• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کبھی مل جائیں سرسید تو عید ِ جین زی ہوجائے!

Updated: October 17, 2026, 4:30 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

ایسا نہیں ہوسکتا۔ سرسید کو گزرے سوا سو سال گزر چکے ہیں مگر یہ نئی نسل جو سابقہ نسلوں کے مقابلے میں زیادہ باخبر ہے، کچھ جاننے کی خواہشمند رہتی ہے بشرطیکہ ذرائع معتبر ہوں۔ سرسید سے ملے تو وہ اُنہیں بغور سنیں گے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

صحافتی مضمون نگاروں کے ساتھ سب سے بڑی دقت یہ سوال ہوتا ہے کہ اب کیا لکھا جائے۔ اب کیا لکھا جائے میں ’’کیا لکھا جائے‘‘ اتنا اہم نہیں جتنا ’’اب‘‘ ہے اس لئے کہ جب مضمون نگار مختلف موضوعات پر غور کرتا ہے تب اُس کے ذہن کے کینواس پر موضوعات اُبھرتے رہتے ہیں۔ ایک موضوع آتا ہے، وہ اسے مسترد کردیتا ہے کہ اس پر تو لکھ چکا ہوں۔ دوسرا موضوع آتا ہے اور اس بار بھی وہ اُسے مسترد کردیتا ہے کہ اس پر بھی لکھ چکا ہوں۔ اس طرح موضوعات آتے رہتے ہیں اور مسترد ہوتے رہتے ہیں۔ بسا اوقات اس کے برعکس صورت حال ہوتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ بیک وقت کئی موضوعات ذہن میں موجود ہوتے ہیں اور فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کس موضوع کا انتخاب کیا جائے۔

آج جب مَیں یہ مضمون لکھنے بیٹھا ہوں، میرے ساتھ یہی دشواری ہے کہ بیک وقت کئی موضوع سامنے ہیں۔ خیال آتا ہے کہ  یوم سرسید کی مناسبت سے سرسید کو یاد کیا جائے۔ یہ بھی خیال آتا ہے کہ جین زی کو سراہا جائے جس کی بدولت حالات کچھ اس طرح بدلے ہیں اور تسلسل کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ جین زی اب تک کی پہلی نسل ہے جس پر گزشتہ چند برسوں میں بہت کچھ لکھا جاچکا، لکھا جارہا ہے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ آئندہ بھی لکھا جاتا رہے گا۔ اس طرح ایک طرف یوم سرسید، دوسری طرف جین زی۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ سرسید اور جین زی کو روبرو کردیا جائے۔ اس خیال کے آتے ہی ذہن پر ایک تصویر سج گئی۔ اس تصویر میں جنابِ والا سرسید تشریف فرما ہیں اور جین زی سے گفتگو کررہے ہیں۔ سرسید کو دیکھ کر کسی بھی زاویئے سے محسوس نہیں ہوتا کہ وہ جین زی کے ساتھ تکلف یا تردد کی کیفیت میں ہیں۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ اتنی ہی سہولت سے گفتگو کررہے ہیں جس سہولت کے ساتھ محمڈن کالج کے طلبہ سے کرتے رہے ہونگے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہ خوش آئند ہے!

 باتوں باتوں میں اُن کے چہرے پر مسکراہٹ کا ترشح ہوتا ہے، باتوں باتوں میں سردیوں کی دھوپ جیسی سنجیدگی پھیل جاتی ہے، باتوں باتوں میں چہرے پر ایسا تاثر آتا ہے جیسے جین زی کے سوالوں سے اُن کی طبیعت شگفتہ ہو۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے سرسید مطمئن ہیں کہ وطن عزیز میں یہ نسل علم و تعلم کے سلسلے میں اُن کے خیالات کی ترجمانی کررہی ہے، اُن کے سائنسی فکر کا احیاء کررہی ہے، انگریزی سے واقفیت اور انگریزی میں مہارت کے اُن کے خواب کی تعبیر بن رہی ہے اور افکار و خیالات کی جو وراثت اُس تک پہنچی ہے وہ اس کی قدر کررہی ہے اور اُسے آگے بڑھانے کیلئے بے چین ہے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے بڑی بشاشت کا احساس ہوتا ہے کہ عمروں میں کم و بیش دو سو سال کے تفاوت کے باوجود ان میں عمر، زمانہ اور حالات کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اسے کہتے ہیں افکار و خیالات کی آفاقیت۔ تصور میں مَیں دیکھ رہا ہوں کہ جین زی کے ایک سوال پر جس میں دریافت کیا گیا ہے کہ اہل مغرب سے سیکھنے سکھانے کے معاملے میں ہمارا طور کیا ہونا چاہئے، جنابِ والا جواب دیتے ہیں کہ ’’جو اخلاق و صفات یورپین میں ہیں، وہ ہی نہایت اعلیٰ درجے کی ہیں۔ اگر ہم صدیوں تک کوشش کریں تو شاید وہاں تک پہنچیں مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے نوجوان اُن کی خوبیوں کا تو دھیان تک نہیں کرتےاور اُن میں جو عیب ہوتے ہیں اُن کو اختیار کرلیتے ہیں اور اگر اُن کی کوئی اچھی بات بھی اختیار کرتے ہیں تو اس بُری طرح پر کہ وہ خوبی بھی عیب ہوجاتی ہے۔‘‘

ایک اور سوال جس کا تعلق لٹریری تعلیم سے ہے، سرسید جواب  دے رہے ہیں کہ ’’لٹریری تعلیم سے میری مراد اس تعلیم سے ہے  جس میں علم، ادب، منطق، فلسفہ، ہسٹری، مارل، پولیٹیکل اکنامی، تھیوری آف لیجس لیشن، جورس پروڈنس اور اعلیٰ درجے کی میتھ میٹکس شامل ہو۔‘‘ اس کے فوراً بعد ایک سوال آیا ہے کہ ’’ٹیکنیکل ایجوکیشن کے بارے میں کچھ بتائیے‘‘ تو موصوف فرما رہے ہیں:

یہ بھی پڑھئے: خدا انہیں نظر بد سے بچائے!(۲)

’’سب سے پہلے ہم کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی تعریف سمجھنی چاہئے کہ کیا ہے۔ ابھی تو ہم اور غالباً بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ وہ کیا چیز ہے۔ اگر ہم ان کو جان جاویں تو بآسانی اس بات کا فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اس ترقی کے لئے موجودہ سلسلۂ تعلیم کالجوں اور اسکولوں کو تبدیل کرنا ملک کیلئے بہتر ہے یا مضر اور شاید ہم کو اس بات پر بھی غور کرنے کا موقع ملے کہ وہ چیز جس کا نام ہم ٹیکنیکل ایجوکیشن سنتے ہیں ملک کے کس قسم کے لوگوں کے لئے اور کس درجے تک فائدہ مند خیال میں آسکتی ہے۔ مَیں نے بہت سی کتابوں کو اُلٹا اور لوگوں سے بھی پوچھا مگر ٹیکنیکل ایجوکیشن کی حقیقت مجھ کو نہ کھلی مگر بمبئی کی گورنمنٹ نے ایک رزولیوشن میں مسٹر اسکارٹ رسل کا ایک قول پایا جس کو تصور کیا جاتا ہے کہ وہ ایک عمدہ تعریف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ہے۔‘‘ اس کے بعد سرسید وہ تعریف بیان کرتے ہیں جو مسٹر اسکارٹ رسل نے بیان کی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیشے، تجارت اور حرفے کا مقصد زندگی کے مقصد کو جلد اور کفایت کے ساتھ پورا کرنا ہے۔ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ جو باتیں استفسار طلب ہیں، وضاحت طلب ہیں، جین زی کے افراد وہاں بھی خاموش ہیں، خاموشی سے سن رہے ہیں، شاید اس لئے کہ اُن پر سرسید کی شخصیت کا رعب ہے، اُن کے ذہن میں یہ پس منظر بھی ہے کہ اس عظیم شخصیت نے قلیل وسائل کے باوجود اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا اور وہ خوش نصیب ہیں کہ اُنہیں ایسے بلند مرتبہ شخص کے ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ 

ایسا لگتا ہے کہ جین زی پر ایک تاثر طاری ہے اور اس تاثر کو محسوس کرکے مَیں ایک سروے کی صداقت کا قائل ہوا جارہا ہوں جس میں کہا گیا تھا کہ جین زی جدید آلات کے سائے میں پیدا ہوئی اور اسی کے استعمال سے آگے بڑھی مگر اُس سے پوچھا گیا کہ وہ انسٹا، ٹویٹر وغیرہ وغیرہ میں سے کس ذریعہ کو گفتگو کیلئے پسند کرتے ہیں تو اُن کا جواب تھا کہ ہم دو بدو گفتگو پسند کرتے ہیں۔ اِس وقت جین زی کے نمائندوں کے ذہن میں شاید یہ ہو کہ اُن کے سامنے ایک شخص یا ایک شخصیت نہیں ہے بلکہ ایک تاریخ ہے، ایسی تاریخ جس سے تاریخ کو نئی جہت ملی، جس سے تاریخ نے سرخروئی کا دامن تھاما۔ 

اس ہفتے کے مضمون کیلئے سرسید اور جین زی کے باہمی تعامل کا خیال آتے ہی مجھے مسرت ہوئی اور مَیں اس تعامل کے تانے بانے بن رہا تھا مگر تب تک اتنا لکھ چکا تھا جتنا آپ کے سامنے پیش کرچکا ہوں۔ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ جین زی پر سرشاری طاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK