Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’خوش ہوجاؤ، کیونکہ خدا کی قسم اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دے دی ہیں‘‘

Updated: October 06, 2023, 2:38 PM IST | Maulana Wahiduddin Khan | Mumbai

جب مٹی سے بھری ہوئی ٹوکری دیکھ کر لشکر کے امیر کہہ اٹھے:’’خوش ہوجاؤ، کیونکہ خدا کی قسم اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دے دی ہیں۔ ‘‘

Qadisia University. The present Qadisiya is located south of Najaf. Photo: INN
قادسیہ یونیورسٹی۔ موجودہ قادسیہ نجف کے جنوب میں واقع ہے۔ تصویر:آئی این این

ایران حضرت عمر فاروقؓ کے زمانۂ خلافت میں فتح ہواہے۔ اس وقت ایران کی مسلم افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تھے۔ اس جنگ میں ایرانیوں کا کافی نقصان ہوا۔ چنانچہ انہوں نے گفت و شنید کی پیشکش کی۔ حضرت سعدؓ نے مختلف وفود کو رستم اور یزدگرد کے دربار میں بھیجا مثلاً نعمان بن مقرن، فرات بن حیان، حنظلہ بن ربیع ، عطارد بن حاجب ، اشعث بن قیس، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن معدیکرب کے وفود ۔ (البدایہ والنہایہ)
 تاریخ میں ان سفارتوں کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ آخری مرحلہ میں حضرت مغیرہ کا وفد شہنشاہ یزدگرد کے زرق برق دربار میں آیا۔ مدائن کے محل میں انہوں نے انتہائی بے خوفی کے ساتھ تقریر کی۔ یزدگرد اس کو سن کر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم میرے سامنے اس طرح کی باتیں کرتے ہو، اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا کہ ایلچی قتل نہ کئے جائیں تو میں تم کو ضرور قتل کردیتا۔ اب تم واپس جا کر اپنے امیر کو بتادو کہ میں سپہ سالار رستم کی سرکردگی میں ایسا لشکر بھیجنے والا ہوں جو تم سب کو قادسیہ کے خندق میں دفن کردے گا۔
پھر یزدگرد نے محل کے آدمیوں سے کہا کہ ایک ٹوکری میں مٹی بھر کر لاؤ۔ مٹی لائی گئی تو اس نے مسلمانوں کے وفد سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ وفد کے افراد چپ رہے۔ اس کے بعد عاصم بن عمرو بولے کہ میں سب سے زیادہ شریف ہوں ۔ یزدگرد نے حکم دیا کہ مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکائی جائے اور ان کو یہاں سے بھگا دیا جائے یہاں تک کہ وہ مدائن کے باہر چلے جائیں۔
 شاہی حکم کے مطابق مٹی کی ٹوکری عاصم بن عمرو کے گلے میں لٹکا دی گئی۔ وہ اس کو لے کر مدائن کے محل سے نکلے اور اونٹنی پر سوار ہوکر تیزی سے قادسیہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مقیم تھے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے حضرت سعدؓ کو سار ی رودادسنائی اور مٹی کی ٹوکری ان کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد مسلم سردار نے جو جواب دیا وہ یہ تھا:
 ’’خوش ہوجاؤ، کیونکہ خدا کی قسم اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دے دی ہیں اور انہوں نے اس سے ان کے ملک پر قبضہ کی فال لی۔‘‘ (اور پھر ۱۵؍ ہجری میں قادسیہ کی فیصلہ کن جنگ میں رستم اور اس کی فوج ہی قادسیہ کی خندق میں دفن ہوئی۔ سوا لاکھ سے زائد فارسی فوج کے مقابل ۳۰؍ ہزار مسلمان تھے جو بالآخر ان کی زمین کے وارث ہوئے۔)
 یہ مسلمان اگر مٹی پا کر غصہ ہوتے تو ان کے حصہ میں نفرت اور شکایت کے سوا کچھ نہ آتا۔ مگر جب وہ غصہ نہیں ہوئے تو مٹی دینے کا واقعہ ان کیلئے ملک دینے کے ہم معنیٰ بن گیا۔ ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ سے بھی انہوں نے اپنے لئے یقین اور حوصلہ کی غذا حاصل کرلی۔ یہی موجودہ دنیا میں ترقی اور کامیابی کا راز ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر شخص اور ہر گروہ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس آزادی نے دنیا کو مقابلہ کی دنیا بنا دیا ہے۔ یہاں ہر آدمی دوسرے کی کاٹ میں ہے ، ہر گروہ دوسرے گروہ کو ڈھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک صورت یہ ہے کہ آدمی غصہ اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو اور انتقامی نفسیات میں جلتا رہے ۔ ایسے آدمی کا ذہن ہمیشہ منتشر رہے گا ، وہ کبھی گہری منصوبہ بندی نہ کرسکے گا ۔ ایسے آدمی کے لئے موجودہ دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ردعمل کی نفسیات سے بچائے۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ کسی بھی صورت خود کو غصہ کی آگ میں نہ جھونکے۔ ایسے آدمی کا ذہن ہمیشہ اعتدال کی حالت میں رہے گا۔ وہ اپنے منفی اور مثبت پہلوؤں کو کسی کمی بیشی کے بغیر جان لے گا۔ اس کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ تمام حقیقتوں کو نگاہ میں رکھے اور حالات کے عین مطابق منصوبہ بندی کرے۔ ایسے شخص کے لئے کامیابی اتنی ہی یقینی ہے جتنا رات کے بعد سورج کا نکلنا۔
 جو شخص اپنے آپ کو ردعمل کی نفسیات سے بچائے اس کی سوچ نہایت اعلیٰ سوچ بن جاتی ہے، اس کی نظر ہمیشہ امکانات پر ہوتی ہے اور وہ مٹی کی ٹوکری میں پورے ملک کی تصویر دیکھ لیتا ہے۔ حوصلہ شکنی کے واقعات اس کے ذہنی خانہ میں داخل ہوکر حوصلہ مندی کے واقعات بن جاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو شکست کو فتح میں تبدیل کرتے ہیں ۔ وہ ناکامی میں کامیابی کا راز دریافت کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد اُن کی کامیابی دُنیا کیلئے مثال بنتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK