کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی کنیسٹ سے خطاب کے دوران غزہ کی صورتحال اور مبینہ نسل کشی کا ذکر کریں۔ ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مودی دو روزہ دورے پر تل ابیب میں موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi
کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی کنیسٹ سے خطاب کے دوران غزہ کی صورتحال اور مبینہ نسل کشی کا ذکر کریں۔ ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مودی دو روزہ دورے پر تل ابیب میں موجود ہیں۔
پرینکا گاندھی واڈرا نے ۲۵؍ فروری کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ نریندر مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کے دوران غزہ کے عوام کی حالت زار کو اٹھائیں گے۔ وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے لکھا کہ ’’مجھے امید ہے کہ عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی اپنے آنے والے اسرائیل کے دورے پر کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں ہزاروں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی نسل کشی کا ذکر کریں گے اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان تاریخی طور پر ایک ’’آزاد قوم‘‘ کے طور پر کھڑا رہا ہے اور اسے سچائی، امن اور انصاف کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔
I hope that the Hon Prime Minister @narendramodi ji mentions the genocide of thousands of innocent men, women and children in Gaza while addressing the Knesset on his upcoming trip to Israel and demands justice for them. India has stood for what is right throughout our history as…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) February 25, 2026
ہند اسرائیل تعلقات: تجارت اور دفاع
ہندوستان ایشیا میں اسرائیل کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ۲۰۲۵ء میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت تقریباً ۷۵ء۳؍ بلین ڈالر رہی۔ اسلحہ کے شعبے میں بھی تعلقات نمایاں ہیں۔ ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان ہندوستان اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار رہا، جو اسرائیل کی مجموعی دفاعی برآمدات کا تقریباً ۳۴؍ فیصد ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ہندوستان نے اسرائیل سے اسلحہ، گولہ بارود اور پرزہ جات کی مد میں تقریباً ۹۶ء۱۳۵؍ ملین ڈالر کی خریداری کی۔ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان دفاعی ساز و سامان، انٹیلی جنس ٹیکنالوجی اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
تاریخی تناظر
ہندوستان نے روایتی طور پر فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بنے تھے۔ ۲۰۲۶ء میں وہ کنیسٹ سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم ہوں گے۔
واضح رہے کہ ۷؍ اکتوبر کے بعد کئی مغربی لیڈر اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں، تاہم عالمی جنوبی ممالک کے لیڈروں کے دورے نسبتاً کم رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، مودی فروری ۲۰۲۴ء میں ارجنٹائنا کے صدر جیویر میلی کے بعد اسرائیل جانے والے نمایاں لیڈروں میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں نسل کشی کی تیاری کے مراحل کی تکمیل تشویشناک : جینوسائیڈ واچ
غزہ کی صورتحال اور عالمی ردعمل
غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران پر عالمی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے جولائی ۲۰۲۴ء میں اپنی ایڈوائزری میں رکن ممالک سے کہا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق معاملات میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ مودی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہندوستان نے دیگر ممالک کے ساتھ مغربی کنارے کے الحاق کی مذمت کی تھی، اگرچہ بعض رپورٹس کے مطابق نئی سفارتی پوزیشن پر بحث جاری ہے۔