ہوش مند اور باشعور مسلمان جو اپنے دین کے احکام کو اچھی طرح سمجھتا ہے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ نیک برتائو اور اچھا سلوک کرتا ہے
EPAPER
Updated: December 16, 2022, 11:39 AM IST | Dr. Muhammad Ali Hashmi | Mumbai
ہوش مند اور باشعور مسلمان جو اپنے دین کے احکام کو اچھی طرح سمجھتا ہے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ نیک برتائو اور اچھا سلوک کرتا ہے
اسلام نے پڑوسی کو اتنا بلند مقام اور عالی مرتبہ عطا کیا ہے جتنا نہ اس سے پہلے کسی شریعت نے دیا، اورنہ اس کے بعد کوئی نظام ہی اس کی ہمسری کر سکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتائو کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئو، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔‘‘(النساء : ۳۶)
پڑوسی رشتہ دار سے مراد وہ شخص ہے جس کے ساتھ پڑوس کا تعلق ہونے کے ساتھ ساتھ نسب یا دین کا بھی رشتہ ہو، اور اجنبی ہمسایہ سے مراد وہ شخص ہے جس کے ساتھ نسب یا دین کا رشتہ نہ ہو، اور پہلو کے ساتھی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو کسی اچھے کام میں شریک اور ہمراہ ہو۔
پڑوسی کا مقام: معلوم ہوا کہ جو شخص بھی تمہارے پڑوس میں ہے تم پر اس کا حقِ جوار ہے، خواہ تمہارے اور اس کے درمیان نہ کوئی نسب کا تعلق ہو اور نہ دین کا رشتہ ۔ اس میں پڑوسی کی تکریم اور اس کا احترام شامل ہے۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اسلام کی تابناک شریعت نے پڑوسی کی کتنی عزّت افزائی کی ہے۔
اسی طرح بہت سی احادیث رسولؐ میں بھی بلاکسی تخصیص کے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، خواہ اس سے قرابت اور دین کا کوئی تعلق ہو یا نہ ہو، اور ان میں اسلام کے نزدیک پڑوسی کے تعلق کی اہمیت پرزور دیا گیا ہے۔ مثلاً: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
’’مجھے جبریلؑ برابر پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کا معاملہ کرنے کی وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میں یہ گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت کا مستحق قرار دے دیں گے۔‘‘(بخاری)
حضرت جبریل علیہ السلام کی وصیت کے بالمقابل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑوسی کے ساتھ اکرام واحترام کا معاملہ کرنے اور حُسنِ سلوک کا برتائو کرنے کی ترغیب دی ہے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے حجۃ الوداع میں اپنے تاریخی خطبے میں (جس میں کہ ان تمام چیزوں کا خلاصہ پیش کر دیا تھا جن سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا تھا) پڑوسی کے بارے میں بھی وصیت فرمائی ، اور اس کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے پر زور دیا۔ آپؐ نے اس جانب اپنے صحابی حضرت ابو امامہؓ کو متوجہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی یہ سمجھنے لگے کہ آپؐ اسے وراثت کا حق دار قرار دے دیں گے۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ اس حالت میں مَیں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا:’’(لوگو!) میں تمہیں پڑوسیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔‘‘آپؐ نے یہ اتنی بار فرمایا اور اتنا زو ر دے کر فرمایا کہ میں سمجھنے لگا کہ آپؐ اسے وراثت میںحق دار قرار دے دیں گے۔ (بخاری ، مسلم)
رسول کریم ﷺ نے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے اور اچھا برتائو کرنے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ اس کے ساتھ اچھا برتائو کرنے اور اسے تکلیف نہ پہنچانے کو اللہ اور آخرت پر ایمان کی علامتوں میں سے ایک علامت اور اس کے بہترین نتائج میں سے ایک حتمی اور لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔ آپ ؐ کا ارشاد ہے
جو شخص اللہ اور روز آخرپر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کرے، جو شخص اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے، جو شخص اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ خیر کے کلمات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔ (بخاری ، مسلم)
پڑوسی کے ساتھ نرمی کا برتاؤ: اس میں کوئی تعجب نہیں کہ سچا مسلمان جو اس دین کی تعلیمات سے اپنے دل اور عقل کو روشن کرتا ہے، اپنے پڑوسی کے ساتھ نرم خو اور خوش خلق ہوتا ہے۔ رہن سہن میں بھلائی کے ساتھ پیش آتا اور معاملات میں نرمی برتتا ہے۔ اس کے پڑوسی کو اگر اس کے گھر سے کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو تو اسے روکتا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے منع نہ کرے۔‘‘ (بخاری، مسلم)
پسند و ناپسند کی بنیاد:روشن بصیرت رکھنے والا اور اپنے دین کے نور سے رہنمائی حاصل کرنے والا مسلمان نرم دل ، بیدار مغز، خوش اخلاق اور ذکی الحس ہوتا ہے۔ اپنے پڑوسی کے احساسات میں شریک رہتا ہے۔ اس کی خوشی کو اپنی خوشی اور اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے۔ جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اس کے لئے پسند کرتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو اپنے لئے مشعل راہ بناتا ہے:’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔