Inquilab Logo Happiest Places to Work

دربارِ نبویؐ میں بنوثقیف کےوفد کا استقبال، گفتگواور قبولِ اسلام اورآپؐ کا مکتوب

Updated: January 12, 2024, 2:54 PM IST | Molana Nadimul Wajidi | Mumbai

سیرت النبیؐ کی اِس خصوصی سیریز میں بنوثقیف کا تذکرہ جاری ہے۔ آج کی قسط میں پڑھئے کہ کس طرح آپؐ نے بنو ثقیف کے وفد کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ اس کے علاوہ بنوثقیف کے بت ’لات‘ کے انہدام کا واقعہ بھی پڑھئے۔

The pillars of the Prophet`s Mosque also have a history. Photo: INN
مسجد نبویؐ کے ستونوں کی بھی ایک تاریخ ہے۔ تصویر : آئی این این

بنوثقیف کے وفد کا پرجوش استقبال
حضرت ابوبکرؓ تو خبر دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے، اور حضرت مغیرہ مدینے کے باہر وفد سے ملنے چلے گئے تاکہ انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے آداب سکھلا دیں  شام کے وقت وہ لوگ رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے خندہ پیشانی کے ساتھ ان کا استقبال کیا، ان کے لئے مسجد کے اندر ایک خیمہ ایستادہ کرایا تاکہ وہ لوگ اس میں آرام کرسکیں ، نمازوں کا منظر دیکھ سکیں اور قرآن کریم کی تلاوت سن سکیں۔ خالد بن سعید بن العاصؓ ان لوگوں کے اور رسولؐ اللہ کے درمیان واسطہ بنے رہے۔ ان لوگوں کے لئے دونوں وقت کا کھانا رسولؐ اللہ کے گھروں سے لایا جاتا، مگر وہ تب تک کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے جب تک خالد بن سعید اس کھانے میں سے کچھ کھاکر انہیں یہ اطمینان نہ دلا دیتے کہ کھانے میں زہر کی آمیزش نہیں ہے۔
  وفد میں ایک صاحب تھے، عثمان ابن أبی العاص، قیام کی پوری مدت کے دوران ان کا طرز عمل یہ رہا کہ جب ان کے ساتھی دوپہر کے وقت آرام کرنے کیلئے چلے جاتے تو وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر دین سیکھتے اور قرآن یاد کرتے۔ اگر آپؐ گھر میں تشریف فرما ہوتے تو وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچ جاتے اور ان سے دین کی معلومات حاصل کرتے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے ساتھیوں سے چھپاکر کرتے تھے۔ رسولؐ اللہ کو حضرت عثمان ثقفی کی یہ ادا پسند آئی۔ (سیرۃ ابن ہشام: ۴/۴۱۵، تاریخ الاسلام للذہبی ص:۶۷۰)
 بنوثقیف کے وفد کا قیام کئی روز رہا، اس عرصے میں وفد کے اراکین رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضری دیتے رہے۔ آپؐ نے انہیں اسلام کی دعوت پیش فرمائی، انہوں نے قبول اسلام کیلئے یہ شرط رکھی کہ لات نامی بت کو ان کیلئے چھوڑ دیا جائے اورتین سال تک اس کو منہدم نہ کیا جائے۔ رسولؐ اللہ نے ان کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کردیا، تین ماہ سے وہ ایک مہینے پر آگئے، آپؐ نے اس سے بھی انکار فرمادیا، ان کا خیال تھا کہ لات کو منہدم کرنے سے ثقیف کے بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں میں گھبراہٹ پھیل جائے گی، تین ماہ کی یا ایک مہینے کی مہلت حاصل کرنے سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آہستہ آہستہ قوم کو لات کے انہدام پر راضی کرلیا جائے گا مگر آپؐ ایک لمحے کی مہلت دینے کیلئے بھی آمادہ نہ تھے۔
اس صورت حال میں طے پایا کہ ابوسفیان بن حربؓ اور مغیرہ بن شعبہؓ طائف جاکر لات کو اپنے ہاتھوں سے منہدم کریں گے، اس سے قبل عبد یالیل نے اسلام قبول کرنے کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گفتگو بھی کی:
 یارسولؐ اللہ! کیا آپ ہمیں نماز نہ پڑھنے کی رخصت عطا کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہم تمہیں بتوں کو گرانے کے سلسلے میں یہ رخصت دے چکے ہیں کہ تم انہیں اپنے ہاتھوں سے نہ گراؤ، بلکہ ہمارے آدمی وہاں جاکر انہیں گرادیں ، لیکن نماز کے سلسلے میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس لئے کہ وہ دین ہی کیا جس میں نماز نہ ہو۔ اس پر عبد یالیل نے کہا کہ اے محمدؐ! ہم نماز پڑھیں گے اگرچہ اس میں ہماری ذلت ہی کیوں نہ ہو، اس کے بعد اس نے زنا کی اجازت مانگی، اور یہ عذر پیش کیا کہ ہم دور دراز علاقوں کا سفر کرتے ہیں ، ہمارے لئے عورتوں سے قربت ضروری ہے، ہم اس سے رُک نہیں سکتے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: زنا کی اجازت نہیں دی جاسکتی، یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے: ’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یقینی طور پر وہ بڑی بے حیائی اور بے راہ روی ہے۔‘‘(الاسراء: ۳۲) 
 اس نے کہا کہ سود کے بارے میں کیا فرمائیں گے، سود تو لیا جاسکتا ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ سود حرام ہے، اس نے کہا کہ ہمارے پاس جس قدر بھی مال ہے وہ سب سود کے ذریعے کمایا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنا اصل سرمایہ لے سکتے ہو بس، باقی سود کا پیسہ چھوڑنا پڑے گا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور اگر تم واقعی مؤمن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔‘‘(البقرۃ: ۲۷۸)
اس نے کہا کہ شراب کے بارے میں آپؐ کا کیا خیال ہے، یہ تو ہمارے انگوروں کا رَس ہے، ہم اس کے عادی ہیں ، اس کے بغیر تو ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام فرمائی ہے، میں تمہیں اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں۔‘‘(المائدہ: ۹۰)
 اس بات چیت کے بعد عبد یا لیل اپنے ساتھیوں کے ساتھ تنہائی میں ملا، اس کا کہنا تھا کہ کیا ہم لوگ زنا، سود اور شراب پر پابندی کا عہد کرکے اپنی قوم کے پاس جائیں گے، جب کہ تم لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہو کہ ہماری قوم نہ سود سے باز آسکتی ہے، نہ زنا چھوڑ سکتی ہے اور نہ شراب پینے سے رُک سکتی ہے، اس لئے میری رائے تو یہ ہے کہ یہاں سے واپس چلیں ، جو ہوگا دیکھا جائے گا، سفیان بن عبد اللہ نے کہا: اے شخص! اللہ اگر کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے صبر عطا کردیتا ہے، یہ قوم بھی ایسی ہی تھی جیسے ہم ہیں ، انہوں نے صبر کیا، ان چیزوں کو چھوڑا، آج وہ ایسے ہیں جو ہمیں نظر آرہے ہیں ، پھر یہ بھی دیکھو کہ ہمیں محمد کا خوف بھی تو ہے، وہ ہر طرف چھا گئے ہیں ، اور دن بہ دن غلبہ اور شوکت حاصل کرتے جارہے ہیں ، ہم تو ایک گوشے میں ایک قلعے کے اندر پڑے ہوئے ہیں ، اسلام ہمارے چاروں طرف پھیل چکا ہے، اگر یہ لوگ ایک ماہ بھی ہمارا محاصرہ کرکے بیٹھ گئے تو ہم لوگ بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر جائیں گے۔ میں تو یہی کہوں گا کہ ہمیں اسلام قبول کرلینا چاہئے، ورنہ ہمارا حال بھی مکّے والوں جیسا ہوگا۔
اس گفتگو کے بعد وفد کے لوگوں نے طے کیا کہ اسلام قبول کرنا ہی ہمارے حق میں اور قوم کے حق میں بہتر ہے، چنانچہ وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن ابی العاصؓ کو ان کا امیر مقرر فرمایا، ان کا ذکر ابھی ہوچکا ہے، بنو ثقیف کے وفد میں شامل تھے، مگر باقی اراکین وفد سے چھپ کر دین سیکھتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ایک دن عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں اس لڑکے کو باقی لوگوں کے مقابلے میں دین سیکھنے اور قرآن یاد کرنے کا زیادہ حریص پاتا ہوں ۔ (سنن ابی داؤد: ۳/۳۰۲۹، مسند احمد بن حنبل: ۴/۲۱۸، سیرت ابن ہشام: ۴/۴۱۶) 
بتوں کا انہدام اور قوم کے نام رسولؐ اللہ کا خط
 رسول اللہ ﷺ نے وفد کے اراکین کا اعزاز واکرام بھی کیا، اور ان کی بہترین ضیافت بھی کی، آپ ؐ کے اس حسن سلوک سے وفد کے لوگ بے حد متاثر ہوئے، مگر دین کے معاملے میں رسولؐ اللہ نے کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی، اور نہ ان کا کوئی ایسا مطالبہ مانا جو شریعت کے خلاف ہو۔ مدینہ منورہ میں وفد کا قیام پندرہ دن رہا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ لوگ طائف واپس چلے گئے، کچھ عرصے کے بعد آپ ﷺ نے خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں ایک دستہ تشکیل دیا، اس میں مغیرہ بن شعبہؓ اور ابوسفیان بن حربؓ وغیرہ صحابہ شامل تھے، اس دستے کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی کہ وہ طائف جاکر ان کے مشہور بت لات کو منہدم کردے۔ اس سے پہلے وفد کے لوگ اپنے وطن واپس پہنچ چکے تھے، انہوں نے اپنی قوم کو یہ بات بتلادی تھی کہ ثقیف کیلئے نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ کہ اسلام قبول کرلیا جائے، چنانچہ پورا قبیلہ بنو ثقیف مسلمان ہوگیا، اس کے باوجود جب حضرات صحابہؓ کا دستہ بت کو گرانے کیلئے طائف پہنچا تو قبیلے کے مرد عورتیں یہاں تک کہ بچے بھی اپنے گھروں سے نکل آئے اور رونے چلانے لگے۔ انہوں نے حضرت مغیرہؓ کو بت پر ہتھوڑا چلانے سے روکنے کی کوشش کی، ان کا خیال تھا کہ لات کی نادیدہ طاقت مغیرہ کو ہلاک کر ڈالے گی۔ حضرت مغیرہؓ کے مزاج میں مزاح کا پہلو غالب تھا، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں مصنوعی طور پر گروں گا، تم ثقیف کا ردّ عمل دیکھنا، چنانچہ مغیرہ نے بت کے ہتھوڑا مارا اور زمین پر گر کر تڑپنے لگے، ثقیف کے لوگ چیخ چیخ کر کہنے لگے کہ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ لات اسے ہلاک کردے گا، ہمارے معبود نے اس کو مار ڈالا ہے، اب، خبردار، کوئی آگے نہ بڑھے ورنہ اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا جیسا مغیرہ کا ہوا ہے۔ 
 مغیرہؓ یہ سب سن رہے تھے، اچانک اٹھے، اور لوگوں سے کہنے لگے! بدبختو! یہ محض اینٹ پتھر سے بنا ہوا ایک ڈھانچہ ہے۔ اس کے بعد حضرت مغیرہؓ نے اس بت کوگرا دیا، لات کے پجاری یہ منظر دیکھتے رہے۔ لات کے اندر سے چاندی اور سونے کے زیورات نکلے، یہ تمام مال مغیرہ نے اپنے قبضے میں کرلیا جس جگہ یہ بت کھڑا ہوا تھا وہاں مسجد کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی: ۵/۳۰۳، المغازی للواقدی: ۳/۹۷۲) 
 آپ نے ابھی پڑھا ہے کہ حضرت عروہ بن مسعود ثقفیؓ کو ان کے قبیلے والوں نے محض اس لئے شہید کردیا تھا کہ وہ اسلام قبول کرکے قبیلے میں واپس آئے تھے اور قبیلے والوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے، حضرت عمرو بن مسعود پر کچھ قرض تھا، جس کا مطالبہ ان کے بیٹے ابو ملیح بن عروہ سے کیا جارہا تھا، انہوں نے رسولؐ اللہ سے درخواست کی کہ جو مال لات کے جسم سے بر آمد ہوا ہے اس سے میرے والد کا قرض ادا کردیا جائے، آپ نے ان کی یہ درخواست منظور فرمالی، اس کے بعد قارب نے اپنے باپ اسود بن مسعود ثقفی کے قرض کی ادائیگی کی بھی درخواست کی، آپؐ نے فرمایا: یہ شخص حالت کفر میں مرا ہے، ہم پر اس کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اسود اور عروہ دونوں حقیقی بھائی تھے، قارب مسلمان ہوچکے تھے، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ ایک مسلمان سے صلہ رحمی فرماتے ہیں ، اور بیٹا ہونے کی حیثیت سے اسود کے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ مجھ سے کیا جاتا ہے، رسولؐ اللہ نے ابوسفیانؓ کو حکم دیا کہ وہ اسود کا قرض بھی اسی مال سے ادا کردیں ۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کی، اور باقی مال رسولؐ اللہ کی خدمت میں پیش کردیا۔ (طبقات ابن سعد: ۵/۵۰۴، الاصابہ فی تمییز الصحابہ: ۵/۲۲۳) 
روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوثقیف کو ایک مکتوب بھی روانہ فرمایا، اس میں لکھا تھا کہ یہ خط محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اہل ایمان کے نام ہے، وُجّ کے درخت نہیں کاٹے جائیں گے، اور نہ ان میں شکار کیا جائے گا، جو شخص ان میں سے کچھ کرتا ہوا پکڑا جائے گا اسے کوڑوں کی سزا دی جائے گی، اور اس کے کپڑے اتار لئے جائیں گے، اس کے بعد بھی اس نے اپنی حرکت جاری رکھی تو اسے محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا جائے گا، یہ حکم محمد رسولؐ اللہ کی جانب سے ہے۔ (سیرۃ ابن ہشام: ۴/۴۱۹)۔
اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے روز اول ہی سے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو قبائل اسلام قبول کریں گے ان کو شریعت کے احکام کا پابند بنایا جائے گا اور جو لوگ خلاف ورزی کریں گے ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK