Updated: March 10, 2026, 6:04 PM IST
| Pyongyang
شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں کم جو اے کو تقریب کے دوران اپنے والد کے ساتھ بیٹھے اور ان کا ہاتھ تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا عوامی سطح پر کثرت سے سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ قومی قیادت بتدریج انہیں عوام سے متعارف کروا رہی ہے۔
کم جونگ ان اپنی بیٹی کم جو اے کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اپنے عوامی خطاب میں ملک کی خواتین کی تعریف کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے یوم خواتین کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔ اس تقریب میں سپریم لیڈر کی بیٹی کم جو اے کی موجودگی نے قومی قیادت میں ان کے ممکنہ مستقبل کے کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔
دارالحکومت پیانگ یانگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، کم نے شمالی کوریا کی خواتین کو ”جسمانی طور پر کمزور لیکن مضبوط عزم کی مالک“ قرار دیا اور انہیں ”انقلاب کا مضبوط ستون“ کہا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق، کم نے کہا کہ ملک کی خواتین نے اپنے کام اور قربانیوں کے ذریعے ہمت اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری دورِ حاضر کی خواتین انقلاب کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہیں۔ ان کے عزم اور محنت کی عکاسی ان کی روزمرہ زندگی کی جدوجہد میں ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا بھر کی پارلیمانوں میں خواتین کی نمائندگی صرف ۵ء۲۷؍ فیصد: رپورٹ
تقریب میں معاشرے میں خواتین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے پرفارمنس اور تقاریر بھی کی گئیں۔ اس موقع پر کم کی بہن کم یو جونگ، وزیر خارجہ چو سون ہوئی، دیگر اعلیٰ حکام، غیر ملکی سفارت کار اور خواتین کی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔ کم کی اہلیہ ری سول جو اور ان کی بیٹی جو اے بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ سرکاری میڈیا نے جو اے کا حوالہ صرف کم کی ”پیاری بیٹی“ کے طور پر دیا، لیکن لیڈر کے ساتھ ان کی نمایاں موجودگی نے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں سپریم لیڈر کی بیٹی کو تقریب کے دوران کم کے ساتھ بیٹھے اور ان کا ہاتھ تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا عوامی سطح پر کثرت سے سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت بتدریج انہیں عوام سے متعارف کروا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ”کوئی نئی جنگ نہیں“ مہم کے بعد، ٹرمپ نے صرف ۲؍ سال میں ۸؍ ممالک پر حملوں کا حکم دیا
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے پہلے کہا تھا کہ پیانگ یانگ جو اے کو مستقبل کے جانشین کے طور پر نامزد کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جنوبی کوریائی قانون ساز لی سیونگ کوون کے مطابق، ایجنسی نے حال ہی میں انہیں ”نامزد جانشین کے مرحلے“ پر قرار دیا ہے۔ سابقہ جائزوں میں کہا گیا تھا کہ وہ صرف قیادت کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو جو اے شمالی کوریا پر حکومت کرنے والی کم خاندان کی چوتھی نسل بن سکتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب کم نے ذاتی طور پر خواتین کے عالمی دن پر خطاب کیا، سیول کے حکام کے مطابق یہ اقدام شمالی کوریا کے ریاستی بیانیے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے اور ایک متحد ’اشتراکی خاندان‘ کا تاثر دینے کی کوشش ہوسکتا ہے۔