انسانی وجود کی ساخت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسم کا ہر عضو ایک خاص مقصد، ایک متعین حکمت اور ایک عظیم ذمہ داری کے ساتھ عطا کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 4:31 PM IST | Syed Rayyan Misbahi | Mumbai
انسانی وجود کی ساخت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسم کا ہر عضو ایک خاص مقصد، ایک متعین حکمت اور ایک عظیم ذمہ داری کے ساتھ عطا کیا گیا ہے۔
انسانی وجود کی ساخت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسم کا ہر عضو ایک خاص مقصد، ایک متعین حکمت اور ایک عظیم ذمہ داری کے ساتھ عطا کیا گیا ہے۔ ہاتھ محض حرکت کے لئے نہیں، بلکہ تعمیر و خدمت کیلئے بھی ہیں؛ زبان صرف بولنے کیلئے نہیں، بلکہ حق و صداقت کے اظہار کیلئے بھی ہے؛ قدم محض چلنے کیلئے نہیں، بلکہ منزلوں کی طرف پیش قدمی کیلئے بھی ہیں؛ اور آنکھیں محض رنگ و صورت کے مشاہدے کا ذریعہ نہیں، بلکہ حقیقت شناسی، عبرت اندوزی اور کائنات کے اسرار سے آشنائی کا ایک بے مثال وسیلہ بھی ہیں۔ یہ وہ دریچے ہیں جن سے انسان کی روح اس جہانِ رنگ و بو کے مناظر سے آشنا ہوتی ہے، جن کے ذریعے وہ اپنے گرد و پیش کی وسعتوں کو محسوس کرتا ہے، اور جن کی رہنمائی میں اس کے شعور کو غور و فکر کی نئی منزلیں میسر آتی ہیں۔ لیکن جب یہی آنکھیں اپنے اصل مقصد سے منحرف اور دور ہو جائیں، جب یہی دریچے پاکیزگی کے بجائے اخلاقی کثافت اور آلودگی کی راہیں کھولنے لگیں، جب یہی نگاہیں عظمتوں سے سبق لینے کے بجائے پستیوں میں لذت تلاش کرنے لگیں، تو انسان کی ظاہری بینائی کے باوجود اس کی باطنی بصیرت پر اندھیروں کا تسلط بڑھنے لگتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے! اگر انسان اپنی آنکھوں کو ان مناظر کیلئے وقف کرتا جن میں قدرت کی صناعی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے، تو اس کے فکر و نظر کی دنیا کتنی وسیع ہو سکتی تھی! وہ نگاہیں جو آسمان کی بے کراں وسعتوں میں دور تک پھیلے ہوئے افق کو دیکھ سکتی ہیں، جو فلک بوس پہاڑوں کی سربلندی اور ان کی خاموش عظمت کا مشاہدہ کر سکتی ہیں، جو سمندر کی گہری آغوش میں موجوں کے اضطراب اور سکون کے درمیان چھپی ہوئی حکمتوں کو محسوس کر سکتی ہیں، جو رات کی تاریکی میں ستاروں کی جھلملاہٹ اور صبح کی پہلی کرن میں زندگی کی نئی کروٹ کو دیکھ سکتی ہیں، آخر وہ نگاہیں چند لمحوں کی ناپائیدار لذت کیلئے کیوں اپنی عظمت بھول جائیں؟
یہ بھی پڑھئے:قرآن کی روشنی میں گفتگو کا معیارِ مطلوب
کائنات کا ہر منظر ایک خاموش درس گاہ ہے۔ پہاڑ اپنی استقامت سے سبق دیتے ہیں، سمندر اپنی وسعت سے فکر کو وسعت بخشتے ہیں، سورج اپنی مسلسل گردش سے نظم و ضبط کا احساس دلاتا ہے اور ستارے تاریکی کے سینے پر روشنی کے نقطے بن کر امید کی اہمیت سمجھاتے ہیں۔ اس طرح زمین کا ہر گوشہ اپنے اندر غور و تدبر کے بے شمار امکانات سمیٹے ہوئے ہے۔ مگر افسوس کہ انسان نے اپنی نگاہوں کی وسعت کو خود اپنے ہاتھوں سے محدود کر لیا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ جس نظر کو بلندیوں کی تلاش میں سرگرداں ہونا چاہئے تھا، وہ پستیوں کی جستجو میں مصروف ہے؛ جسے حکمتوں کی تلاش میں کائنات کے گوشے گوشے کا سفر کرنا تھا، وہ سطحی لذتوں کے گرد طواف کر رہی ہے؛ اور جسے حسنِ فطرت سے جمالِ فکر حاصل کرنا تھا، وہ مصنوعی دل فریبی کے دام میں گرفتار ہو کر اپنے اندر کے حسن کو رائیگاں کرتی جارہی ہے، اُسے کھوتی جا رہی ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ انسان برائی کو دیکھ لیتا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ برائی کو دیکھتے دیکھتے اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں جس منظر سے طبیعت کو اجنبیت محسوس ہوتی ہے، جس چیز کو دیکھ کر ضمیر میں ایک خلش پیدا ہوتی ہے، جس حرکت پر دل کے کسی گوشے سے ناپسندیدگی کی آواز بلند ہوتی ہے، بار بار اسی کا سامنا کرنے سے رفتہ رفتہ وہ کیفیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ پھر وہی منظر مانوس معلوم ہونے لگتا ہے، وہی حرکت معمول بن جاتی ہے، اور وہی چیز جس سے کبھی انسان اپنے دامن کو بچانا چاہتا تھا، ایک دن اس کی نگاہوں کی پسند بن جاتی ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک لمحے میں نہیں آتی؛ یہ ایک خاموش، تدریجی اور غیر محسوس سفر ہے، جس میں انسان اپنی حساسیت کا ایک حصہ کھوتا ہے، پھر دوسرے حصے سے محروم ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے برائی میں بُرائی دکھائی نہیں دیتی، وہ اس کا عادی ہوجاتا ہے۔
یاد رکھئے، آنکھوں کی روشنی کا حقیقی فائدہ صرف یہ نہیں کہ انسان دنیا کو دیکھ سکے؛ اس کا حقیقی فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے لئے بہتر راستہ پہچان سکے۔ اگر نگاہ کے سامنے مناظر کی کثرت ہو مگر انتخاب کا شعور نہ ہو، اگر معلومات کی فراوانی ہو مگر عمل کی قوت نہ ہو، اور اگر زندگی میں سہولتوں کی بہتات ہو مگر مقصد کی روشنی نہ ہو، تو انسان ظاہری ترقی کے باوجود باطنی کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لئے، خدارا، اپنی نگاہوں کی حفاظت کیجئے، اپنے وقت کی قدر کیجئے، اپنی صحبت کو سنواریئے، اپنے علم کو عمل سے جوڑیئے اور اپنی خواہشات کو عقل و اخلاق کے تابع رکھئے۔ کیونکہ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ کیا کچھ دیکھ سکتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ دیکھنے کی قدرت رکھنے کے باوجود وہ کس چیز کو دیکھنے کا انتخاب کرتا ہے؛ اور یہی انتخاب رفتہ رفتہ اس کے ذوق، اس کے کردار اور بالآخر اس کی شخصیت کی پہچان بن جاتا ہے۔