ہر الزام کو بے دلی سے خارج کرنے والے الیکشن کمیشن نے محض ڈیڑھ دو دن میں دو بڑے فیصلے کئےہیں۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان فیصلوں کو فیصلہ کہا جائے یا فیصلے میں غیر معمولی ترمیم۔ مگر یہ ہوا ہے۔ ایک ہے ۱۷؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسپیشل سمری رویژن (ایس ایس آر) ہوگا۔
ہر الزام کو بے دلی سے خارج کرنے والے الیکشن کمیشن نے محض ڈیڑھ دو دن میں دو بڑے فیصلے کئےہیں۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان فیصلوں کو فیصلہ کہا جائے یا فیصلے میں غیر معمولی ترمیم۔ مگر یہ ہوا ہے۔ ایک ہے ۱۷؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسپیشل سمری رویژن (ایس ایس آر) ہوگا۔ دوسرا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ریڈیبل پی ڈی ایف کاپیاں دی جائینگی۔ یہ دونوں ہی فیصلے اگر بہت پہلے کرلئے گئے ہوتے تو کمیشن کو اتنی گھبراہٹ میں یہ اعلان نہ کرنا پڑتا۔ دس دوران گزشتہ روز (۱۶؍ اکتوبر کو) دہلی میں بڑے پیمانے پر سی جے پی کا ترنگا مارچ جاری تھا۔ مین اسٹریم کے ٹی وی چینلوں نے اسے فلاپ اور ناکام بتانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر ماننا ہوگا اُن مظاہرین کو، جو پولیس کی بھاری موجودگی اور ہزار پابندیوں کے باوجود ترنگا مارچ نکالنے میں نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ نیہا بورا جیسی ایکٹیوسٹ نے جس طرح جدوجہد کی اور حراست کو ٹالنے کی کوشش کرتی رہیں اُس کے مناظر دیکھئے تو انداز ہ ہوگا کہ اس طالبہ میں کتنا جوش ہے، کیسا جنون ہے اور اس پر ایس آئی آر بند کروانے یا ردّ کروانے کی کیسی دھن سوار ہے۔ نیہا پولیس کے ہاتھوں پکڑی جاتی رہیں اور پولیس کے ہاتھوں سے چھوٹتی بھی رہیں۔ کسی ایک لمحے میں بھی محسوس نہیں ہوا جیسے وہ کمزور پڑ رہی ہوں یا تھک گئی ہوں۔ خوف تو جیسے اُنہیں چھو‘ کر بھی نہیں گزرا۔ آشوتوش رانکا اور سورو داس ہنوز جیل میں ہیں جبکہ ابھیجیت دیپکے کو کل صبح صبح اُن کی قیام گاہ سے حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: کبھی مل جائیں سرسید تو عید ِ جین زی ہوجائے!
پولیس کی کوشش یہی تھی کہ ترنگا مارچ ناکام ہوجائے مگر سی جے پی کے رضاکاروں کے جوش و خروش کے سبب پولیس کو کافی مزاحمت کرنی پڑی، اس کے باوجود مارچ ناکام نہیں ہوا۔ جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں، ترنگا مارچ جاری ہے۔ ان سب کے درمیان الیکشن کمیشن کا بار بار ضابطوں کو بدلنا اور ’’غلطیوں کو سدھارنا‘‘ کیا سمجھاتا ہے؟ جب سے ایس آئی آر شروع ہوا ہے تب ہی سے ایس ایس آر بند تھا جس کے تحت ووٹنگ کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کو بحیثیت ووٹر رجسٹر کیا جاتا ہے۔ اسے دوبارہ جاری کرنا اچھی بات ہے مگر جاری کرنے سے پہلے یہ جواب دینا یا وضاحت کرنا ضروری تھا کہ اسے بند کیوں کیا گیا تھا؟ کیا اس لئے کہ نئے ووٹرس (جو جین زی ہیں اور برہم ہیں)، فوری طور پر ووٹر نہ بن سکیں اور ووٹوں کے ذریعہ اپنے غم و غصہ کا اظہار نہ کرسکیں؟ جہاں تک دوسرے فیصلے کا تعلق ہے، وہ ریڈیبل پی ڈی ایف کی فراہمی ہے جس کا مطالبہ راہل گاندھی نے کئی بار کیا۔ تب اُن کی بات نہیں مانی گئی۔ وہ دستاویزات کے پلندے لے کر پریس کانفرنس کرنے آئے۔ اب دونوں فیصلے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ایک طرف اپوزیشن اور دوسری طرف سی جے پی اور جین زی کے لگاتار آندولن کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو قدم پیچھے لینے پڑ رہے ہیں مگر چند قدم پیچھے لینے سے نہ تو راستہ بدلتا ہے نہ ہی سمت۔ نیت بدلنے کا تو سوال ہی نہیں جبکہ ضروری ہے کہ کمیشن راستہ بھی بدلے، سمت بھی اور نیت بھی۔