• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس نے مودی کے دورۂ اسرائیل پر سوال اٹھایا

Updated: February 25, 2026, 12:03 PM IST | New Delhi

کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی کے لیے پوری دنیا اسرائیل کی تنقید کر رہی ہے اور اس تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو اخلاقی لحاظ سے مناسب نہیں کہا جا سکتا۔

Pm Modi Visit Israel.Photo:PTI
پی ایم مودی کا دورۂ اسرائیل۔ تصویر:پی ٹی آئی

 کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی کے لیے پوری دنیا اسرائیل کی تنقید کر رہی ہے اور اس تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو اخلاقی لحاظ سے مناسب نہیں کہا جا سکتا۔
کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کو مودی کے دورۂ اسرائیل پر سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ہندوستان کا نظریہ ہمیشہ متاثرین اور بے گناہوں کے دکھوں کے تئیں حساس رہا ہے، اس لئے توقع کی جانی چاہیے کہ مودی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سامنے بھی اپنے روایتی ہندوستانی نقطہ نظر کو رکھیں گے۔
 واڈرا نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم اسرائیل کے اپنے دورہ کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئےغزہ میں ہزاروں بے گناہ مرد و خواتین اوربچوں کے قتل عام کا ذکر کریں گے اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں گے۔ ہندوستان ایک آزاد قوم کے طور پر اپنی پوری تاریخ میں سچائی کے لیے کھڑا رہا ہے، ہمیں دنیا کو سچائی، امن اور انصاف کی روشنی دکھاتے رہنا چاہیے۔‘‘ 
وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھاتے ہوئے  رمیش نے لکھاکہ ’’فلسطین کے تئیں ہندوستان کا ایک تاریخی اور اخلاقی نظریہ رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے۲۰؍ مئی ۱۹۶۰ء کو غزہ کا دورہ کیا اور وہاں اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس میں تعینات ہندوستانی دستے سے ملاقات کی۔ پھر۲۹؍نومبر ۱۹۸۱ء کو ہندوستان نے فلسطین کی حمایت میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جب کہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۸۸ء کو ہندوستان نے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔
  رمیش نے کہاکہ وہ ایک مختلف دور تھا۔ اب ایسے وقت میں جب غزہ کی صورت حال پر بین الاقوامی تشویش پائی جارہی ہے،  مودی کا اپنے عزیز دوست  اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ قربت کا مظاہرہ، اخلاقی نقطہ نظر سے سوالات اٹھاتا ہے۔‘‘   

یہ بھی پڑھئے:آپریشن سیندور میں شہباز شریف مارے جا سکتے تھے، میں نے بچایا؛ ڈونالڈ ٹرمپ

اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، مشترکہ وژن سے مستقبل تابناک ہوگا: مودی
 وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کے اسرائیل کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور مشترکہ وژن سے دونوں ممالک کا مستقبل تابناک ہوگا۔ بدھ کو اسرائیل کے دوروزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ایک بیان میں  مودی نے کہا کہ وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کی دعوت پر وہاں جارہے  ہیں اور دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سری دیوی ہیرو سے زیادہ فیس لینے والی اداکارہ تھیں

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اسرائیلی صدر سے بھی ملاقات کریں گے، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور وہاں مقیم ہندوستانی برادری سے بات چیت کریں گے۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری ہے جس میں حالیہ برسوں میں زبردست ترقی اور تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ ’’میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اپنی بات چیت کا منتظر ہوں، جس کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی، اختراع، زراعت، پانی کے انتظام، ٹیکنالوجی، دفاع اور سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ہی عوام کے درمیان تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ہم باہمی فائدے کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اشتراک کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK