پڑھنے والے اَدب کے اصل خالق ہیں

Updated: September 13, 2020, 5:30 AM IST | Mohammed Hasan Askari

آج کل ادیب وہ نہیں لکھتے جو ان کا تجربہ کہتا ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں جو پڑھنے والے چاہتے ہیں ۔ اس لئے اگر ادبی فضا کو بدلنا ہے تو تنقید کا رخ ادیبوں کی طرف نہیں بلکہ پڑھنے والوں کی طرف ہونا چاہئے۔ یہی طبقہ ادبی انحطاط کو بھی روک سکتا ہے!

Books - Pic : INN
کتاب ۔ تصویر : آئی این این

 اردو ادب کی موجودہ حالت کے لئے نام تو کئی تجویز کئے گئے لیکن مسئلے کی تفتیش ابھی تک نہیں ہوئی۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ادیب اپنے اندر کسی تبدیلی کے خیال سے ہی پریشان ہوجاتے ہیں، اوپر سے اردو تنقید انہیں لوریاں دیتی رہتی ہے۔ یوں معجزے تو ہر وقت ہی ممکن ہیں لیکن فی الحال خود ادیبوں کے اندر سے کسی معنی خیز تبدیلی پیدا ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ ادب میں تو ایک دو نہیں، بیسیوں عناصر ہوتے ہیں: سماجی، نفسیاتی، فنی وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ادیب اول تو اپنے کام کے بارے میں سوچتے ہی نہیں، جیسا بن پڑتا ہے لکھے جاتے ہیں، لیکن اگر کبھی تھوڑا بہت سوچا بھی تو بس ایک بات لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر سماجی تبدیلیوں کی دھن سوار ہوگئی تو سارا ادب اسی کو سمجھ لیا۔ فن کے پیچھے پڑے تو یہ بھی نہ دیکھا کہ فن پیدا کیوں ہوتا ہے۔ غرض ہر ادیب کوئی چھوٹا موٹا کام  بڑی احتیاط سے سنبھال کے بیٹھ گیا ہے۔ اس لئے ہمارے ادب میں ایک ذہنی بے ربطی کا عالم ہے۔ ہر خیال اپنی جگہ پڑا اس طرح سسکتا رہتا ہے جیسے چھپکلی کی دم کٹ کے رہ گئی ہو۔ ان کٹے چھٹے خیالوں میں کوئی ربط پیدا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟  آج کل کے ادبی ماحول میں اس سوال کا جواب مجھے تو سوجھتا نہیں کیونکہ ادیبوں نے تو بالکل ہمت ہار دی ہے۔ کوئی سیاست سے ڈر گیا ہے، کوئی فن سے، کوئی گروہ بندی سے، اور ادب سے سب ڈرے ہوئے ہیں۔ غرض اب تو کچھ ایسا لگتا ہے کہ ادب کا مستقبل ادیبوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
 چنانچہ ادیبوں کے بارے میں تو کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی بس ایک طبقہ پڑھنے والوں کا رہ گیا ہے جو اس ادبی انحطاط کو روک سکتا ہے۔ اردو ادب کو زندہ رکھنے کا فرض اگر کوئی انجام دے سکتا ہے تو یہ لوگ۔ پڑھنے والوں میں بھی تین گروہ ایسے ہیں جو اگر واقعی پڑھنا سیکھ لیں تو ادیبوں تک کو جگا سکتے ہیں۔ یوں تو پچھلے بیس پچیس سال سے اردو ادب کلرکوں اور طالب علموں ہی کے سہارے جی رہا ہے لیکن اب تو ان دو قسم کے لوگوں کے سوا کسی اور کو ادب سے کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ ایک تیسرا گروہ لڑکیوں کا سمجھئے۔ لڑکیاں ادب تو نہیں پڑھتیں البتہ دلچسپ کتابیں ضرور پڑھنا چاہتی ہیں۔ ان کی اہمیت اس وجہ سے اور بھی زیادہ ہے کہ کتابیں زیادہ تر لڑکیاں ہی خریدتی ہیں۔ چنانچہ ادب کے مستقبل کا سارا دارومدار ان تین گروہوں پر ہے، ادیبوں پر نہیں، کیونکہ آج کل ادیب وہ نہیں لکھتے جو ان کا تجربہ کہتا ہے بلکہ وہ لکھتے ہیں جو پڑھنے والے چاہتے ہیں۔ اس لئے اگر ادبی فضا کو بدلنا ہے تو تنقید کا رخ ادیبوں کی طرف نہیں بلکہ پڑھنے والوں کی طرف ہونا چاہئے۔ اگر انہوں  نے کہیں پڑھنا سیکھ لیا تو ادب کی ترقی کو اردو نقاد تک نہیں روک سکیں گے۔
  اور پڑھنے والوں کی طرف سے مایوس ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ پچھلے پندرہ سال کے عرصے میں جب کبھی ادیبوں  نے نئے ادبی رسائل کی طرف توجہ کی، پڑھنے والوں نے ہمیشہ دلچسپی کا اظہار کیا۔ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ ادیب صرف ادیبوں کیلئے لکھنے لگے اور پڑھنے والوں کو بھول ہی گئے۔ ہمارے پچھلے پندرہ سال کے ادب میں سب سے بڑا حادثہ یہ ہوا کہ تنقید شاعروں اور افسانہ نگاروں کے ہاتھ سے نکل کر خالی خولی نقادوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔  یہ بات نظرانداز کرنے کے قابل نہیں کہ فیضؔ اور راشدؔ نے اپنی اپنی کتاب کا دیباچہ خود لکھا تھا ، یعنی ان دنوں شاعر اور افسانہ نگار کسی نقاد کی مداخلت کے بغیر براہِ راست اپنے پڑھنے والوں سے خطاب کرتے تھے چنانچہ انہیں اپنے تخلیقی کام میں بھی یہ بات یاد رہتی تھی کہ ہمیں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے جانا ہے۔ لیکن جب سے نقادوں کا گروہ وجود میں آیا ہے، لکھنے والے اپنے پڑھنے والوں کو بھول ہی گئے چنانچہ پڑھنے والوں نے بھی اپنے ذہن کو چھٹی دے دی۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ادیب آج کل لکھ تو وہی رہے ہیں جو پڑھنے والے چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ پڑھنے والوں کے پاس دماغ نہیں ہوتا، صرف جذبات ہوتے ہیں، اور پڑھنے والوں نے بھی اپنے ادیبوں کی یہ رائے قبول کرلی۔ اب سے پندرہ سال پہلے ادیبوں کے دل میں پڑھنے والوں کے دماغ کا احترام تھا۔ اس کو مَیں لکھنے والے اور پڑھنے والے کا براہِ راست تعلق کہتا ہوں۔ یہ تعلق آج باقی نہیں رہا۔ دونوں نے اپنا ذہن نقادوں کے حوالے کردیا ہے۔ ادیبوں کی سہل نگاری تو اس درجہ بڑھ چکی ہے کہ ان کے ذہن کو حرکت میں لانے کا کوئی طریقہ میری سمجھ میں تو نہیں آتا، البتہ پڑھنے والوں کی طرف سے مَیں ایسا بدگمان نہیں ہوں۔ غالباً اس کی  وجہ یہ ہے کہ مجھے اپنی کلاسوں میں جن پندرہ بیس طالب علموں سے واسطہ پڑتا ہے، ان میں سات آٹھ تو ضرور ایسے ہیں جو ادب کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ایک ملک میں دوچار ہزار طالب علم اور کلرک بھی ایسے نکل آئیں تو کیا ادب کی حالت نہیں بدل سکتی؟ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو تنقید نے جو راز اب تک چھپائے رکھا ہے اسے فاش کردیا جائے۔ وہ یہ کہ پڑھنے والوں کے پاس بھی دماغ ہوتا ہے۔ اگر پڑھنے والوں کو اس کا پتہ چل گیا تو لکھنے والوں کی تو ضرور کم بختی آجائے گی، لیکن اردو ادب کی وہ حالت نہ رہے گی جو آج ہے۔ میں تو بس یہی آس لگائے بیٹھا ہوں کہ پڑھنے والے بھی اپنے آپ کو پہچانیں ، کیونکہ ادب کے خالق تو اصل میں وہی ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK