Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن کریم کی دونوں پیشین گوئیاں پوری ہوئیں:رومیوں کا غلبہ اور مسلمانوں کی خوشیاں

Updated: May 13, 2020, 11:57 AM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

اس سے پہلے پارے کی آخری آیات میں توحید کا بیان چل رہا تھا اور کفار کے انکار کی بات سامنے آئی تھی کہ وہ سمجھانے کے باوجود سمجھ نہیں رہے ہیں اور طرح طرح کے اشکالات کررہے ہیں۔ اس پارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے کہ آپ ان کی حرکتوں پر افسوس نہ کریں بلکہ دو کام کریں، جن میں سے ایک تو تبلیغ بالقول ہے اور دوسرا تبلیغ بالعمل ہے

Quran Kareem - Pic : INN
قرآن کریم ۔ تصویر : آئی این این

اس  سے پہلے پارے کی آخری آیات میں توحید کا بیان چل رہا تھا اور کفار کے انکار کی بات سامنے آئی تھی کہ وہ سمجھانے کے باوجود سمجھ نہیں رہے ہیں اور طرح طرح کے اشکالات کررہے ہیں۔ اس پارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے کہ آپ ان کی حرکتوں پر افسوس نہ کریں بلکہ دو کام کریں، جن میں سے ایک تو تبلیغ بالقول ہے اور دوسرا تبلیغ بالعمل ہے۔ فرمایا اور آپ اس کتاب کی تلاوت کیا کیجئے جو آپ کی طرف بذریعہ وحی بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کیجئے، بلاشبہ نماز بے حیائی سے اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو جانتا ہے۔ آگے غیرمسلموں سے مناظرے اور مجادلے کا ایک اصول بیان فرمایا کہ آپ اہل کتاب سے مباحثہ مت کیا کریں، ہاں اگر اچھے طریقے سے ہو (تو کوئی حرج نہیں)،  اہل کتاب میں بھی جو ظالم ہیں ان کو چھوڑ کر (مباحثہ کرسکتے ہیں) اور (ان سے) کہہ دیجئے کہ ہم اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر نازل ہوئی ہے، ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کو مانتے ہیں۔ اس کے بعد اہل کفر کے عذاب اور اہل ایمان کے اجر وثواب کا کچھ ذکر ہے۔ کفار کے متعلق فرمایا کہ وہ سب باتیں اچھی طرح جانتے ہیں اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کس نے پیدا کئے، سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا تو وہ جواب میں کہیں گے کہ اللہ نے، پھریہ کدھر کا دھوکا کھارہے ہیں۔ اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی برسا کر اس کے ذریعہ مُردہ زمین کو زندگی کس نے بخشی، وہ ضرور یہ کہیں گے اللہ نے، اس کے باوجود وہ کھلے دل سے اللہ کی حقانیت کا اعتراف نہیں کرتے اور دنیا کی چند روزہ زندگی میں مست ہیں، حالانکہ دنیا کی یہ زندگی ایک کھیل کود کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل زندگی تو عالم آخرت ہے، کاش یہ بات جان لیں۔ جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اس وقت خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں صحیح سلامت خشکی پر لے آتا ہے تو (پھر) شرک شروع کردیتے ہیں۔ آگے فرمایا مکے کے مشرکین یہ بات نہیں جانتے کہ ہم نے (مکّے کو) پُر امن حرم بنادیا ہے، حالاں کہ ان کے گردوپیش کے لوگ بد امنی اور فتنہ وفساد کی وجہ سے اچک لئے جاتے تھے، اس کے بعد بھی وہ باطل کو مانیں گے اور اللہ کی نعمت کا انکار کریں گے۔ اس سورہ کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے، یقیناً اللہ اچھے عمل کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ 
اگلی سورہ کا نام الروم ہے۔ اس سورہ  میں دو پیشین گوئیوں کا ذکر ہے اور یہ دونوں پیشین گوئیاں اس وقت کی جا رہی ہیں جب مکّہ کے مظلوم اور بے کس مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ مگر چند سال کے بعد قرآن کریم کے مطابق واقعات رونما ہوئے، اس سے بڑھ کر قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کی کیا دلیل ہوسکتی ہے، ان پیشین گوئیوں کو سمجھنے کے لئے اس وقت کے حالات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے آٹھ سال قبل قیصر روم ماریس کے خلاف فوکاس نے بغاوت کرکے اس کو اور اس کے بیوی بچوں کو قتل کر ڈالا اور سلطنت پر قابض ہوگیا۔ ایران کا بادشاہ خسرو پرویز قیصر روم کا احسان مند تھا، کیوں کہ اسی کی وجہ سے اسے ایران کی حکومت نصیب ہوئی تھی۔ جب اس نے قیصر روم کے متعلق یہ واقعات سنے تو ۶۰۳ء میں روم کی نئی حکومت کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے در پے شکست دیتا ہوا ایشیائے کوچک میں ایڈیسا اور دوسری طرف شام میں حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت نے جب یہ دیکھا کہ فوکاس شکست کھا رہا ہے تو انہوں نے افریقہ کے گورنر سے مدد مانگی۔ اس نے اپنے بیٹے ہرقل کو ایک بڑی فوج کے ہمراہ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ فوکاس کو اقتدار سے بے دخل کردیا اور خود قیصر روم بن گیا۔ سب سے پہلے اس نے فوکاس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے قیصر روم ماریس کے ساتھ کیا تھا، یہ  ۶۱۰ء کا واقعہ ہے۔ اسی سال سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم خلعت نبوت سے سرفراز کئے گئے تھے۔ فوکاس کے زوال کے بعد بھی خسرو پرویز نے جنگ جاری رکھی اور رفتہ رفتہ یہ جنگ مجوسیت اور عیسائیت کے درمیان ہوگئی۔ یہودی خسرو پرویز کی طرف تھے، یہاں تک کہ اس کی فوج میں بڑی تعداد میں بھرتی بھی ہوئے۔ ہرقل خسرو پرویز کا بہت زیادہ مقابلہ نہ کرسکا، پہلے انطاکیہ فتح ہوا، پھر دمشق ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا، ۶۱۴ء میں بیت المقدس مفتوح ہوگیا۔  اس وقت مکہ میں الگ ہی حالات تھے، قریش مکہ مٹھی بھر مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے، مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد گھر بار چھوڑ کر حبش چلی گئی جو روم کی حلیف ایک عیسائی سلطنت تھی، اس وقت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر طرف تھا، مکہ کے مشرکین اس پر خوش تھے اور کہتے پھر تے تھے کہ آتش پرست ایرانی فتح پر فتح حاصل کئے جارہے ہیں اور آسمانی کتاب والے (عیسائی) شکست پر شکست کھاتے چلے جارہے ہیں۔ ان حالات میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایران کے شہ زوروں کے سامنے روم کے شکست خوردہ عیسائی غلبہ بھی پاسکتے ہیں۔ قرآن کریم نے پیشین گوئی کی ’’الم! روم قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں اور اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر اندر وہ غالب آجائیں گے، اللہ ہی کے لئے ہے ہر اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس دن (روم کے غلبے والے دن) مسلمان اللہ کی فتح ونصرت پر خوشیاں منائیںگے، اللہ جس کو چاہتا ہے فتح سے ہمکنار کرتا ہے، وہ زبردست رحم والا ہے، یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ (یہ بات) نہیں جانتے۔ ‘‘ 
قرآن کریم کی یہ دونوں پیشین گوئیاں پوری ہوئیں، ایک رومیوں کے غلبے کی، دوسرے مسلمانوں کی خوشیوں کی، یہ ۶۲۴ء  کا سال ہے۔ نزول سورہ کے لگ بھگ آٹھ سال بعد قیصر روم نے زر تشت کا مولد تباہ کردیا اور ایران کے سب سے بڑے آتش کدے کو مسمار کرکے اپنی شکست کا بدلہ لے لیا۔ یہ وہ وقت ہے جب بدر کی جنگ میں مسلمان کامیابی حاصل کرکے خوشیاں منا رہے تھے، دوسری طرف وہ اس خبر سے بھی خوش تھے کہ قرآنی پیشین گوئی کے مطابق رومی کامیاب ہوگئے۔یہ سورہ اس عظیم الشان پیشین گوئی کے ساتھ اسی طرح کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں کافروں کی ضد، عناد اورکفر وتکذیب کا بار بار ذکر کیا گیا ہے اور سابقہ امتوں کے مکذبین ِتوحید ورسالت کا انجام ان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اسی ضمن میں قیامت کے اہوال اور احوال کا لرزہ خیز ذکر بھی ہے تاکہ کچھ تو کفار کے دل حق بات سننے کیلئے آمادہ ہوں، باری تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت پر بھی دلائل ہیں، اخیر میں حضوراکرم ﷺ کو تسلی اور تشفی بھی دی جارہی ہے  کہ آپ ان حالات میں صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ برحق ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ اس وعدے کو ہرگز ہلکا نہ پائیں گے۔ 
اگلی سورہ لقمان ہے، اس سورہ میں بتلایا گیا ہے کہ شرک ایک لغو اور غیر معقول کام ہے اس کے برعکس توحید میں صداقت بھی ہے اور معقولیت بھی ہے، اس لئے مشرکین کو چاہئے کہ وہ باپ دادا کی تقلید چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ دعوت پر غور کریں۔ سورہ کی ابتدا قرآن کریم کی تعریف سے ہوتی ہے۔ نضر بن الحارث نامی ایک شخص کچھ افسانوی واقعات کی کتابیں خرید کر لاتا تھا اور لوگوں کو قرآن کے مقابلے میں سنایا کرتا تھا اور قرآنی آیات کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آگے اللہ تعالیٰ کی کاریگری کا ذکر ہے کہ اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا، تم ان کو دیکھ رہے ہو، اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ وہ تمہیں ڈانوا ڈول نہ ہونے دے اور اس نے زمین میں ہر طرح کے جانور پھیلائے اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر زمین سے عمدہ عمدہ چیزیں اُگائیں، یہ ہے اللہ کی تخلیق، اب مجھے بتلاؤ کہ دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حضرت لقمان پیغمبر نہیں تھے، مگر ایک نیک وبرگزیدہ اور صاحب عقل وتدبر شخص تھے، قرآن کریم نے ان کا ذکر اس طرح کیا ہے: ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار (بندے بن کر) رہو اور جو شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرے گا بلاشبہ اللہ بے نیاز اور لائق تعریف ہے۔ آگے فرمایا کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کے متعلق سخت تاکید کی ہے، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے رحم میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھٹا، تو میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کیا کر کہ میری ہی طر ف تیرا ٹھکانہ ہے اور اگر وہ تجھ پر یہ دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ کسی ایسے کو شریک کر جس کے متعلق تجھے کوئی علم نہ ہو تو ان کی بات مت ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ اس کے بعد حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا، اللہ تعالیٰ رائی کے دانے کے برابر چیز پر بھی مطلع ہے، نماز پڑھتے رہنا، اچھائی کے لئے کہتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا، لوگوں سے بے رخی اختیار مت کرنا اور نہ زمین میں اکڑ کر چلنا، اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرنا اوراپنی آواز پست رکھنا۔ ان نصیحتوں کے بعد خدا تعالیٰ کی قدرت اور صناعی کے کچھ اور مشاہدات بیان کئے جارہے ہیں۔ یہ سورہ اس آیت پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے رحم مادر میں کیا ہے، کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرنے والا ہے اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس زمین میں جاکر مرے گا، بلاشبہ اللہ علیم وخبیر ہے۔ 
سورۂ الم سجدہ میں کفار سے فرمایا گیا کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے ، اسے تم افتراء کیسے کہہ سکتے ہو جب کہ اس کا منزل من اللہ ہونا واضح ہوچکا ہے۔ قرآن نے جو باتیں تمہارے سامنے رکھی ہیں ان پر غور کرو، کون سی بات حیرت کی ہے، آسمان وزمین کی تخلیق پر اور خود اپنی تخلیق پر غور کرو، یہ نظام کائنات تمہیں کیا بتلا رہا ہے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ کی باتیں سن کر مذاق اڑاتے ہیں اور آپ سے فیصلے کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ جب فیصلے کی گھڑی آجائے گی تو تمہارے لیے کوئی بھی چیز مفید نہیں ہوگی۔ سورۂ احزاب میں تین تاریخی واقعات بیان کئے گئے ہیں، ایک غزوۂ احزاب، دوسرے غزوۂ بنی قریظہ، تیسرے حضرت زینبؓ سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح، اس سورہ  میں بعض اہم معاشرتی اور تمدنی احکام بھی ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK