کرکے یا ویڈیوز جاری کرکے یہ چاہیں گے کہ پارٹی میں نئی جان پڑجائے گی تو یہ ممکن نہیں ہے۔ 
 راہل کو یہ بات ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ وہ پارٹی کو انتخابی کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں تو ناکام ہیں ہی، اپنے قریبی لوگوں کو بھی قریب نہیں رکھ پا رہے ہیں ۔ سندھیا کے بعد پائلٹ کی بغاوت سے ہر کوئی واقف ہے۔ ہریانہ کانگریس کے سابق صدر اشوک تنور، مدھیہ پردیش کانگریس کے سابق صدر ارون یادو، پنجاب کانگریس کے سابق صدر پرتاپ سنگھ باجوا اور کرناٹک اکائی کے سابق صدر دنیش گنڈو راؤ بھی اُن سے دور ہوکر مخالف سروں میں بولنے لگے ہیں ۔ پارٹی میں سب سے بڑی خلیج پیش رو نسل اور نئی نسل کے لیڈروں کے درمیان پائی جاتی ہے جس کا کوئی حل نکل نہیں پارہا ہے۔ بہت سے سینئر کانگریسیوں کا کہنا ہے کہ راہل جو کچھ بھی کررہے ہیں اس کا مشورہ اُنہیں کون دے رہا ہے یہ سمجھنا مشکل ہے۔ اس سے پارٹی کی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK