دین خیرخواہی ہے

Updated: September 23, 2022, 2:01 PM IST | Mujahid Shabir Ahmad Falahi Qasmi | Mumbai

حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے پوچھا: کس کے لئے؟

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔ ہم نے پوچھا: کس کے لئے؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے لئے، اس کی کتاب کے لئے،    اس کے رسول کے لئے، مسلمانوں کے ائمہ کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔‘‘ (مسلم،  کتاب الایمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ)۔ عربی زبان میں اَلنَّصِیْحَۃُ اخلاص کو کہتے ہیں۔ لغت میں نُصْحاً کے معنی خالص ہونا، جیسے نَصَحَ الشَّیْئُ: خالص ہونا، بے غل و غش ہونا۔ اسی طرح نَصَحَ الْقَلْبُ، دل کا کھوٹ وغیرہ سے پاک ہونا اور نَصَحَ لَہٗ، یعنی ایسی بات کرنا جس سے محبت اور شفقت کا اظہار ہو رہا ہو، جو اس کے شایان شان اور موافق ہو اور جس سے اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہو رہا ہو۔یہ حدیث عظیم الشان مرتبے کی حامل ہے۔علما ءنے لکھا ہے کہ یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے ایک ہے جو اسلام کے تمام امور کی جامع ہیں اور جن پر اسلام کا دارومدار ہے۔(مسلم شرح النووی )
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے جب اللہ کے رسولؐ کی یہ حدیث سنی تو انہوں نے پوچھا:  اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ خلوص اور خیر خواہی کا جذبہ ہم اپنے دلوں کے اندر کس کے لئے پیدا کریں؟ اللہ کے رسولؐ نے ترتیب کے ساتھ پانچ چیزوں کا تذکرہ کیا، جو اس طرح ہیں:
(۱) اللہ کے لئے:   اللہ کے لئے خلوص کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کو ایک جانیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اسی طرح اللہ کی صفات کو اسی کے لئے مختص کریں، جیسے خالق، مالک، رازق، حافظ، رحمٰن، رحیم، حی ّ، قیوم وغیرہ صفات اسی کے شایانِ شان ہیں۔ قرآن شریف میں بے شمار مواقع پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق ان صفات کی متحمل نہیں ہو سکتی، جیسے سورۂ حشر کی یہ تین آیات:
(ترجمہ)’’وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا، وہی رحمٰن  اور رحیم ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بہ زور نافذ کرنے والا، اور بڑا ہی ہوکر رہنے والا۔ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں۔وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والااور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔ اس کے لئے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ (الحشر:۲۲؍تا۲۴) 
اللہ ہی کو قانون ساز تسلیم کرنا، اسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا، اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا، یہ سب اسی اخلاص کے مظاہر ہیں۔ اسی بات کو اللہ کے رسولؐ نے ایک چھو ٹے سے فقرے میں یوں بیان کیا ہے: ’’میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوا۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان) یعنی اس اقرار کے بعد اگر پوری دنیا میری مخالف ہو جائے تب بھی میں اس عہد سے نہ پھروں گا۔ اللہ کو رب تسلیم کرنے کا مطلب اللہ کے سوا تمام معبودوں کا انکارہے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔ اللہ کو رب تسلیم کرنے کے بعد جو کیفیت ایک بندے کی ہوتی ہے، اس کا بیان اس آیت میں ہوا ہے: اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (الانعام:۱۶۲) ’’بے شک میری نماز، اور میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔‘‘ یہ تمام اعما ل ادا کرتے ہوئے اسے کسی اور کی خوشی اور رضا مطلوب نہیں ہوتی، اسے کسی کے انعام و اکرام کا لالچ نہیں ہوتا، اور وہ اللہ کی  محبت پر کسی کی محبت کو ترجیح نہیں دیتا۔
گویا اس کی زندگی کا لمحہ لمحہ اللہ کی بندگی میں گزرتا ہے ۔ تمام معاملات میں وہ اپنی خواہشات کا پیرو نہیں ہوتا، بلکہ اس کے رب نے جس چیز کے کرنے کا حکم دیا ہے، اس پر بغیر کسی لیت و لعل کے عمل کرتا ہے اور اس کے رب نے جس چیز سے بھی روکاہے اس سے رک جاتا ہے:  ’’جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں ۔‘‘ (البقرۃ :۱۳۱) کسی کے اندر واقعی یہ کیفیت پیدا ہو،تو یہی دراصل اللہ کیلئے نصح اور خیر خواہی ہے۔
(۲) اللہ  کی کتاب کے ساتھ خیر خواہی
 اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات پر ایمان لایا جائے کہ یہ کتاب اللہ کی نازل کردہ ہے جس کو اللہ نے اپنے برگزیدہ فرشتے کے ذریعے اپنے پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا۔ اس میں کسی طرح کی کوئی ٹیڑھ نہ رکھی، جیسا کہ کلام پاک میں ہے: ’’سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی ۔‘‘ (الکہف :۱)۔  اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی چیز انسانوں کی ہدایت کیلئے نازل ہوئی تو وہ یہی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب کے تمام احکام کو بے چوں و چرا تسلیم کیا جائے، اور ان میں تھوڑی سی بھی تبدیلی کو گوارا نہ کیا جائے۔ عملی طور پر اللہ کی کتاب کے ساتھ خیر خواہی   یہ ہے کہ اس کی تلاوت اس طرح کی جائے جیسا کہ اس کا حق ہے: ’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ ‘‘ (البقرۃ :۱۲۱) اس کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جائے، اس کو یادکیا جائے، اس کی حقیقی دعوت کو عام کیا جائے، اس کے احکام سے انسانوں کو آگاہ کیا جائے، اور ان کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ 
(۳) اللہ کے رسولؐ کے ساتھ خیر خواھی:     
 اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کیا جائے، آپ ؐ کی تمام تعلیمات  پر صدق ِ دل سے ایمان لایا جائے، آپ ؐ کے اوامر و نواہی کی اطاعت کی جائے اور آپ ؐ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت کیلئے ہمیشہ تیار رہا جائے۔ ان لوگوں کو دشمن سمجھا جائے جو اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ دشمنی کرتے ہوں اور ان لوگوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم کئے جائیں جو اللہ کے رسول ؐ کے ساتھ دل و جان سے محبت کرتے ہوں۔ اللہ کے رسول ؐ کی عزت و توقیر کی جائے، آپؐ کی سنتوں کو زندہ کیا جائے، آپؐ کی لائی ہوئی شریعت کی طرف دعوت دی جائے اور اس کی اشاعت کی جائے۔ آپ ؐ  پر لگائے جانے والے الزامات و اعتراضات کا منہ توڑ جواب دیاجائے ۔   آپ ؐ کے علوم کی نشر و اشاعت کرنا اور ان میںغور و فکر کرنا، لوگوں کو اس کی طرف بلانا اور ان کو سیکھنا اور سکھانا اور احادیث کے دروس کے وقت ادب و اکرام کا مظاہرہ کرنا، اور خاموشی کے ساتھ سننا بھی اس میں شامل ہیں۔ آپ ؐ کے اہل بیت اور صحابہ ؓ کی محبت اپنے دلوں میں پیداکرنا اور جو شخص آپ ؐ کی لائی ہوئی شریعت میں بدعت کا مرتکب ہو رہا ہو اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنا بھی اسی کے مظاہر ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ؐ کی محبت کو تمام محبتوں پر غالب رکھنا کمالِ ایمان اور کمالِ اخلاص کی دلیل ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہے جب تک کہ   میں اسے اس کے والدین، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائوں۔‘‘ (بخاری) 
(۴) ائمہ مسلمین کے ساتھ خیر خواھی:
  ائمہ سے مراد مسلمانوں کے خلفاء  اور ان کے اُمراء ہیں۔ ان کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ حق کے معاملے میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی معاونت کی جائے۔ اگر ان سے کبھی صحیح راستے سے انحراف ہو رہا ہو تو نرمی کے ساتھ عوام میں مشتہر کئے بغیر ان کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص کسی حکمراں کو کسی چیز کی نصیحت کرنا چاہے تو علانیہ اس کا اظہار نہ کرے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے تنہائی میں نصیحت کرے۔ اگر اس نے قبول کی تو بہتر، ورنہ تم نے اس کے بارے میں اپنی ذمہ داری ادا کر ہی دی۔‘‘ (مسند احمد) ایک  حدیث میں ہے: ’’اللہ عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کی سزا اس وقت تک نہیں دیتا جب تک ان میں یہ غلط رواداری پیدا نہ ہوجائے کہ بدی کو اپنے سامنے ہوتے ہوئے دیکھیں اور اس کو روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر نہ روکیں۔ ‘‘ 
(۵) عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواھی:
 عام مسلمانوں سے خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کیا جائے، ان کو کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچانے سے گریز کیا جائے،ان کے جو بھی حقوق ہوں، انہیں ادا کیا جائے، مثلاً ہمسایہ ہو تو اس کے ساتھ کسی ظلم و جبر کا معاملہ نہ کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐ     نے فرمایا: ’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، باب بیان تحریم ایذاء الجار)۔ مہمان کے بارے میں فرمایا: ’’جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘ (بخاری، کتاب الادب، باب اکرام الضیف) اسی طرح اَن پڑھ لوگوں کو تعلیم دی جائے، کمزوروں کی مدد کی جائے، یتیموں اور مسکینوں کے مسائل میں دلچسپی لی جائے، اپنے قول و فعل سے ان کی مدد کی جائے اور ان کے عیوب کو چھپایا جائے۔ بڑوں سے عزت اور چھوٹوں سے شفقت کا معاملہ کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم اور ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘(ترمذی) رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اندر صحیح معنوں میں نصح اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرے، آمین۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK