بہار کے حاشیائی طبقے کی سیاست کا درخشاں ستارہ رام ولاس پاسوان

Updated: October 11, 2020, 11:46 AM IST | Dr Mushtaque Ahmed

انہوںنے نہ صرف اپنی برادری کو حوصلہ بخشا بلکہ دیگر حاشیائی برادریوں کیلئے بھی مشعلِ راہ رہے۔ بہار کی سیاسی تاریخ میں ان کی حیثیت ایک قطب نما کی رہی کہ انہوں نے محروم طبقے کو سیاست کے نشیب وفراز سے آگاہ کرایا اورانہیں ایک شناخت دلوائی

Ram Vilas Paswan - Pic : PTI
رام ولاس پاسوان ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ہندوستان کی سیاست میں حاشیائی طبقے بالخصوص دلت طبقے کی سیاست کو غیر معمولی حیثیت حاصل رہی ہے۔ آزادی سے پہلے حاشیائی طبقے کی بے زبانی کو زبان دینے والے بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر نے آزادی کے بعد بھی اپنی فکری ونظری جنگ جاری رکھی لیکن اس کا اثر جنوبی ہند پر زیادہ پڑا اور شمالی ہند میں دلت طبقے کی سیاست کو کوئی خاص مقام حاصل نہیں ہو سکا۔بس نام کیلئے ایک دو چہرے ابھرتے رہےلیکن ۶۰ء کی دہائی میں جب سوشلسٹ پارٹی کا زور بڑھا تو بہار میں دلت اور پسماندہ طبقے کی صف بندی شروع ہوگئی۔ پسماندہ طبقے کی قیادت آنجہانی کرپوری ٹھاکر نے سنبھالی اور دلت طبقے کی قیادت رام ولاس پاسوان کے حصے میں آئی ۔ وہ جب پٹنہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور ہریجن ہاسٹل میں ان کا قیام تھا، اسی وقت وہ سوشلسٹ تحریک سے نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ اس کی رکنیت بھی اختیار کی اور جب ۱۹۶۷ء میں اسمبلی انتخاب ہوا تو وہ پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ رام ولاس پاسوان نے بہار پبلک سروس کمیشن کا امتحان بھی پاس کیا تھا اور وہ پولیس سروس کیلئے منتخب بھی ہوگئے تھے۔ ٹریننگ میں جانے ہی والے تھے کہ اسمبلی انتخاب کا اعلان ہوا اور وہ اس انتخابی عمل میں شامل ہو کر ممبر اسمبلی بن گئے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے دنیائے سیاست میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ ہمیشہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔
 جے پی (جے پرکاش نارائن) تحریک میں ان کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور ۱۹۷۷ء میں ریکارڈ ووٹوں سے رکن پارلیمانمنتخب ہوئے۔ وہ مسلسل پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوتے رہے۔اپنی ۵۰؍ سالہ سیاست میں محض ایک دوبار وہ انتخاب ہارے لیکن پھر وہ راجیہ سبھا پہنچے۔ انہوں نے دلت سینا بنائی اور پورے ملک میں اس تنظیم کے استحکام کیلئے تحریک چلائی۔ آج ہندوستان کا شاید ہی کوئی خطہ ہوگا جہاں دلت سینا کی تنظیم نہ ہو ۔ ۱۹۸۹ء میں جب وی پی سنگھ کی قیادت میں جن مورچہ کی تشکیل ہوئی تو اس میں رام ولاس پاسوان اور شرد یادو نے ایک اہم کردارادا کیا۔وی پی سنگھ وزیر اعظم منتخب ہوئے اور ان کی کابینہ میں آنجہانی پاسوان مرکزی وزیر بنے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کےسینٹرل ہال میں بابا صاحب امبیڈکر کا مجسمہ نصب کروایا۔
  واضح ہو کہ بابا صاحب کے انتقال کے بعد ہی سے سینٹرل ہال میں بابا صاحب کا مجسمہ نصب کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔جب منڈل کمیشن کے نفاذ کا وقت آیا تو ا س میں بھی رام ولاس پاسوان کا اہم کردار رہااور جب اس کی مخالفت ہوئی تو رام ولاس پاسوان ہی نے  وی پی سنگھ کے ساتھ مورچہ سنبھالا اور منڈل کمیشن مخالفوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔ اس کے بعد قومی سطح پر رام ولاس پاسوان دلت سیاست کے درخشاںستارہ کے طورپر نمایاں ہوئے اور آخری وقت تک وہ چمک قائم رہی ۔ کانشی رام ہوں کہ مایا وتی کسی نے بھی رام ولاس پاسوان کے سیاسی قد کی برابری نہیں کی ۔مایاوتی نے بہار میں رام ولاس پاسوان کی سیاست کے زور کو کم کرنے کیلئے کم جدوجہد نہیں کی۔ انہوں نے کئی بار یہاں بہار اسمبلی کے انتخاب میں اپنے امیدوار اتارے لیکن وہ رام ولاس پاسوان کے سحر کو کم نہیں کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کانشی رام کے انتقال کے بعد رام ولاس پاسوان شمالی ہند میں دلت حاشیائی طبقے کی سیاست کے استعارہ بن گئے۔ اگرچہ ان پر یہ الزام بھی رہا کہ وہ سوشلسٹ کی کوکھ سے جنم لئے تھے اور سیکولرزم کے علمبردار تھے لیکن حالیہ دہائی میں وہ این ڈی اے کے ساتھ رہے۔ ان کے دیرینہ رفیق لالو پرساد یادو انہیں موسمی سائنسداں کہتے تھے لیکن اس کے باوجود رام ولاس پاسوان کی سیاست کا ستارہ کبھی گردش میں نہیں رہا۔
 گزشتہ پارلیمانی انتخاب میں انہوں نے اپنے بیٹے چراغ پاسوان کو بھی پارلیمنٹ کی راہ دکھائی اور اب وہ اپنی پارٹی کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ آنجہانی رام ولاس پاسوان چوں کہ زمینی سطح کی سیاست سے جڑے تھے، اسلئے ان کے اندر کبھی بھی تکبر او ر غرور نہیں آیا ۔ وہ دلت طبقے کے ایک آئیڈیل بن چکے تھے۔ بالخصوص شمالی بہار میں پاسوان ذات جسے دُسادھ برادری کہی جاتی ہے، اس طبقے میں سیاسی شعور کو بیدار کرنے میں انہوںنے غیر معمولی رول ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہار کی سیاست میں پاسوان برادری ہر ایک سیاسی جماعت کیلئے مجبوری بن گئی ہے۔ سماجی انصاف کا نعرہ دینے والے رام ولاس پاسوان ، شرد یادو، لالویادو اور نتیش کمار کبھی ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر حاشیائی طبقے کو سیاست میں سرگرم کرنے کی مہم میں شامل رہے لیکن بعد کے دنوں میں کبھی ساتھ تو کبھی الگ ہو کر اپنے سیاسی وجود کا پرچم بلند کرتے رہے۔ رام ولاس پاسوان نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی جس کا نام لوک جن شکتی پارٹی رکھا۔
  ۲۰۰۵ء کے اسمبلی انتخاب میں ان کی پارٹی کے۲۹؍ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے لیکن اس انتخاب میں کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ۔رام ولاس پاسوان کیلئے یہ سال بہت اہم تھا کہ وہ اپنی سیاسی پارٹی کیلئے ایک خاص مقام بنا سکتے تھے لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور ان کی پارٹی کے کئی ممبرانِ اسمبلی ادھر سے اُدھر ہوگئے لیکن رام ولاس پاسوان نے اپنی سیاسی جماعت کے ڈھانچوں کو مستحکم کرنے کیلئےمسلسل کوشاں رہے ۔ رام ولاس پاسوان کی شخصیت اور ان کے کارنامے پر ان کی حیات میں بھی کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ انہیں قومی اور بین الاقوامی انعامات سے نوازا جا چکا تھا ۔ وہ امبیڈکر اور لوہیا دونوں سے فکری اور نظری طورپر متاثر تھے۔  یہی وجہ ہے کہ وہ یوپی اے کی حکومت میں بھی اپنی بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کرتے تھے اور این ڈی اے میں بھی اپنی بات منوانے کی قوت رکھتے تھے۔ حالیہ دنوں میں جب ان کی صحت گرتی جا رہی تھی تو شاید انہیں یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہ اب اپنی پارٹی کیلئے اپنا جانشیں مقرر کردیں لہٰذا انہوں نے اپنے بیٹے چراغ پاسوان کو پارٹی کی کمان سونپ دی تھی۔ 
 رام ولاس پاسوان نہ صرف انفرادی طورپر سیاست میں فعال رہے بلکہ اپنے خاندان کے کئی افراد کو سیاست کی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کے چھوٹے بھائی رام چندر پاسوان دوبار ممبر پارلیمنٹ رہے۔ گزشتہ سال ان کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے پرنس پاسوان کو پارلیمنٹ میں پہنچوایا۔ ان کے دوسرے بھائی پارس جی دو دہائیوں سے بہار اسمبلی کے ممبر ہیں۔اس کے علاوہ درجنوں ایسے دلت لیڈر ہیں جنہیں انہوں نے سیاست کی دنیا میں نہ صرف داخل کیا بلکہ اسے عروج تک پہنچایا۔ آنجہانی پاسوان نے نہ صرف اپنی برادری کو حوصلہ بخشا بلکہ دیگر حاشیائی برادری کیلئے بھی وہ مشعلِ راہ رہے۔غرض کہ بہار کی سیاست کی تاریخ میں رام ولاس پاسوان کی حیثیت ایک قطب نما کی ہے کہ انہوں نے حاشیائی طبقے کو سیاست کے نشیب وفراز سے آگاہ کرایا ،انہیں ایک شناخت دلوائی اور انہیں اپنے جمہوری قوت کا احساس دلایا۔جس کی بدولت آج بہار کی سیاست میں دلت سیاست کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے ۔
 یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ رام ولاس پاسوان کی سیاست کا محور ومرکز دلت طبقہ ضرور رہا لیکن ان کی بیباکی اور حق گوئی نے انہیں دیگر پسماندہ اور محروم طبقے کے درمیان بھی سرخروئی عطا کی۔بالخصوص مسلم اقلیت طبقے میں بھی انہیں مقبولیت حاصل رہی اوروہ اقلیت طبقے کے ساتھ جب کبھی نا انصافی ہوئی تو آواز بلند کی۔یہ اور بات ہے کہ این ڈی اے میں جانے کے بعد ان کے تیور میں تبدیلی ضرور واقع ہوگئی تھی لیکن شروع کے دنوں میں وہ تمام محروم طبقے کے ہیرو بن کر اُبھرے تھے اور ہندوستان کی سیاست کے وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے ریکارڈ ووٹ حاصل کرکے اپنا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرایا تھا۔ ان کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا نہ صرف دلت طبقے کانقصان ہے بلکہ سماجی انصاف کی سیاست  کیلئے ایک بڑا خسارہہے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK