مذہب کی آزادی، اور ملک کی عیسائی اقلیت

Updated: April 05, 2021, 4:53 PM IST | Ram Piyani

کئی دہائیوں سے ہندو قوم پرستوں کی جانب سے ہندوستان کی عیسائی اقلیت پر بھی تشدد کیا جارہا ہے۔ ۱۹؍ مارچ کو جھانسی اسٹیشن پر دو راہبات کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ اس کی تازہ مثال ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

چند ہفتوں قبل ہی فریڈم ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میںعدم رواداری ، صحافیوں، مظاہرین اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے سبب ہندوستان کو جزوی طور پر آزاد قرار دیا گیا اور اس کی ریٹنگ کم کردی گئی۔ ۱۹؍ مارچ کو جھانسی اسٹیشن پر ہونے والے واقعات اس حقیقت کی بخوبی عکاسی کرتے ہیں۔ ۱۹؍مارچ کو سیکرڈ ہارٹ جماعت سے تعلق رکھنے والی دو راہبات، جو دو بچیوں کے ساتھ دہلی سے ادیشہ جا رہی تھیں ، کو ٹرین سے اترنے پر مجبور کیا گیا۔ بجرنگ دل یااے بی وی پی کی اقسام کے چند کارکنان نے الزام لگایا کہ راہبات اپنی عادت کے مطابق ان بچیوں کو تبدیلیٔ مذہب کی خاطر لے جارہی تھیں۔ ان افراد نے نوعمر بچیوں کے شناختی کارڈ دیکھے اور ان سے ان کے مذہب کے متعلق استفسار کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد کا انداز جارحانہ تھا۔ بچیوں نے کہا کہ وہ عیسائی ہیں اور راہبہ بننے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ پولیس کو بلایا گیا، اور ان چاروں خواتین کو پولیس لے کر چلی گئی۔بشپ ہاؤس کی مداخلت کے بعد اگلے دن انہیں دوبارہ سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ ایک شرمناک واقعہ تھا جہاں خواتین کو تنہا ہی مردوں اور مرد پولیس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس واقعہ کے بعد چاروں جانب غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ کیرالا کیتھولک بشپس کانفرنس (کے بی سی) کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ راہبات کو بغیر کسی وجہ کے تحویل میں لیا گیا تھا اور ان کی تذلیل کی گئی تھی۔کے بی سی نے خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ چونکہ راہبات کیرالا سے ہیں، اس لئے کیرالا کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر ان سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ امیت شاہ ، جو اتفاق سے کیرالا میں انتخابی مہم پر ہیں، نے اس معاملے میں مداخلت کا وعدہ کیا۔
 اے بی وی پی اور بجرنگ دل کارکن یوپی کے تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون کا حوالہ دے رہے تھے اور خواتین کو ڈرا دھمکا رہے تھے۔ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث کارکنوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ ان گروہوں کی ہمت بڑھ رہی ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو پولیس اور قانون کی جانب سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اور قد آور لیڈران کی جانب سے ان کی پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔ 
 کافی عرصہ سے کئی پادریوں کو اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔’’پزیکیوشن ریلیف(۲۰۱۹ء)‘‘نے نشاندہی کی ہے کہ ’’عیسائیوں کے اجتماعات پر حملوں کی تعداد خصوصاً اتوار کی صبح جب لوگ عبادت کی خاطرچرچ میں جمع ہوتے ہیں، میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پادریوں اور جماعت کے ممبروں کو مارا پیٹا جاتا ہے، بعض اوقات ان کے پاؤں توڑ دیئے جاتے ہیں، چرچ میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے، اور ہندو انتہا پسند پولیس کو اطلاع دیتے ہیں کہ عیسائی لوگ، دیگر لوگوں کا مذہب تبدیل کرکے انہیں عیسائی بنا رہے ہیں۔ اب تک سیکڑوں عیسائیوں کو ہندوؤں کو عیسائیت میں تبدیل کرنے کے جھوٹے الزامات کے تحت قید کیا جاچکا ہے۔  فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں مسلمانوں پر حملوں کا ذکر نمایاں طور پر کیا گیا ہے کیونکہ مسلمانوں پر حملے بہت ہی واضح ہیں جبکہ عیسائیوں پر ہونے والے حملوں کی اطلاع عام طورپر کم ہی ملتی ہے۔ ۱۹۹۰ء کی دہائیوں میں ہندوستان میں عیسائی مخالف تشدد کی نوعیت تھوڑی مختلف رہی ہے۔ ان کے خلاف تشدد کی پہلی بڑی کارروائی ۱۹۹۹ء میں پادری گراہم اسٹیورٹ اسٹینس کو بے دردی سے جلا دینا تھا۔ بجرنگ دل کا دارا سنگھ (راجندر پال) جو اس وقت جیل میں ہے، نے لوگوں کو اس بہانے متحرک کیا تھا کہ پادری گراہم ہندو مذہب کیلئے خطرہ ہیں، اور وہ جذام کے مریضوں کے علاج کے بہانے ان کا مذہب تبدیل کررہے ہیں۔اس وقت این ڈی اے حکومت تھی جس کی سربراہی اٹل بہاری واجپئی کررہے تھے اور لال کرشن اڈوانی وزیر داخلہ تھے۔ ابتدا میں اڈوانی نے بتایا کہ یہ بجرنگ دل کا کام نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ انہیں اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ واقعہ اتنا بھیانک تھا کہ ملک کے صدر کے آر نارائنن نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی تھی۔ اس واقعہ کے بعد این ڈی اے حکومت گھبراگئی اور اس نے مرلی منوہر جوشی، جارج فرنانڈیز اور نوین پٹنائک کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وزارتی ٹیم بھیجی۔ ٹیم نے رائے دی کہ یہ ہلاکتیں این ڈی اے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں۔ اسی وقت اڈوانی نے واقعے کی تحقیقات کیلئے وادھاوا کمیشن مقرر کیا۔ کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بجرنگ دل کارکن ، دارا سنگھ، جو ونواسی کلیان آشرم ، وشوا ہندو پریشد کی طرح کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہا تھا ، وہ اصل مجرم تھا اور جس علاقے میں پادری گراہم کام کر رہے تھے وہاں عیسائیوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔
 بعدازاں  ڈانگ (گجرات)، جھبوا (مدھیہ پردیش) اور ادیشہ کے آدیواسی علاقوں میں عیسائیوں کے خلاف عدم تشدد کی باقاعدہ وارداتیں ہوئیں۔ ہر سال کرسمس قریب آنے پر عیسائیوں کے خلاف تشدد ہوتا تھا۔ اگست ۲۰۰۸ء میں جو ہوا، وہ شرمناک تھا جس میں سیکڑوں عیسائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں بے گھر ہوگئے۔ سیکڑوں گرجا گھروں کو نقصان پہنچا یا گیا۔اس وقت دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس اے پی شاہ نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی تھی۔ عیسائیوں کیخلاف تشدد کو ہوا ایک متنازع پروپیگنڈے کے بعد ملی ہے کہ انہیں بہت زیادہ غیر ملکی فنڈ مل رہا ہے، اور وہ دھوکے سے لوگوں کا مذہب تبدیل کررہے ہیں۔ لیکن تمام عیسائی اس بنیاد پر کام نہیں کرتے۔ مؤرخین کے مطابق ہندوستان میں عیسائیت ۵۲ء سے ہے۔ ان کا بنیادی کام صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہے۔ ہندو قوم پرستوں کے جیٹلی اور اڈوانی جیسے کئی مشہور لیڈر وں نے انہی کے اسکولوں سے تعلیم حاصل کی ہے۔اس پروپیگنڈے کی سب سے بڑی وجہ آدیواسی علاقوں سے عیسائیوں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ عیسائی وہاں بیماروں کی مدد کر رہے ہیں، اور تعلیم دے کر انہیں بااختیار بنارہے ہیں۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی سے وی ایچ پی اور وانوسی کلیان آشرم جیسی تنظیمیں ان علاقوں پر توجہ مرکوز کررہی ہیں، اور یہاں ان کے سوامی سرگرم ہیں۔ ان علاقوں میں شبری اور ہنومان کو آدیواسیوں کی شبیہ کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے اور عیسائی مخالف پروپیگنڈے کے ساتھ ہندو قوم پرستی پیدا کی جارہی ہے۔ یہ وہ پروپیگنڈا ہے جو تشدد کی بنیاد بنتا ہے، اور گزشتہ چند برسوں سے مرکز میں واقع طاقت ایسی تنظیموں اور قوم پرستوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK