• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن مجید میں ۱۸۵؍ مواقع پر ظلم کی براہ راست یا بالواسطہ طورپر مذمت کی گئی ہے

Updated: October 24, 2026, 4:21 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

احادیث میں بھی مظلوم کی حمایت اور ظالم کا مقابلہ کرنے کا حکم آیا ہے۔ اس پس منظر میں ضروری ہے کہ ہم شریعت کی حدود اور قانون کی پاسداری کے ساتھ ظالم قوتوں کے خلاف مزاحمت کریں۔

Regardless of who they are or where they may be, it is essential to raise one’s voice in support of the oppressed and against the oppressor. Image: INN
مظلوم کہیں بھی ہو اور کوئی بھی، اس کی حمایت میں اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ تصویر: آئی این این

اگر قرآن و حدیث کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کی روح کو سامنے رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے بعد عدل و انصاف سے زیادہ کوئی چیز اسلام کی نظر میںمحبوب نہیں ، اور کفر کے بعد ظلم سے زیادہ کوئی عمل اس کی نگاہ میں مذموم اور ناپسندیدہ نہیں ؛ چوںکہ دنیا دارالامتحان ہے ؛ اس لئے اس دنیا کی حد تک کفر و شرک کو تو گوارا کیا جاسکتا ہے اور کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا  لیکن ظلم ناقابل برداشت عمل ہے اور یہ کسی طور پر رَوا نہیں ، نہ مسلمانوں پر اور نہ غیر مسلموں پر ، نہ فرمانبرداروں پر اور نہ نافرمانوں پر۔  چنانچہ قرآن مجید میں ۱۸۵؍ مواقع پر ظلم کی براہ راست یا بالواسطہ طورپر مذمت کی گئی ہے اور بار بار فرمایا گیا ہے کہ اﷲ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ظالموں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اﷲ کے وعدۂ انعام کو نہیں پاسکتے۔ ( بقرہ : ۱۲۴ ) جو لوگ ظلم پر کمر بستہ ہوتے ہیں، وہ اﷲ کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔ ( بقرہ : ۲۵۸ ) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے ۔(انعام : ۲۱ ) ظالموں پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہوتی رہتی ہے۔ ( اعراف : ۴۴ )

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جن قوموں پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے ، ان پر نزول عذاب کا باعث صرف کفر و شرک اور ایمان سے انکار نہیں تھا؛ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ظلم و جور کا حد سے بڑھ جانا ان پر عذاب خداوندی کا باعث بنتا تھا۔ قوم نوح کا حال یہ تھا کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام  اور ان کے رفقاء پر پتھر برسایا کرتے تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود اور اس کی رعایا نے زندہ نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی ، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم خلاف فطرت فسق و فجور میں مبتلا تھی، جو انسانی سماج کیلئے ایک بہت بڑا ظلم ہے ، یہاں تک کہ وہ اس سے نووارد مہمانوں تک کو نہیں بخشتے تھے ، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پیمانہ میں ظلم کا ارتکاب کرتی تھی اور اس نے لین دین کیلئے الگ الگ پیمانے مقرر کئے ہوئے تھے ، فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار ہی نہیں کیا  بلکہ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ بدترین قسم کا ظلم روا رکھا ، یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا ، پس قوموں کی ظالمانہ روش اور جفا انگیز حرکتوں کی وجہ سے ان پر اﷲ کا عذاب آیا ؛ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے مختلف قوموں پر عذاب کے پس منظر میں ان کی ظالمانہ روش کا ذکر فرمایا ہے ۔ ( دیکھئے ، بقرہ : ۵۹ ، نساء : ۱۵۳ ، انعام : ۹۳ ، ہود : ۳۷،۴۴، ۸۳ وغیرہ ) 

یہ بھی پڑھئے:قرآن کی روشنی میں گفتگو کا معیارِ مطلوب

اسلام نے مظلوموں کی مدد اور ظالموں کی مزاحمت کا حکم دیا ہے ، حضرت براء بن عازب رضی الله تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ حضور پاکؐ   نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا ہے ، ان میں سے ایک مظلوموں کی مدد کرنا ہے ،(بخاری : ۲۴۴۵ ) آپؐ  نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی اُمت کے لئے عرفات میں مغفرت کی دُعاء کی تو اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ان کی مغفرت کی، سوائے ظالم کے۔ ( ابن ماجہ : ۳۰۱۳ ) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله تعالیٰ عنہ، نبی کریمؐ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو پھر اسے نجات نہیں ملتی۔ ( بخاری : ۴۶۸۶ ) آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد امراء ہوں گے ، جو اُن کے پاس آمد و رفت رکھے ، ان کے جھوٹ کی بھی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں مدد گار ہو ، میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں اور وہ حوض کوثر پر میری عنایت حاصل نہیں کرسکے گا او رجو اُن کے پاس آنا جانا نہ کرے ، ان کے ظلم میں معاون نہ ہو ، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اورحوض کوثر پر میری اس سے ملاقات ہوگی۔ ( ترمذی: ۲۲۵۹ ) حضرت اوس بن شرحبیل ؓسے مروی ہے، انہوں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ظالم کے ساتھ اس کو تقویت پہنچانے کیلئے چلے حالانکہ اس کو اس کا ظالم ہونا معلوم ہو ، وہ دائرۂ اسلام سے باہر نکل گیا۔ ( مشکوٰۃ  : ۴۳۶ ، باب الامر بالمعروف )

اس پر حدیث سے بھی روشنی پڑتی ہے جس میں آپ ؐنے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے اسے چاہئے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ، اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے ، اگر زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے برا سمجھے اور عزم رکھے کہ جب بھی اﷲ تعالیٰ قدرت دیں گے، وہ اس برائی کو روکنے کی کوشش کرے گا۔ پھر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے۔ ( مسلم ، حدیث نمبر : ۱۷۷)  اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص بزور قوت ظلم کو روکنے سے عاجز ہوتو کم از کم یہ بات ضروری ہے کہ وہ زبان سے اس کی مذمت کرے اور اس پر اپنی ناراضگی و ناخوشی کا اظہار کرے ۔

اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی مثال ایک جسم کے اعضاء کی ہے جیسے تلوے میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور آنکھیں اس کے لئے بے سکون ہوجاتی ہیں، اسی طرح دنیا میں کہیں کوئی مسلمان تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرے مسلمان کو اپنے سینہ میں اس کا درد محسوس کرنا چاہئے۔  دنیا کے دوسرے خطوں میں مسلمانوں پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں اور ہم راحت و سکون کی سانس لیتے رہیں کہ یہ سیلاب بلا ابھی ہمارے گھر نہیں پہنچی ہے تو یہ طرز عمل اسلامی اُخوت ، دینی حمیت اور ایمانی غیرت کے خلاف ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:خودپسندی کا جذبہ خود آپ کے لئے نقصاندہ ہے

اس پس منظر میں ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ موجودہ دور کے  ظالم اور مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتنے والی طاقتوں کے خلاف سرگرم لوگوں اور تنظیموں کا مصلحت کے ساتھ ساتھ دیا جائے اور مصلحت سے مراد یہ ہے کہ مسلمان پیچھے رہ کر اس مزاحمت کو تقویت دینےکی کوشش کریں، اس طرح ہم اپنا ایک مذہبی فریضہ ادا کرسکیں گے ، حب الوطنی کے تقاضہ کی تکمیل ہوگی اور اس طرح کم سے کم ہمارا شمار ظالموں کے مددگاروں میں تو نہیں ہوگا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا اظہار ناراضگی شریعت کی حدود میں ہو، پر اُمن اور جمہوری طریقہ پر ہو ، برداران وطن کو ہم اپنے ساتھ لے کر چلیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے بچیں کہ یہ پوری قوم کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ حکومت کے عمل کیلئے تمام عوام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ؛ اس لئے کہ حکومتیں بہت سارے کام عوام کی منشا کے خلاف بھی کرتی ہیں؛ اس لئے غیر متعلق لوگوں کو ہمارے احتجاج سے کوئی ضرر نہیں پہنچنا چاہئے ۔

ہم خطوط، ای میل، ٹیلی گرام اور اظہار رنج کے علامتی طریقوں کے ذریعہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرسکتے ہیں اور دنیا کے سامنے ظلم پر آمادہ طاقتوں  کی بے توقیری کا مظاہرہ کرکے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرسکتے ہیں؛ اس کیلئے ہمیں معتدل رویہ اختیار کرنا چاہئے، نہ یہ مناسب ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے جور وظلم کو دیکھتے رہیں اور ہماری زبانیں گنگ رہیں اور نہ یہ درست ہے کہ ہم احتجاج اور اظہار مذمت میں عدل و انصاف کے حدود سے بھی تجاوز کر جائیں!

ظالم کی مدد؟

ظلم کے خلاف مقاومت اور اس کو روکنے کی کوشش کو  اللہ کے رسولؐ نے ایک موقع پر بڑے خوبصورت طریقہ پر بیان فرمایا ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا :’’ تم اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ‘‘ ایک صاحب نے عرض کیا : اﷲ کے رسولؐ ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں گے؛ لیکن ظالم کی مدد کس طور کریں ؟ آپؐنے ارشاد فرمایا : ’’ ظالم کی مدد یہ ہے کہ ظلم کرنے سے اس کا ہاتھ تھام لو۔ ‘‘  (بخاری ، حدیث نمبر : ۱۴۴۴) 

ایک اور موقع پر آپؐ  نے ارشاد فرمایا کہ جب لوگ کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ تھامیں (اُسے نہ روکیں) تو قریب ہے کہ اﷲ کا عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔ (ترمذی، حدیث: ۳۰۵۷ ) پس جیسے ظلم کرنا ایک بڑا گناہ ہے اسی طرح ظالم کی مدد کرنا ، اس کی تقویت کا باعث بننا اور ظلم پر خاموشی اختیار کرنا اور دوسری طرف دیکھنے لگنا بھی اُسی درجے کا گناہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK