بیف بندش ہٹائو، معیشت چل پڑے گی

Updated: February 11, 2020, 4:25 PM IST | Hasan Kamal

مہاراشٹر میں چند برس پہلے تک بیلوں اورسانڈوں کی فروخت پرکوئی پابندی نہیں تھی۔ لیکن فرنویس سرکار نے آتے ہی بیف بندش کر دی تونہ صرف ہزاروں قصاب بے روزگار ہوئے، بلکہ دھاراوی کی چمڑا صنعت اور کولھا پوری چپل بنانے کا دھندا بھی چوپٹ ہو گیا۔

 بیف بندش ہٹائو، معیشت چل پڑے گی
بیف بندش ہٹائو، معیشت چل پڑے گی ۔ تصویر : آئی این این

 ملک کی موجودہ معاشی صورت حال کیا ہے ، یہ جاننے کے لئے آپ کا ماہر معاشیات ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کہیں ملازمت کرتے ہوں تو یقیناًجانتے ہوں گےکہ گھر والی گھر چلانے میں کس بری طرح ہلکان ہو رہی ہے۔ گھریلو اخراجات ، بچوں کی فیس ، کھانے پینے کی اشیاء کی روز بڑھتی مہنگائی نے ہر خانہ دار خاتون کو ہر وقت بڑبڑاتے رہنے پر مجبور کر رکھا ہے۔اگرآپ کاکوئی چھوٹا موٹاسا بھی کاروبار ہے تو آپ کو علم ہوگا کہ آپ ہر شام دُکان جا کر جو نقدی گھر لایا کرتے تھے، اس میںکتنے فیصد کمی آئی ہے۔ اور اگر آپ خدا نخواستہ کچھ نہیں کر رہے ہیں تو آپ کو یقیناً معلوم ہوگا کہ ممبئی جیسے کاسمو پولیٹن شہر میں بھی روزگار پانا کچھ برس پہلے کی طرح آسان نہیں رہ گیا ہے۔ ٹیکسی والے، اسکوٹر رکشا والے، سبزی فروش، گوشت فروش ،حلوائی، کرانہ فروش کسی سے بھی بات کر لیجئے ، ہر فرد یہی کہتا ملے گا کہ دھندا آدھا رہ گیا ہے۔ دھندا اس لئے آدھا رہ گیا ہے کہ خریدارصرف وہی چیز خریدنا چاہتا ہے، جس کے بغیر کام ہی نہ چل پائے اور اتنی ہی مقدار میں خریدنا چاہتا ہے، جس سے بس کام چل جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طلب یا مانگ میں کمی آگئی ہے۔ جو لوگ قدرے زیادہ باخبر ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاشی معاملات سے متعلق دنیا کی ہر ریٹنگ ایجنسی نے ہندوستان میں گھریلو شرح نمو کی، جسے عرف عام میں جی ڈی پی کہا جاتا ہے، کیفیت مایوس کن قرار دے رکھی ہے۔ مو‘ڈی ہو، ورلڈ بینک ہو یا انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ ، حد یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی معاشی نگرانی کمیٹی، سب نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ نکالا ہےکہ ہندوستان کی شرح نمو کے جو اعداد و شمار مودی سرکار بتاتی ہے ، وہ کسی بھی طرح قابل اعتبار نہیں مانے جا سکتے۔ خود نریندر مودی کے سابق معاشی مشیر اروند سبرامنیم ، جو حالات سے مایوس ہو کر عہدہ ہی چھوڑ کر بھاگ گئے، کہہ رہے ہیں کہ سرکار جوبھی اعدادو شمار بتائے، اس میں سے ۲ء۵ فیصد گھٹا دیا جائے ۔ چنانچہ اگر مودی سرکار خم ٹھونک کر کہتی ہے کہ شرح نمو ۵ ؍ فیصد سالانہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شرح نمو فقط ۲ء۵ ہے۔ قصہ مختصروزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے سوا ساری دنیا مانتی ہے کہ ہندوستانی معیشت کی حالت نہایت خستہ ہے۔ جانتے تو یہ لوگ بھی ہیں، لیکن مانتے نہیں ہیں۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے نرملا سیتا رمن نے ۱۶۰ ؍منٹ کی طویل تقریر کی، جو کسی وزیر مالیات کی آج تک کی طویل ترین تقریر تھی۔  
  ہندوستان سمیت دنیا کے تمام ماہرین معاشیات دو امور پر بالکل متفق ہیں۔ ایک یہ کہ حکومت کا خزانہ بالکل خالی ہے۔ دوسرا یہ کہ معیشت میں جنبش اس وقت تک پیدانہیں ہو سکتی، جب تک متوسط طبقے اور اس سے بھی زیادہ دیہی علاقوں کے غریبوں کے ہاتھ میں کچھ پونجی نہیں آ جاتی۔ان کے ہاتھ میں تب ہی پونجی آسکتی ہے، جب سرکار انہیں مالی مدد دے۔ جو ممکن نہیں کیونکہ سرکار کا خزانہ بالکل خالی ہے۔ 
 اب سے کچھ برس پہلے تک ہندوستان بھر میں کسان ایک خاص عمر تک پہنچ جانے والے بیلوں اور سانڈوں کو بیچ سکتے تھے۔ کچھ ریاستوں میں تو کسان وہ گائے بھی بیچ دیتے تھے ، جو دودھ دینا چھوڑ چکی ہوں۔ اس میں شبہ نہیں کہ گائے کو ہمارے ملک میں مقدس  مانا جاتا ہے، اس لحاظ سے ہر ہندوستا نی پر گائے کا احترام واجب ہے۔ یقیناًاس کےذبیحہ کی اجازت نہ ہونی چاہئے۔ بہت سے لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں اور جو واقف ہیں ، وہ اس کے ذکر سے جان بوجھ کر گریز کرتے ہیں کہ سب سے پہلے مغل بادشاہ ہمایوں نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا فرمان جاری کیا تھا۔ شیر شاہ سوری نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔ اکبر تو گوشت خوری کا ہی مخالف تھا۔  یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ، جن میں بنگال، کیرالا اور شمال مشرق ریاستیں شامل ہیں، دس سال کی عمر سے اوپر والی گائیں  فروخت کر دی جاتی ہیں۔ کسان یہ بوڑھی گائے بیچ کر اور اس سے حاصل شدہ رقم میں کچھ اور رقم ملاکر نئی گائے خرید لیا کرتے ہیں۔ پھر بھی گائے کے ذبیحہ سے پرہیز کرنا سماجی میل ملاپ کیلئے لازمی ہے۔ لیکن بیل اور سانڈ کو مقدس مویشیوں کی فہرست میں رکھنےکی  کوئی منطق سمجھ میں نہیںآتی۔ بیل  پہلے کاشتکاری کا لازمی جز ہوا کرتا تھا۔ کسان اسے ہل میں جوتتے تھے۔ ہل کی جگہ ٹریکٹر نے لے لی ہے۔ بیل پہلے بیل گاڑی چلانے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ بیل گاڑی کی جگہ ٹرک اور ٹیمپو لے چکے ہیں۔ بیل پہلے سرسوں کا تیل اور کھلی نکالنے کے لئے کولہو میں جوڑا جاتا تھا ۔لیکن اب آئل ملز بن چکی ہیں۔ بیل اب افزائش نسل کے سوا کسی کام میں نہیں آتا۔ بوڑھا بیل تو اپنے مالک کے لئے سفید ہاتھی سے کم نہیں۔ کسان اسے کھلائے یا اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالے۔ جن حکومتوں نے گائے اور بیل پالنے کی ذمہ داری اٹھانے کی سیاست کی،  ان صوبوں میں گائے بھوکی مر رہی ہیںاور بیل اور سانڈ کھیتیوں کی کھیتیاں چر کر کسان کا جینا دوبھر کئے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں چند برس پہلے تک ایسے بیلوں اورسانڈوں کی فروخت پرکوئی پابندی نہیں تھی لیکن فرنویس سرکار نے آتے ہی بیف بندش کر دی تونہ صرف ہزاروں قصاب بے روزگار ہوئے، بلکہ دھاراوی کی چمڑا صنعت اور کولہا پوری چپل بنانے کا دھندا بھی چوپٹ ہو گیا۔ 
 ہم بلاوجہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ اگر بیف بندش ہٹا لی جائے تو معیشت چل پڑے گی۔ اسے یوں سمجھئے کہ بندش ہٹتے ہی دیہی علاقوں میں لوگ غیر کارآمد مویشی فروخت کرنے لگیں گے۔ اس سے وہ پونجی ان کے ہاتھ آجائے گی ، جس کو وہ نوٹ بندی کے بعد سے ترس رہے ہیں۔ پونجی ہاتھ آتے ہی وہ ایسی کارآمد گائے خریدیں گے، جو ان کے گھریلو استعمال میں آئے اور اس پونجی کا کچھ حصہ بچ کر آمدنی کا ذریعہ بن جائے۔ پھر وہ ضروریات زندگی خریدنا چاہیں گے جس میں کپڑاسب سے پہلے ہوگا۔ جیسے ہی کپڑوں کی ڈیمانڈ ہوگی، سورت کی ساری انڈسٹری حرکت میں آجائے گی، جوغریبوں کے لئے تین چار سو روپے کی مالیت کی ساڑیاں بناتی تھی ، لیکن جسے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے بالکل تباہ کر دیا ہے۔ ہزاروں لوگوں کو کاروبار ملنے لگے گا۔ پھر بیف بازار میں آنے سے کئی طرح کے کاروبار پھر شروع ہو جائیں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ چمڑے کی انڈسٹری جنبش میں آ جائے گی۔ چمڑے کی انڈسٹری ایکسپورٹ کاسامان بناتی ہے۔ غرض دیہی علاقوں کے عوام کو پونجی کی دستیابی مجموعی طور پر ملک کی معیشت میں تھوڑی ہی سی سہی ، حرکت ضرور پیدا کرے گی۔ اور جب معیشت میں حرکت ہوتی ہے تو سب جانتے ہیں کہ حرکت میں برکت بھی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK