رمضان ایک دَور کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دَور کا آغاز ہے

Updated: May 06, 2022, 2:54 PM IST | Syed Abul Hasan Ali Nadwi | Mumbai

رمضان انتہا نہیں، ابتداء ہے۔ رمضان سب کچھ لے کر اور سب نعمتیں تہہ کرکے اور لپیٹ کر نہیں جاتا ہے، وہ بہت کچھ دے کر ، جھولیاں بھر کر اور نعمتیں لٹا کر جاتا ہے ۔ رمضان کے بعد آدمی گناہوں سے ضرور ہلکا ہوتا ہے لیکن ذمہ داریوں سے بوجھل اور گراں بار ہوجاتا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کا مہینہ گزر گیا ۔ اس کے گزرنے سے بہت سے لوگوں پر ایک مایوسانہ کیفیت طاری ہوئی جیسے کوئی عزیز مہمان رخصت ہوجائے اور بہت دنوں میں اس کے آنے کی امید ہو۔ بہت سے لوگوں  پر ایک اطمینانی کیفیت طاری ہوئی جیسے ان کا کام ختم ہوگیا اور اب ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔ یہ دونوں کیفیتں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے منشاء اور رمضان المبارک کی روح اور پیام کے منافی ہیں۔ رمضان اگر رخصت ہوا، تو ایمان اور اس کے تقاضے، شریعت اور اس کے احکام، اللہ تعالیٰ اور  اس سے تعلق بہرحال باقی ہے۔رمضان درحقیقت ایک دور کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دورکا آغاز ہے۔ رمضان انتہا نہیں، ابتداء ہے۔ رمضان سب کچھ لے کر اور سب نعمتیں تہہ کرکے اور لپیٹ کر نہیں جاتا ہے، وہ بہت کچھ دے کر ، جھولیاں بھر کر اور نعمتیں لٹا کر جاتا ہے۔ رمضان کے بعد آدمی گناہوں سے ضرور ہلکا ہوتا ہے لیکن ذمہ داریوں سے بوجھل اور گراں بار ہوجاتا ہے۔ اس سب کے باوجود بہت سے بھائی دل میں کہتے ہوں گے کہ رمضان گیا، اب کیا کریں؟ اس مختصر مضمون میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنا مقصود ہے، یہاں ان باتوں کا تذکرہ کیا جائے گا جو رمضان کے بعد اور ہمیشہ کرنے کی ہیں۔
توبہ و استغفار
سب سے مقدم اور اہم کام توبہ و استغفار ہے جس کے لئے کسی زمانہ اور مقام کی قید نہیں، مگر رمضان المبارک اس کی تحریک اور تقاضا پیدا کرتا ہے، اور اس کو آسان بنا دیتا ہے، تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا رشتہ یا چھوٹا ہوا رشتہ جوڑیں۔ توبہ کی قرآن و حدیث میں اس قدر ترغیب و تاکید ہے اور اس قدر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو ایمان کے بعد سب سے اہم چیز معلوم ہوتی ہے۔ قرآن شریف میں ہے:  ’’اے ایمان والو! تم اللہ کی طرف رجوع اور توبہ کرو تاکہ کامیاب  ہو۔‘‘ (سورہ النور:۲۱)دوسری جگہ ہے: ’’اے ایمان والو! تم اللہ کے حضور رجوعِ کامل سے خالص توبہ کر لو۔‘‘ 
(سورہ الحریم:۸)کہیں کہیں مومنین کے اوصاف بیان کرتے ہوئے بڑی بڑی عبادتوں اور فضیلتوں سے پہلے توبہ کا ذکر کیا گیا ہے:
’’توبہ کرنے والے، عبادت گزار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش، رکوع کرنے والے، سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے۔‘‘ (سورہ التوبہ:۱۱۲)حدیث شریف میں آتا ہے: ’’سارے بنی آدم (انسان) گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔“ (رواہ ابن ماجہ) دوسری حدیث  میں ہے : ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہی نہیں۔‘‘ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو توبہ کرنے والے کی توبہ سے ایسی خوشی ہے جیسے کہ ایک قصہ ہے کہ ایک شخص اپنا سارا سامان و اسباب خوراک ایک اونٹ پر باندھ کر ایک ریگستان کا سفر کررہا تھا، اس کا اونٹ کھو گیا، وہ شخص اپنی زندگی سے مایوس ہوکر مرنے کے  لئے تیار ہوکر سوگیا ، جب اس کی آنکھ کھلی تو اچانک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹ سامان سے لدا سرہانے کھڑا ہے۔ وہ خوشی میں ایسا مست ہوگیاکہ اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے اور کہنے لگا کہ : ’’اے اللہ میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ، تیرا بڑا شکر ہے۔‘‘ 
واقعہ بھی یہ ہے کہ توبہ کرنے والا  انسان اپنے آقا کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ جب بھی وہ واپس آجائے آقا کو خوشی ہونی چاہئے۔ یہ خوشی اس کی ربوبیت ، کرم اور محبت کا ایساہی تقاضا ہے جیسا اونٹ کے مل جانے پر انسان کی خوشی، اس کی بشریت اور احتیاج کا تقاضا ہے۔
توبہ ایک مستقل عبادت ہے
قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ صرف ضرورت ہی کی چیز اور مجبوری کا معاملہ نہیں ہے کہ جب آدمیت کسی معصیت میں مبتلا ہوجائے تو توبہ کرے ، یہ تو فرض واجب ہے اور اس کے بغیر تو  صاحب ایمان کو چین ہونا نہیں چاہئے، بلکہ توبہ ایک مستقل عبادت ہے، قرب اور محبوبیت کا ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعہ سے جو ترقی ہوتی ہے اس کو کوئی عبادت نہیں پہنچ سکتی۔ اسلئے ابرار و صالحین اور مقربین کو بھی اس کی ضرورت ہے۔ وہ جب کسی توبہ کرنے والے پررحمت ِ الٰہی کی بارش اور اس ذات ِ عالی کی نوازش دیکھتے ہیں تو ان کو بڑی بڑی عبادتیںاس کے سامنے ہیچ اور حقیر معلوم ہونے لگتی ہیں، اور وہ اس وقت اس گروہ میں شامل ہونے کی سعی کرتے ہیں جو رحمت الٰہی کا مورد ہوتا ہے۔
سب سے اعلیٰ اور افضل کام: بہرحال، رمضان کے بعد سب سے مقدم اور اہم اور سب سے اعلیٰ و افضل کام یہ ہے کہ ہم اپنے   سارے گناہوں سے توبہ کریں اور وقتاً فوقتاً توبہ کرتے رہیں۔ آنحضرت ﷺ ایک ایک مجلس میں ستر ستر اور بعض اوقات سو سو مرتبہ استغفار کرتے تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیئے تھے۔ (سورہ الفتح:۲)
قارئین عزیز! اس کا خاص اہتمام رکھیں اور توبہ و استغفار کی دولت حاصل کرتے رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہ شخص بڑا خوش قسمت ہوگا جو حشر کے دن اپنے نامۂ اعمال میں استغفار کی کثرت پائے گا۔
ایمان کی تجدید
بہت سے بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان ایک مرتبہ لے آنا کافی ہے، اس کے بعد اس کو تازگی، غذا اور تجدید کی ضرورت نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایمان اسی طرح پرانا ہوجاتا ہے جیسے کپڑا میلا اور پرانا ہوجاتا ہے، اس کو نیا اور اجلا کرتےرہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اس کو کس طرح نیا کریں؟ فرمایا : لا الہ الا اللہ کی کثرت کرو۔ خود قرآن شریف میں ہے: ’’ کیا ایمان لانے والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ ‘‘ (سورہ الحدید:۱۶)
اس آیت کے سننے اور پڑھنے کے بعد بعض صحابہ اپنے دل کی سختی اور بے حسی سے شاید مایوس ہوتے اور سمجھتے کہ دل کی یہ زمین بالکل اوسراور بنجر ہوگئی ہے اور اب اس میں شادابی اور روئیدگی پیدا نہیں ہوگی، تو معاً اس کے بعد ارشاد ہوا: ’’خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ (سورہ الحدید:۱۷) 
ایک آیت میں فرمایا گیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا  ’’اے ایمان والو تم ایمان لاؤ۔‘‘ (سورہ النساء:۱۳۶) یہاں بھی ایمان کی تکمیل و تجدید مراد ہے۔
بہرحال ہر شخص کو اپنے ایمان کی تکمیل و تجدید اور تقویت کی  ضرورت ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں:
ایک سوچ سمجھ کر، شعور و احساس کے ساتھ کلمۂ توحید کی تکرار و کثرت۔ صحابہ کرامؓ سے کہا گیاکہ لا الہ الا اللہ کی کثرت کرو۔
دوسرے، ذکر کی کثرت اور ذکر کی قوت۔ یہ دونوں مستقل چیزیں ہیں۔ عام حالات میں ذکر کی کثرت ذکر میں قوت پیدا کردیتی ہے۔ خاص حالات میں  ذکر کی قوت کثرت کے قائم مقام بن جاتی ہے۔  قوت کے معنی ہیں کہ خاص کیفیات ، توجہ، استحضار  کے ساتھ اللہ کو یاد کیا جائے۔ ان کیفیات و خصوصیات کے ساتھ تھوڑا سا یاد کرنا بھی تھوڑا نہیں ہے اور بڑے اثرات رکھتا ہے، لیکن یہ بات بڑی استعداد یا اعلیٰ یقین یا طویل محنت یا ندامت اور انابت سے پیدا ہوتی ہے۔
تیسری چیز اہل یقین کی صحبت ہے، جس کی کیمیا اثری اور پارس صفتی دنیا کو تسلیم ہے اور قرآن مجید کی اس پر مہر لگی ہوئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
 ’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور صادقین (راست بازوں) کے ساتھ رہو۔‘‘ (سورہ التوبہ: ۱۱۹)
چوتھی چیز اعمال کی کثرت اور مداومت ہے ۔ اس سے بھی ایمان میں جِلا اور قوت و زندگی پیدا ہوتی ہے۔
شریعت کا پاس و لحاظ
رمضان کے بعد اور ہمیشہ کرنے والے کاموں میں شریعت کی پابندی اور فرائض و احکام کی بجا آوری ہے جس کی خصوصی مشق رمضان میں کرائی جاتی ہے۔ لعلکم تتقون، سوچنے  والی بات ہے کہ جب رمضان میںحلال و طیب چیزیں ایک خاص وقت کے اندر ممنوع قرار دی گئی ہیں اور ان پر بندش عائد ہوگئی، تو وہ چیزیں جو سدا سے حرام اور قیامت تک حرام رہیں گی، وہ غیر رمضان میں کیسے جائز ہوسکتی ہیں؟
واقعہ  ہے کہ مومن کے دوروزے ہیں: ایک عارضی اور ایک دائمی۔ عارضی روزہ رمضان میں ہوتا ہے ، صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک، اس میں کھانا پینا اور ممنوعات ِ صوم سب ناجائز ہوتے ہیں، دائمی روزہ بلوغ سے موت تک، اس میں خلاف  شریعت کام اور ممنوعات شرعیہ سب ناجائز ہوتے ہیں ’’اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے ۔‘‘ (سورہ الحجر: ۹۹)۔ کیسے تعجب کی بات ہے کہ عارضی روزے کی پابندی کی جائے اور دائمی روزے کو کھیل بنالیا جائے، جس کا ایک جزو اور ایک حصہ یہ عارضی روزہ ہے، اگر وہ روزہ نہ ہوتا تو یہ روزہ بھی نہ ہوتا ، وہ روزہ صبح صادق سے شروع ہوتا ہے، یہ روزہ کلمہ پڑھ لینے اور اسلام کی حالت  میں زمانۂ بلوغ کے آجانے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ روزہ آفتاب کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے ، یہ روزہ جب تک زندگی کا آفتاب رہتا ہے، باقی رہتا ہے۔ جہاں زندگی کا آفتاب غروب ہوا ، اور طائر روح نے اپنے قفس کو چھوڑا ، وہ روزہ بھی ختم ہوا۔ رمضان گزر گیا ، فرض روزے بھی اس کے ساتھ گئے، مگر  اسلام  باقی ہے اور اس کا طویل اور مسلسل روزہ بھی باقی ہے۔  پہلے کی عید دوگانہ ہے ، جو عید گاہ اور مسجد میں ادا ہوجاتی ہے، دوسرے کی عید وہ حقیقی عید ہے جس کے متعلق شاعر عارف نے کہا ہے:
انبساط عید دیدن روئے تو
عید گاہ ما غریباں کوئے تو 
اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہوںگے ،اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوںگے ۔‘‘  (سورہ القیامہ:۲۳۔۲۲)
رمضان کا خاص تحفہ اور سوغات
رمضان المبارک کا بڑا تحفہ اور عطیۂ ربانی یہ قرآن مجید ہے: ’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔‘‘ (سورہ البقرہ:۱۸۵)
رمضان تو سال بھر کے لئے رخصت ہوا مگر اپنا پیام، اپنا تحفہ اور اپنی سوغات چھوڑگیا۔ ضرورت ہے کہ رمضان گزر جانے کے بعد اس تحفہ سے   اس کی یاد تازہ کی جائے اور   اس کی برکات حاصل کی جائیں۔ شاہِ وقت اپنے کسی منتخب غلام کو کسی قاصد کے ہاتھ تحفہ بھیجے، تو یہ تحفہ اس کی خاص سوغات ہے۔ یہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات کا مظہر ہے۔ اس وقت پورے عالم انسانی میں اور اس زمین کی سطح کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات سے قرب رکھنے والا اور اس کی صفات و کمالات کا پرتو قرآن مجید ہی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو ایک زندہ کتاب کی طرح ہمیشہ پڑھا جائے اور یقین پیدا کیا جائے کہ ہم اللہ کا کلام پڑھ رہےہیں اور اس ذات عالی کے مخاطب اور ہم کلام ہیں۔ اس لئے رمضان کے  بعد کرنے کا چوتھا کام یہ ہے کہ ہم قرآنِ مجید سے اپنا تعلق باقی رکھیں اور اس کی تلاوت نیز اس پر غور و تدبر کو جاری و ساری رکھیں۔
ہمدردی و غمخواری کا مہینہ
رمضان المبارک ہمدردی و غمخواری، امداد و اعانت اور حسن سلوک کا خاص مہینہ ہے۔ اس کو شہر البر والمواساۃ کہا گیا ہے۔ اس کے جانے کے بعد بھی ہمیں اس شعبہ کو  زندہ رکھنا چاہئے اور ان سب بھائیوں کی خبر لیتے رہنا چاہئے جو ہماری امداد و اعانت اورسلوک کے محتاج ہیں۔ موجودہ بے روزگاری اور گرانی نے ان لوگوں کی تعداد بہت بڑھا دی ہے جو پیسہ پیسہ کے محتاج اور دانے دانے کوترستے ہیں اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے۔ رمضان کی تاثیر اور روزے کی قبولیت کی یہ بھی علامت ہے کہ دل میں گداز،  طبیعت میں نرمی اور دل میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو اور رمضان گزرجانے کے بعد بھی خلق خدا پر شفقت، غرباء پر ترس اور پریشاں حال لوگوں کے ساتھ تعاون اور بہتر سلوک کی خواہش اور کوشش ہو۔
 یہ ہیں وہ سب کام جو رمضان کے بعد بھی جاری رہنے چاہئیں اور رمضان جن کے لئے خاص طور پر تیار کرکے جاتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو، جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔‘‘ (سورہ الزمر:۱۸۔۱۷)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK