• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دین محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، فہم، تحقیق اور جوابدہی کا نام ہے

Updated: October 24, 2026, 4:34 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

بہت سے نوجوان اب دینی مسائل میں بھی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت سے رجوع کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سہولت علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، لیکن جب انسان مستند رہنمائی کے بجائے من چاہے طریقہ سے جواب تلاش کرنے لگے تو یہی سہولت گمراہی کا راستہ بھی بن سکتی ہے۔

Use social media, but it is not advisable to rely on it entirely for religious information. Image: INN
سوشل میڈیا کا استعمال کریں لیکن دینی معلومات کے لئے اس پر مکمل بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں۔ تصویر: آئی این این

آج کا انسان معلومات کی کمی کا نہیں، صحیح معلومات کی پہچان کے بحران کا شکار ہے۔ انٹرنیٹ نے علم کے دروازے کھول دیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) نے سوالات کے جواب حاصل کرنے کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا  دیا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہر سوال کا جواب مل جانا، صحیح جواب مل جانے کی ضمانت نہیں؛ اور کسی جواب کا ہمارے دل کو مطمئن کر دینا، اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں۔
یہی فرق اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب معاملہ دین کا ہو۔ بہت سے نوجوان اب دینی مسائل میں بھی انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت سے رجوع کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سہولت علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، لیکن جب انسان مستند رہنمائی کے بجائے من چاہے طریقے سے جواب تلاش کرنے لگے تو یہی سہولت گمراہی کا راستہ بھی بن سکتی ہے۔فرض کیجیے، کسی شخص کے دل میں ایک ایسا دینی مسئلہ ہے جس میں وہ اپنی خواہش کے مطابق رخصت چاہتا ہے۔ وہ انٹرنیٹ پر سوال کرتا ہے، ایک جواب ملتا ہے جو اسے مطمئن نہیں کرتا، تو وہ سوال کے الفاظ بدلتا ہے، دوسری رائے تلاش کرتا ہے اور پھر تیسری۔ بالآخر اسے ایک ایسا جواب مل جاتا ہے جو اس کی خواہش کے موافق ہوتا ہے۔ اب وہ اس جواب کو ترجیح دیتا ہے، باقی تمام آرا کو نظرانداز کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسے حق مل گیا۔ حالاں کہ ممکن ہے اس نے حق تلاش ہی نہ کیا ہو، بلکہ اپنی خواہش کے لئے ایک جواز تلاش کیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم کی تلاش، خواہش کی پیروی میں بدل جاتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ بعض اوقات غلط معلومات کو پورے اعتماد کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ دینی معاملات میں یہ خطرہ زیادہ سنگین ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کسی دینی نکتے کے غلط الفاظ، غیر مستند روایت یا من گھڑت حوالے کو بھی بظاہر مستند انداز میں پیش کرتی ہے۔ ضروری نہیں کہ عام صارف اس غلطی کو پہچان لے، خصوصاً جب جواب میں کتاب کا نام، جلد اور صفحہ بھی درج ہو لیکن حوالہ لکھا ہونا، حوالہ صحیح ہونے کی دلیل نہیں؛ اس کی تحقیق ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کائنات کا ہر منظر ایک خاموش درس گاہ ہے

قرآن مجید ہمیں خبر کی تحقیق کا حکم دیتا ہے: ’’اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (الحجرات:۶) جب عام خبر کی تحقیق ضروری ہے تو دین کی نسبت سے بیان کی جانے والی بات یا کسی نکتے کی تشریح، بالخصوص اللہ کے رسولؐ کی طرف منسوب کیا گیا فرمان تحقیق کے بغیر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟
اس کا ایک اور فکری پہلو ہے۔ انسان عموماً اس بات کو،  جو پہلے سے قائم اس کی رائے کی تائید کرے، زیادہ پسند کرتا ہے۔ جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھی بار بار اپنی پسند کے مطابق جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو ایک ایسا فکری دائرہ تشکیل پاتا ہے جس میں انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بجائے اپنی رائے پر یقین مزید  پختہ ہوتا جاتا ہے۔ یوں وہ حق کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے لگتا ہے۔
اس طرزِ عمل کا سب سے گہرا نقصان علماء سے دوری ہے۔ عالم دین صرف معلومات فراہم کرنے والا نہیں ہوتا؛ وہ نصوص کا سیاق و سباق سمجھتا ہے، دلائل میں تطبیق دیتا ہے، مسئلے کی نوعیت اور سائل کے حالات کو ملحوظ رکھتا ہے اور جہاں ضروری ہو، انسان کو اس کی خواہش کے خلاف بھی صحیح بات بتاتا ہے۔ اس کے برعکس، انٹرنیٹ پر دستیاب ہر جواب کو دینی رہنمائی سمجھ لینا، علم اور معلومات کے فرق کو مٹا دینے کے مترادف ہے۔
یاد رکھئے، دین محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ علم، فہم، تحقیق اور جواب دہی کا نام ہے۔ جس طرح مستند ڈاکٹر کی رائے کو نظرانداز کرکے طبی ویب سائٹ سے اپنی مرضی کا علاج منتخب کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، اسی طرح دینی مسائل میں اہلِ علم سے بے نیاز ہو جانا ضرر رساں ہوگا۔ انٹرنیٹ معلومات تک پہنچا سکتا ہے، مگر نہ تو دینی رہنمائی کو یقینی بنا سکتا ہے نہ ہی اس کا حق نہیں ادا کرسکتا۔ ضرورت اس بات کی نہیں کہ انٹرنیٹ یا مصنوعی ذہانت سے استفادہ ترک کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے استعمال میں حدود اور اصول ملحوظ رکھے جائیں۔ انہیں ابتدائی معلومات، مطالعے اور تحقیق میں معاون بنایا جائے، نہ کہ مستند علماء کا متبادل۔ خصوصاً عقائد، عبادات، حلال و حرام اور شرعی احکام کے معاملات میں معتبر اہلِ علم سے رجوع کیا جائے اور احادیث و دینی حوالوں کی تصدیق کی جائے۔ کیونکہ سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان کو غلط جواب مل جائے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ غلط جواب کو سچ، صحیح اور حق سمجھ بیٹھے، اپنی غلطی کی اصلاح کا دروازہ بند کر دے اور اسے اپنی گمراہی کا احساس تک نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK