شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) مسجد کیلئے وقف زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کسی بندے کا کوئی حق نہیں، وہ خالص اللہ کی ملک ہے (۲) زکوٰۃ کے مستحقین (۳) گاڑی کے لئے قرض اور ماہانہ کرایہ۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 4:42 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) مسجد کیلئے وقف زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کسی بندے کا کوئی حق نہیں، وہ خالص اللہ کی ملک ہے (۲) زکوٰۃ کے مستحقین (۳) گاڑی کے لئے قرض اور ماہانہ کرایہ۔
ہمارے یہاں کی مسجد میں جگہ کافی ہے، اس میں کچھ غلہ وغیرہ اگایا جاتا ہے۔ اس غلے کو فروخت کرکے اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان پیسوں کا مصرف کیا ہونا چاہئے؟ عبد الحمید ایم پی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: مسجد کیلئے وقف زمین سے جو پھل، سبزی، غلہ وغیرہ حاصل ہو یا ٹھیکے پر دینے سے جو کرایہ ملے اس پر کسی بندے کا کوئی حق نہیں، وہ خالص اللہ کی ملک ہے اور واقف کی شرائط کے مطابق اسے صرف مسجد کی جائز ضروریات ہی میں خرچ کیا جائیگا جیسے امام ومؤذن کی تنخواہ ،مسجد کی مرمت لائٹ بل وغیرہ ۔متولی، انتظامیہ یا دوسرے افراد کا اس آمدنی کو ذاتی استعمال میں لانا صحیح نہیں۔ انتظامیہ اس کے صحیح استعمال اور حفاظت کی ذمے دار ہے ۔کہا ں استعمال ہو اس سلسلے میں وقف کنندہ کی شرائط کو پیش نظر رکھا جائیگا ۔متولی اور انتظامیہ کی یہ ذمے داری بھی ہے کہ من مانے تصرف سے بچتے ہوئے شرعی مسائل معلوم کر کے اس کے مطابق عمل کریں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
زکوٰۃ کے مستحقین
دونوں بھائیوں کے پاس گیارہ لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں جن میں سے چھ لڑکیاں اور ایک لڑکے کا نکاح کردیا، پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا باقی ہیں اور دونوں بھائی صرف محنت مزدوری اور قرض لے کر سب کام انجام دیتے ہیں۔ مزدوری کےعلاوہ اور گھر کے علاوہ آدھا ایکڑ زمین بھی ہے۔ ابھی ایک سفر میں لڑکیاں اور لڑکے کی بہو اور باپ کے ساتھ ایک سفر میں گاڑی حادثے کے شکار ہوئے جس میں سب کو خاصی چوٹ لگی تھی ۔ پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا جو شادی کے قابل ہیں، ان کے لئے رشتے کی تلاش بھی جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ تفصیل سے بیان فرمائیں۔ امام الدین، ہریانہ
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: سوال کی تفصیل کے مطابق دونوں بھائی کثیرالعیال اور مزدوری پیشہ ہیں، بچیاں زیادہ ہیں محنت مزدوری کے علاوہ قرض وغیرہ لے کر کچھ کی شادیاں کردی ہیں مگر اب بھی کچھ باقی ہیں۔ زمین صرف آدھا ایکڑ ہے۔ ظاہر ہے اس کی آمدنی ضروریات کیلئے ناکافی ہوگی۔ یہ تفصیل درست ہے تو یہ غرباء و مساکین میں شامل اور مستحقین زکوٰۃ ہیں۔ آج کے ماحول میں غریب بچیوں کی شادی مستقل مسئلہ ہے۔ بہر حال ان حالات میں یہ زکوٰۃ کے حقدار ہیں اور جبکہ بچیوں کی شادیوں کا مسئلہ بھی ہے، اس صورت میں بطور خاص ان کا تعاون کیا جانا چاہئے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
گاڑی کے لئے قرض اور ماہانہ کرایہ
ایک شخص نے دوسرے شخص کو ایک لاکھ روپے دیئے، اور اس کے بدلے اسے ایک گاڑی دلوادی یا اپنی ہی گاڑی دے دی، تاکہ وہ اسے چلا کر روزی کمائے اور یہ شرط ہوئی کہ جب اس کے پاس ایک لاکھ روپے ہوجائیں گے وہ واپس کرکے گاڑی لے لے گا۔ طے یہ ہوا کہ گاڑی چلانے والے کے ذمے گاڑی کے تمام اخراجات ہوں گے اور وہ ہر ماہ گاڑی کے مالک کو تین ہزار روپے بھی ادا کرتا رہے گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو اس کی کون سی صورت اختیار کی جاسکتی ہے جس سے یہ معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق درست ہوجائے؟ محمد مامون ،سہارنپور
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:سوال یہ ہے کہ جس شخص نے رقم دی، کیا کہہ کر دی؟ اور یہ ان کے مطابق گاڑی کامالک کون ہے، چلانے والا یا گاڑی کے لئے رقم دینے والا؟ گاڑی کا مالک چلانے والا ہو تو رقم دینے والے کے لئے ماہانہ تین ہزار لینا صحیح نہیں کیونکہ یہ قرض سے نفع حاصل کرنے کی صورت ہوگی لیکن گاڑی کا مالک خریدنے کے لئے رقم دینے والا ہو تو تین ہزار ماہانہ کی شرط جائز ہوگی اور اصولاً یہ گاڑی کا ماہانہ کرایہ شمار ہوگا، پھر جب وہ خود گاڑی خرید کر اس کی گاڑی واپس کردے تو اس کے بعد کرایہ لینے کی کوئی وجہ نہ رہےگی۔ معاملے کی یہ نوعیت شریعت کے مطابق ہے اور سوال کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم