زمانہ کبھی ایک حالت پر قائم نہیں رہتا۔ ایسے میں اصل امتحان آنکھ بند کرکے زمانے کے ساتھ چلنا نہیں، بلکہ بدلتے حالات میں اپنے ایمان، کردار اور اخلاقی شناخت کو محفوظ رکھنا ہے۔ سورۃ الکہف میں اصحابِ کہف کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک بامعنی مثال ہے۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 4:27 PM IST | Javeria Qazi | Mumbai
زمانہ کبھی ایک حالت پر قائم نہیں رہتا۔ ایسے میں اصل امتحان آنکھ بند کرکے زمانے کے ساتھ چلنا نہیں، بلکہ بدلتے حالات میں اپنے ایمان، کردار اور اخلاقی شناخت کو محفوظ رکھنا ہے۔ سورۃ الکہف میں اصحابِ کہف کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک بامعنی مثال ہے۔
اصحابِ کہف چند نوجوان تھے جنہوں نے اپنے معاشرہ کے فکری و مذہبی دباؤ کے باوجود ایمان کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے حق کو محض اس لئے ترک نہیں کیا کہ باطل کو معاشرتی غلبہ حاصل تھا۔ قرآنِ مجید ان کے عزم کو یوں بیان کرتا ہے: ترجمہ: ’’اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔‘‘ (الکہف:۱۴)یہ واقعہ ہر دور کے انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حق کی پہچان اکثریت کی پیروی سے نہیں ہوتی۔ حق کی پہچان ایمان، بصیرت اور درست معیارِ فکر سے ہوتی ہے۔
فتنوں سے بچنے کا مطلب دنیا سے فرار نہیں
فتنہ صرف مذہبی آزمائش تک محدود نہیں۔ مال کی حرص، اقتدار کی خواہش، شہرت کی طلب اور اخلاقی اصولوں سے انحراف بھی انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا، معلومات کی فراوانی اور ظاہری کامیابی کی دوڑ نے ان آزمائشوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج انسان کے پاس معلومات تو بہت ہیں، لیکن ان کی صحت جانچنے اور درست نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت ہمیشہ اسی تناسب سے نہیں بڑھتی۔ افواہیں، مصنوعی مقبولیت اور دوسروں سے مسلسل موازنہ انسان کو فکری انتشار اور احساسِ محرومی میں مبتلا کر سکتے ہیں۔اصحابِ کہف کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان اور ضمیرکو وقتی مقبولیت کے تابع نہ کرے۔ فتنوں سے بچنے کا مطلب دنیا سے فرار نہیں، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے حق و باطل میں امتیاز اور اخلاقی حدود کی حفاظت ہے۔اصحابِ کہف نے ایمان کی حفاظت کے لئے غار میں پناہ لی۔ ان کے لئے یہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے ماحول سے دوری کا ذریعہ تھا جہاں ان کے ایمان کو خطرہ لاحق تھا اور جو اُن کے شایان شان نہیں تھا۔
عصرِ حاضر میں غار کو علامتی طور پر اس خاموشی، مطالعے اور خود احتسابی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو انسان کو معاشرتی شور سے نکل کر اپنے ضمیر کی آواز سننے کا موقع دیتی ہے۔ تاہم، اس واقعے کو ہر اختلاف سے فرار یا معاشرہ سے مکمل کنارہ کشی کا جواز نہیں بنانا چاہئے۔ اصل سبق یہ ہے کہ انسان حالات کو سمجھتے ہوئے اپنے ایمان اور اخلاقی سلامتی کے تحفظ کیلئے حکمت اور تدبر سے کام لے۔ آج ضرورت ایسے نوجوانوں کی ہے جو جدید علوم بالخصوص ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، لیکن اپنی اخلاقی بنیادوں سے وابستہ رہیں۔ علمی ترقی اور اخلاقی پختگی کا امتزاج ہی ایک متوازن شخصیت تشکیل دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن مجید میں ۱۸۵؍ مواقع پر ظلم کی براہ راست یا بالواسطہ طورپر مذمت کی گئی ہے
طویل نیند سے بیداری اور سکے کی تبدیلی
اصحابِ کہف کے واقعے کا ایک اہم پہلو ان کی طویل نیند کے بعد بیداری ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق، انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو چاندی کا سکہ دے کر شہر بھیجا تاکہ وہ پاکیزہ کھانا خرید لائے۔ اس دوران انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کتنا طویل عرصہ گزر چکا ہے، قرآن مجید کہتا ہے:
ترجمہ: ’’اب اپنے میں سے کسی ایک کو یہ چاندی کا سکہ دے کر شہر بھیجو۔‘‘ (سورہ الکہف:۱۹)
یہ وضاحت ضروری ہے کہ قرآن سکّے کے بدلے جانے یعنی تبدیل ہوجانے کا صریح ذکر نہیں کرتا۔ البتہ ان کے شہر پہنچنے پر ان کی شناخت کا انکشاف اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ ان کے زمانے اور معاشرے میں غیر معمولی تبدیلی آ چکی تھی۔اس واقعے کو عصرِ حاضر کے تناظر میں دیکھا جائے تو سکّہ وقت، معاشرتی شناخت اور بدلتے ہوئے حالات کی ایک مؤثر علامت بن جاتا ہے۔ آج بھی ایک نسل ایسی دنیا میں زندگی گزارتی ہے جو اس سے پہلے کی نسل کے لئے اجنبی ہو سکتی ہے۔ زبان، لباس، ٹیکنالوجی اور سماجی رویے بدلتے رہتے ہیں، جس سے نسلوں کے درمیان فکری فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔تاہم، ہر نئی تبدیلی زوال نہیں اور ہر پرانی روایت لازماً درست نہیں۔ دانشمندی یہ ہے کہ تبدیلی کو علم، دلیل اور اخلاقی شعور کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ زمانے کے تقاضوں کو سمجھنا ضروری ہے، مگر ہر مقبول رجحان کی اندھی تقلید درست نہیں۔
حالات کو سمجھنے کی صلاحیت
جدید دنیا نے انسان کیلئے علم کے دروازے کھول دیے ہیں۔ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے معلومات تک رسائی آسان ہوئی ہے، لیکن معلومات کا حصول اور ان سے حکمت اخذ کرنا دو الگ صلاحیتیں ہیں۔اصحابِ کہف کا واقعہ اس حقیقت پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ انسان کو اپنے بنیادی اصولوں کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی چاہئے۔ فکری پختگی کا تقاضا ہے کہ وہ سوال کرے، تحقیق کرے اور دلیل کی بنیاد پر رائے قائم کرے۔ ایمان پر ثابت قدمی کا مطلب سوالات سے گریز نہیں، بلکہ اپنی فکر کو علم، اخلاق اور شعوری وابستگی کے ساتھ مضبوط کرنا ہے۔ اسی طرح اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بنانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے:قرآن کی روشنی میں گفتگو کا معیارِ مطلوب
فرد اور معاشرے کا تعلق
اصحابِ کہف کا واقعہ فرد اور معاشرہ کے تعلق کو بھی واضح کرتا ہے۔ سماجی دباؤ، مقبولیت کی خواہش اور دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش بعض اوقات انسان کو اپنی حقیقی شناخت سے دور کر دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں یہ مسئلہ مزید نمایاں ہو گیا ہےجہاں شخصیت کا اندازہ اکثر ظاہری نمائش اور مقبولیت سے لگایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں اصحابِ کہف کی داستان انسان کو اپنی شناخت اور ضمیر کے تحفظ کا سبق دیتی ہے۔ معاشرتی ترقی کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف نسلیں ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بزرگوں کا تجربہ اور نوجوانوں کی تازہ فکر، باہمی احترام کے ساتھ مل کر معاشرہ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اصحابِ کہف کی داستان ماضی کا ایک غیر معمولی واقعہ ہونے کے ساتھ حال کے انسان کیلئے بھی رہنمائی رکھتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ زمانے کی تبدیلی کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے درمیان اپنے ایمان اور اخلاقی شناخت کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ سکّے بدلتے ہیں، معاشرتی ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور نئی نسلیں نئے سوالات اٹھاتی ہیں، مگر انسان کو ہر دور میں سچائی، انصاف اور دیانت کی ضرورت رہتی ہے۔ عصرِ حاضر کے انسان کو ایسی بصیرت درکار ہے جو اسے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے میں مدد دے، اور ایسی اخلاقی قوت جو اسے مقبولیت کے دباؤ میں اپنے اصولوں سے منحرف نہ ہونے دے۔ اصل کامیابی زمانے سے بے خبر رہنے میں نہیں، بلکہ زمانے کو سمجھتے ہوئے اپنی اخلاقی شناخت محفوظ رکھنے میں ہے۔
سورۃ الکہف کی روشنی میں فتنوں سے بچنے کے لئے چند اصول اہم ہیں:
ایمان اور اخلاق کو ہر ممکن طریقہ سے مال، شہرت اور وقتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔
معلومات کو قبول کرنے یا اُن پر انحصار کرنے سے پہلے ان کی صحت کی تحقیق کی جائے۔
جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے، لیکن خبردار رہا جائے اور اس کا غیر شعوری تابع نہ بنا جائے۔
اختلاف کے باوجود انصاف، احترام اور حسنِ اخلاق کو برقرار رکھا اصل امتحان ہے جس میں کامیابی ضروری ہے۔
نئی تبدیلیوں کو نہ تو اندھی تقلید کے ذریعہ قبول کیا جائے، نہ ہی بلاوجہ رد کیا جائے۔
یہ اصول انسان کو بدلتے ہوئے حالات میں متوازن، باخبر اور اخلاقی طور پر مضبوط رہنے میں مدد دیتے ہیں۔