Inquilab Logo Happiest Places to Work

رشتے طے کرنے کا مرحلہ پیچیدہ ہوتا ہے

Updated: January 11, 2023, 10:34 AM IST | Rehana Qadri | Mumbai

لڑکیوں کیلئے رشتے تلاش کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے اور اس سے زیادہ رشتے کیلئے آنے والوں کے سوالات تکلیف پہنچاتے ہیں ۔ معاشرے کے مڈل کلاس گھرانوں میں یہ رجحان تعلیم اور ترقی کے باوجود ختم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ کم و بیش ہر گھر میں لڑکیوں کو ان دشوار اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑتا ہے

While looking for relationships for marriage, the qualities of girls should be given importance
شادی کیلئے رشتے تلاش کرتے وقت لڑکیوں کی خوبیوں کو اہمیت دینا چاہئے

’’بیٹی زارا تم جلدی سے تیار ہو جاؤ.... ہماری پڑوسن راحیلہ نے تمہارے لئے ایک رشتہ تلاش کیا ہے۔ لڑکے والے ایک گھنٹے میں آتے ہوں گے اور مجھے کھانے کا بھی انتظام کرنا ہے۔ چلو بیٹا شاباش! جلدی سے تیار ہو جاؤ۔
 زارا نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کہ ’’جی امی جان! ابھی تیار ہوتی ہوں۔ وہ کہاں مجھے پسند کریں گے! آئیں گے، مجھے دیکھیں گے، ۱۰۰؍ خامیاں تلاش کریں گے اور اپنی خاطر تواضع کروا کر چلے جائیں گے۔ دو تین سال سے یہی کچھ تو ہو رہا ہے۔ مَیں تنگ آچکی ہوں ایسے جھمیلوں سے، آپ ہیں کہ مجھے ہمیشہ شو پیس بنا کر سب کے سامنے پیش کر دیتی ہیں۔‘‘ زارا نے روہانسی آواز میں کہا۔
 زارا کی امّی نے پر امید لہجے میں کہا، ’’بیٹا! اللہ سے دُعا کرو کہ یہ رشتہ تمہارے لئے مبارک ثابت ہو اور وہ لوگ تمہیں پسند کر لیں۔‘‘
 ایک زارا ہی نہیں جو اِن حالات کا مقابلہ کرتی ہے۔ رشتے کیلئے آنے والوں کے چبھتے سوالوں کے نشتر برداشت کر رہی ہے۔ معاشرے کے مڈل کلاس گھرانوں میں یہ رجحان تعلیم اور ترقی کے باوجود ختم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، اگر جائزہ لیا جائے تو لڑکیوں کے اِن حالات سے گزرنے کی مختلف وجوہات ہیں اسلئے یہاں لڑکیوں کی شادیاں مناسب وقت پر ہونا اور اُن کیلئے مناسب رشتے کی تلاش کرنا لڑکی کے والدین کیلئے صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے اور کم و بیش ہر گھر میں لڑکیوں کو ان دشوار اور آزمائشی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جو لڑکی اور اس کے گھر والوں کیلئے شدید کوفت کا باعث بنتے ہیں۔ لڑکی پسند کرنے کے دوران نہ صرف اہل ِ خانہ بلکہ لڑکے کا دماغ بھی آسمان پر ہوتا ہے، لڑکا کتنا ہی نکما کیوں نہ ہو، بد شکل اور اَن پڑھ ہو لیکن اُس کی ہونے والی دلہن خوبصورت اور تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ ہونی چاہئے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے اور بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق لوگوں نے اپنی سوچ کو بھی بدل دیا ہے مگر لڑکی پسند کرنے کے پیمانے پر نظر ڈالیں تو بدقسمتی سے ہم آج بھی وہی پرانی روایتی سوچ پر قائم ہیں۔ ہمارے اس قدامت پسند معاشرے میں لڑکے کی ماں ہونا اعزاز سمجھا جاتا ہے اور وہ عورت لڑکے کی ماں ہونے کے زعم میں یہ تک بھول جاتی ہے کہ جو امتحان وہ دوسروں سے لے رہی ہے اس کا سامنا وہ ماضی میں خود بھی کر چکی ہے۔ اُسے نہ بھولتے ہوئے دوسروں کی بیٹیوں کو آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ مگر یہاں لڑکے کی ماں کا اپنے ماضی کے تجربوں کو دہراتے ہوئے مطالبہ ہوتا ہے کہ میری ہونے والی بہو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہر طرح کے گھریلو امور میں طاق ہونی چاہئے اور کیا ہی اچھا ہو کہ اگر شوہر کے ساتھ معاشی معاملات میں ہاتھ بھی بٹا سکے۔ مگر عمر کی زائد نہ ہو۔ یہ تضاد نجانے کتنی ہی لڑکیوں کے سروں میں سیاہی سے سفیدی لے آتا ہے اور والدین کی اپنی بیٹی کی شادی کی خواہش کو ماند کرتا چلا جاتا ہے۔
 اکثر لڑکی کا وزن، قد اور چہرے کے خد و خال کا معائنہ کیا جاتا ہے جبکہ اس نے اپنے خدوخال خود تخلیق نہیں کئے ہیں جو اس کا اتنا کڑا امتحان لیا جاتا ہے۔ اگر لڑکے والے اپنی کڑی شرائط پر پورا اترنے والی لڑکی پسند بھی کر لیتے ہیں تو اس کے بعد کا مرحلہ لڑکی کے والدین کے لئے پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ شادی کے انتظامات کی طویل فہرست ان کے سپرد کر دی جاتی ہے جسے ممکن بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ زیادہ تر والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے وقت اپنا کل سرمایہ خرچ کر دیتے ہیں یا مقروض ہوجاتے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے معاشرے سے اِس فرسودہ طریقے سے لڑکی پسند کرنے کی سوچ کو بدلنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں خود سے شروعات کرنی ہوگی کیونکہ یہ فرسودہ سوچ ہمارے معاشرے کو صحتمند بنانے کے بجائے مزید تنزلی کی جانب لے جا رہی ہے۔
 لڑکے والوں کے ان اقدامات کی حوصلہ شکنی کے لئے لڑکی کے والدین کو پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہئے کہ اپنی بیٹی کو شو پیس کی طرح سجا کر لڑکے والوں کے سامنے پیش نہ کریں۔ لڑکے والوں کو اِس بات کا اندازہ اچھی طرح ہوتا ہے کہ زیادہ تر لڑکیوں کے ماں باپ کسی بھی صورت میں اپنی بیٹی کی شادی کر دینا چاہتے ہیں لہٰذا وہ بھی ہر طرح کا جائز ناجائز مطالبہ منوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس لئے بیٹی کو بوجھ کے بجائے رحمت سمجھیں جب اس کی شادی کا درست وقت آئے گا تو خدا کی مدد سے یہ مرحلہ خودبخود پار ہو جائے گا۔
 دوسری جانب لڑکے والوں کو بھی اپنا لڑکی پسند کرنے کا پیمانہ تبدیل کرنا چاہئے۔ انہیں اپنے گھر کی بہو اور بیٹے کے لئے بیوی تلاش کرتے وقت یہ سوچنا چاہئے کہ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے لہٰذا لڑکیوں کے منفی پہلوؤں کے بجائے مثبت پہلوؤں پر زیادہ غور کریں۔ اِسی سوچ پر چل کر اِن کا گھرانہ ایک خوشگوار زندگی بسر کرے گا اور ان کی آنے والی نسلیں بلند اخلاق اور اعلیٰ روایات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK