• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجیہ سبھا کیلئے شرد پوار کے نام پر اتفاقِ رائے کی کوشش

Updated: February 26, 2026, 2:56 PM IST | Agency | Mumbai

این سی پی کی رکن پارلیمان سپریہ سُلے نے کانگریس اور ادھو ٹھاکرے سے بات چیت کی۔

Sharad Pawar.Photo:INN
شرد پوار۔ تصویر:آئی این این
این سی پی (شردپوار)کی رکن پارلیمان سپریہ سُلے نے کہا ہے کہ اگر تمام اتحادی پارٹیاںمتفق ہوجائیں تو شرد پوار کو راجیہ سبھا بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پارٹی کے اراکینِ اسمبلی اس سلسلے میں کانگریس کے ممبران سے پہلے ہی رابطہ کر چکے ہیں اور وہ خود دہلی میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کر کے مہاوکاس اگھاڑی کی جانب سے شرد پوار کی امیدواری کو حتمی شکل دینے کی درخواست کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ طبی معائنے کی وجہ سے ابھی تک شرد پوار سے اس موضوع پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں ہو سکی ہے، تاہم جلد اس پر بات ہوگی۔ سپریہ سُلے کے مطابق شرد پوار روبی اسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں اور آج ممبئی پہنچیں گے جہاں آئندہ دو دن تک ان کی صحت کی نگرانی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی کے اندر یہ مضبوط رائے پائی جاتی ہے کہ پارٹی کی نمائندگی راجیہ سبھا میں شرد پوار ہی کوکرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں جینت پاٹل اور ششی کانت شندے نے ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کیلئے وقت مانگا ہے جبکہ سنجے راوت اور انل دیسائی سے بھی اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ 
 
 
مہاراشٹر سے راجیہ سبھا کی ۷؍ سیٹوں کیلئے انتخابات ہونے ہیں جن میں موجودہ عددی طاقت کے حساب سے مہایوتی اتحاد کو۶؍ سیٹیں ملنے کی توقع ہے جبکہ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے )ایک سیٹ جیت سکتی ہے۔ ایم وی اے کے پاس شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے۲۰، کانگریس کے۱۶؍ اور این سی پی (شرد پوار ) کے۱۰؍اراکین ہیں اور کچھ آزاد اراکین کی حمایت بھی حاصل ہے جس سے ایک سیٹ آرام سے جیتی جا سکتی ہے۔ 
بدھ کومہاوکاس اگھاڑی کی میٹنگ بھی منعقد ہونے والی ہے جس میں راجیہ سبھا کی امیدواری پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ 
 
 
آرکسٹرا باروں میں بے ضابطگیوں  پر حکومت کاموقف سخت   
ریاست  میں آرکسٹرا باروں کے نام پر غیر قانونی سرگرمیوں کی بڑھتی شکایات کے بعد ریاستی حکومت نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ضرورت پڑنے پر قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ممبئی سمیت مختلف شہروں میں بیئربار کے کاروبار کی انتظامی نگرانی میں مزید شدت آنے کی توقع ہے۔  وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نےاس تعلق سے  سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور تفریحی لائسنس کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے ضابطے واضح کئے جائیں گے۔  وزیر مملکت برائے داخلہ پنکج بھویئر نے کہا کہ موجودہ قوانین کے مطابق لائسنس جاری کئے گئے ہیں ۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی آرکسٹرا بار کی  قانون کی ۳؍ بار خلاف ورزی ثابت ہونے پر اس کا لائسنس ہمیشہ کیلئے منسوخ کر دیا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK