اس پس منظر میں انفاق کا اصل مزہ اسی میں ہے کہ انسان خاموشی سے دے، دل میں شکر اور آنکھوں میں عاجزی ہو، اور امید صرف اس ذات سے وابستہ ہو جو نیتوں کا حال جانتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 1:38 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
اس پس منظر میں انفاق کا اصل مزہ اسی میں ہے کہ انسان خاموشی سے دے، دل میں شکر اور آنکھوں میں عاجزی ہو، اور امید صرف اس ذات سے وابستہ ہو جو نیتوں کا حال جانتی ہے۔
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حقیقی لطف اُس وقت ملتا ہے جب انسان کی نیت ہر قسم کی ریا اور نام و نمود و نمائش سے پاک ہو۔ اخلاص دراصل عمل کی روح ہے؛ اگر نیت میں کھوٹ آ جائے تو بڑے سے بڑا صدقہ بھی اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سےجو شخص محض اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہے وہ دراصل اپنے ربّ کے ساتھ ایک خاموش اور مقدس معاملہ کرتا ہے جس میں نہ دنیا کی واہ واہی مطلوب ہوتی ہے اور نہ کسی صلے کی تمنا۔ یہی باطنی پاکیزگی انسان کو وہ قلبی سکون عطا کرتی ہے جو کسی ظاہری تعریف سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ریاکاری سے بچنے کے تعلق سے سخت تنبیہ فرمائی ہے: ’’اے ایمان والو! احسان جتلاکر اورتکلیف پہنچاکر اپنے صدقہ کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرلو، جو اپنا مال لوگوں کے دِکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اﷲ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا، اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر (تھوڑی سی ) مٹی ہو، پھر زور کی بارش ہو اوراسے بالکل صاف کردے، ان کو اپنی کمائی میں سے بھی کچھ ہاتھ نہ لگے گا۔ ‘‘ (سورہ البقرہ:۲۶۴)
اس پس منظر میں انفاق کا اصل مزہ اسی میں ہے کہ انسان خاموشی سے دے، دل میں شکر اور آنکھوں میں عاجزی ہو، اور امید صرف اس ذات سے وابستہ ہو جو نیتوں کا حال جانتی ہے۔ یہی اخلاص صدقے کو فنا سے بقا کی طرف، اور وقتی عمل کو دائمی اجر میں بدل دیتا ہے۔ اسی تناظر میں ہمیں ماہِ رمضان میں خصوصیت کے ساتھ دو بنیادی نکات پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ ہم اپنے اندر انفاق کے جذبے کو شعوری اور عملی طور پر پروان چڑھائیں اور دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم جسے دیتے ہیں اس کی عزتِ نفس کا پورا خیال رکھیں ؛ کیونکہ صدقہ اگر سامنے والے کے وقار کو مجروح کر دے تو وہ خیر کم اور اذیت زیادہ بن جاتا ہے۔
اس موضوع کے تعلق سے ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ اگر اللہ ربّ العزت نے ہمیں مال و وسائل سے نوازا ہے تو ہمیں اس انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہئے کہ کوئی مستحق ہمارے دروازے پر آ کر دست ِ سوال دراز کرے۔ محتاجی خود ایک آزمائش ہے، اور عزتِ نفس رکھنے والا شخص اکثر اپنی ضرورت کو چھپائے رکھتا ہے۔ ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم خود مستحقین کی فکر کریں، خاموشی سے اُن تک پہنچیں، اور ان کی ضرورت کو اس انداز میں پورا کریں کہ نہ ان کی پیشانی پر شکن آئے اور نہ ان کی خودداری مجروح ہو۔ یہ طرزِ عمل دراصل شکر ِ نعمت کا عملی اظہار ہے۔ جو شخص خود قدم بڑھاتا ہے وہ صرف مال نہیں دیتا بلکہ معاشرے میں اعتماد، محبت اور باہمی ہمدردی کی فضا قائم کرتا ہے۔ یہی وہ اعلیٰ اخلاقی درجہ ہے جہاں انفاق محض ایک مالی عمل نہیں رہتا بلکہ ایک روحانی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ رمضان ہمیں اسی طرز عمل کا درس دیتا ہے کہ ہم خیر کے منتظر نہ رہیں بلکہ خیر کے علمبردار بنیں اور ضرورت مندوں تک پہنچ کر اللہ کی رضا کو اپنا اصل مقصود بنائیں۔
ہمیں ایک نہایت قبیح عادت سے بھی اپنے آپ کو بچانا ہے کہ اگر کوئی مستحق ہماری دہلیز تک آ جائے تو اسے طعنے، سوالات اور ادھر اُدھر کی باتوں میں نہ الجھائیں۔ ضرورت مند کا آنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اُس نے اپنی خودداری پر ضبط کر کے مدد کی امید باندھی ہے؛ ایسے میں سخت لہجہ یا تحقیر آمیز رویہ اُس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر دینا ہو تو خوش دلی سے دیں، اور اگر کسی مجبوری کی بنا پر نہ دے سکیں تب بھی نرمی اور احترام کے ساتھ بات کریں۔ قرآنِ مجید کی تعلیم ہے: ’’نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد (اسکی) دل آزاری ہو۔ ‘‘(سورۃ البقرہ:۲۶۳) اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انفاق کی اصل روح صرف مال خرچ کرنے میں نہیں بلکہ دل کی کشادگی اور اخلاق کی لطافت میں ہے۔ اس اعتبار سےجو ہاتھ دیتا ہے وہ اگر مسکراہٹ، احترام اور دعا کے ساتھ دے تو وہ چند سکوں کو بھی عظیم صدقہ بنا دیتا ہے؛ اور جو دل دُکھا کر دے، وہ زیادہ مال دے کر بھی روحِ انفاق سے محروم رہتا ہے۔ رمضان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہمارا دیا ہوا صرف پیٹ نہ بھرے بلکہ دل بھی جوڑ دے۔
اس باب میں ایک انتہائی غیر شرعی اور غیر روحانی رویّہ سوشل میڈیا کے عام ہو جانے سے ہماری زندگیوں میں در آیا ہے کہ اب ہم میں سے بعض لوگ انفاق کو بھی نمائش کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ ضرورت مند کو کچھ دے کر فوراً تصویر کھینچنا، ویڈیو بنانا اور اسے عام کرنا صدقے کو عبادت سے زیادہ تشہیر کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ یاد رہنا چاہئے کہ صدقہ ایک خفیہ معاملہ ہے جو بندہ اور ربّ کے درمیان طے ہوتا ہے؛ جب اسے لائکس اور تبصروں کی نذر کر دیا جائے تو اخلاص کی وہ لطافت مجروح ہونے لگتی ہے جو انفاق کی جان ہے۔ قرآنِ مجید نے ہمیں واضح ہدایت دی ہے: ’’اگر تم صدقہ ظاہر کرکے دو تب بھی اچھی بات ہے اور چھپاکر دو اور دو محتاجوں کو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے نیزاﷲ (اس کو ) تمہارے کچھ گناہوں کیلئے کفارہ بھی بنادیں گے اور اﷲ تمہارے کاموں سے باخبر ہیں۔ ‘‘ (سورۃ البقرہ: ۲۷۱) اس آیت میں اخفاء کو زیادہ فضیلت دی گئی ہے، کیونکہ پوشیدہ انفاق میں ریا کے امکانات کم اور اخلاص کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم سوشل میڈیا کے اس رجحان سے خود کو بچائیں، اور اگر ضرورت کے تحت تشہیر ناگزیر ہو تب بھی مستحق کی عزتِ نفس ہر حال میں ملحوظ رہے۔ انفاق کی روح یہی ہے کہ دینے والے کا نام مٹ جائے اور لینے والے کی عزت سلامت رہے، اور باقی رہے تو صرف اللہ کی رضا۔