Updated: May 21, 2026, 10:05 PM IST
| Amaravati
اے پی سی آر کے مطابق، مسلم ملزمین کی ذاتی تفصیلات کے ساتھ مکمل شناخت کی گئی، جبکہ غیر مسلم ملزمین کو مبہم طور پر بیان کیا گیا اور ان پر ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ رپورٹ میں مسلمانوں کی غیر قانونی حراست اور حراستی تشدد کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
کڈپا تشدد میں مسلمانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔ تصویر: ایکس
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ آندھرا پردیش کے شہر کڈپا کے الماس پیٹ سرکل پر ۹ مئی کو ”ٹیپو سلطان سرکل“ اور ”ہنومان سرکل“ کے ناموں کے تنازع پر ہونے والے تشدد کے بعد مسلمانوں کے خلاف چنندہ گرفتاریاں، حراستی تشدد اور پولیس کی امتیازی کارروائی کی گئی ہے۔
رپورٹ بعنوان ”سلیکٹیو جسٹس: ڈٹینشن، ٹارچر، اینڈ ریلیجس ٹارگیٹنگ“ (چنندہ انصاف: حراست، تشدد اور مذہبی نشانہ دہی) میں ہنومان جینتی کی تقریبات کے دوران کشیدگی بڑھنے کے بعد ہونے والی جھڑپوں، پولیس کارروائی، ایف آئی آرز، گرفتاریوں اور حراستی تشدد کے الزامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کڈپا میونسپل کارپوریشن کی جانب سے فروری ۲۰۲۶ء میں اس جگہ کا نام تبدیل کرکے ”ٹیپو سلطان سرکل“ رکھنے کی ایک تجویز کے باوجود، جو ابھی تک منظوری کی منتظر ہے، وہاں ”ہنومان سرکل“ کے نام کے بینرز لگا دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: اجمیرکی ۸۰۰؍ سال قدیم مسجد میں پوجا پاٹھ کی اجازت طلب
اے پی سی آر نے بتایا کہ ۹ مئی کی صبح مسلم رہائشی ”ٹیپو سلطان سرکل“ کے بینرز لگانے کیلئے الماس پیٹ سرکل کے قریب جمع ہوئے، اسی وقت بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں کے ارکان ”ہنومان سرکل“ کے بینرز کی حمایت میں دوسری طرف جمع ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے دونوں گروپوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ملی۔
رپورٹ میں ایف آئی آر نمبر ۵۹/۲۰۲۶ اور ۶۰/۲۰۲۶ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پولیس نے الزام لگایا ہے کہ مسلمانوں نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس سے افسران زخمی ہوئے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا، جس کے بعد لاٹھی چارج اور طاقت کا استعمال کرکے ہجوم کو منتشر کیا گیا۔ تاہم، رپورٹ میں شامل شہادتوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ غیر مسلموں کی طرف سے اس وقت پتھراؤ شروع ہوا جب بچوں نے مبینہ طور پر پانی کے خالی پیکٹ پھینکے۔ اے پی سی آر کی طرف سے نقل کئے گئے گواہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی لیڈران اور دائیں بازو کے کارکنوں نے ”پتھراؤ کے ذریعے مسلمانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔“
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں عیدالاضحی سے قبل برادران وطن کے مویشی تاجرسخت پریشان
رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ تشدد کے تھم جانے کے بعد، پولیس نے مسلم اکثریتی علاقوں کی تنگ گلیوں میں مسلمانوں کا پیچھا کیا اور ہجوم کے منتشر ہونے کے بعد بھی لاٹھی چارج جاری رکھا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں تقریباً ۱۰۰ مسلمان زخمی ہوئے اور کئی لوگوں نے مزید پولیس کارروائی کے خوف سے اسپتال جانے سے گریز کیا۔
اے پی سی آر کے مطابق، ایف آئی آر نمبر ۵۹/۲۰۲۶ میں اقدامِ قتل سمیت ناقابلِ ضمانت جرائم کے تحت ۲۷ مسلمانوں کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر ۶۰/۲۰۲۶ء میں مسلم اور ہندو دونوں ملزمین شامل ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مسلم ملزمین کی ذاتی تفصیلات کے ساتھ مکمل شناخت کی گئی، جبکہ غیر مسلم ملزمین کو مبہم طور پر بیان کیا گیا اور ان پر ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعلیٰ یوگی کو نماز سے تو اُن کےکابینی رفیق کو اذان سے پریشانی
رپورٹ میں مسلمانوں کی غیر قانونی حراست اور حراستی تشدد کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم ۲۵ مسلم نابالغوں کو، جن میں سے ایک کی عمر مبینہ طور پر ۱۲ سال تھی، ۹ مئی کو رات ۲ بجے تک حراست میں رکھا گیا اور حراست کے دوران انہیں مار پیٹ، گالی گلوچ اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اے پی سی آر نے مزید الزام لگایا کہ ۲۲ دیگر مسلمانوں کو واقعے میں ”کوئی ملوث نہ ہونے“ کے باوجود کئی دنوں تک حراست میں رکھا گیا۔
تنظیم نے تشدد، پولیس کارروائی، حراستوں، مبینہ حراستی تشدد اور نابالغوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی آزادانہ عدالتی یا مجسٹریٹ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج، پولیس لاگز اور اسپتال کے ریکارڈ کے فارنسک معائنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔