نفرت انگیز مہم کے نتائج

Updated: February 02, 2020, 4:14 PM IST | Dr Mushtaque Ahmed

وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر اور ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما اپنے نفرت انگیز موقف پر قائم ہیں ۔ اسی نفرت کا نتیجہ ہے جسے ساری دنیا نے دیکھا کہ جس دن ہم بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ان کی۷۲؍ویں برسی پر خراجِ عقیدت پیش کررہے تھے اور ملک میں نفرت کی آندھیوں کو روکنے کیلئے عہد کر رہے تھے،

 قاتل کی دیدہ دلیری اور قانون کے خاموش تماشائی محافظ ۔ تصویر : پی ٹی آئی
قاتل کی دیدہ دلیری اور قانون کے خاموش تماشائی محافظ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ملک میں جس طرح کی فضا تیار ہو گئی ہے، اس سے یہ خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ عوام الناس کے جمہوری حقوق تلف کئے جانے کا راستہ ہموار ہو رہاہے کیو ںکہ آئین کی پاسداری کا حلف لینے والوں نے آئین کی دھجیاں اڑانی شروع کردی ہیں۔ دہلی اسمبلی کے انتخابات کیلئے جاری ریلیوں اور عوامی جلسوں میں جس طرح ہمارے معزز ممبرانِ پارلیمنٹ غیر جمہوری طرزِ اظہار کو اپنا رہے ہیں اور معصوم لوگ باگ کو متشدد کر رہے ہیں، اس سے کچھ اسی طرح کے تاثر مل رہے ہیں۔اس کا نتیجہ ہے کہ انتخابی کمیشن نے کابینہ کے وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر اور رکن پارلیمان پرویش ورما کو نوٹس جاری کیا ہے۔
   حالانکہ اس نوٹس کا کچھ مطلب نہیں ہے۔یہ اقدام صرف حزب مخالف کی آواز کو بند کرنے کیلئے کیا گیا ہے کیونکہ۷۲؍گھنٹے اور۹۶؍گھنٹے انتخابی تشہیر سے ان دونوں کو الگ رکھا گیاہے۔اس کے بعد پھر وہ اس عمل میں شامل ہوں گے ۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ وزیر مملکت انوراگ ٹھاکر اور ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما اپنے موقف پر قائم ہیں اور اعلانیہ طور پر شاہین باغ میں جمہوری طریقے سے تحریک چلانے والوں کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اسی نفرت کا نتیجہ ہے جسے ساری دنیا نے دیکھا کہ جس دن ہم  بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ان کی۷۲؍ویں  برسی پر خراجِ عقیدت پیش کررہے تھے اور ملک میں نفرت کی آندھیوں کو روکنے کیلئے عہد کر رہے تھے، اسی دن گوڈسے ثانی نے وہی عمل کرکے دکھایا جس عمل سے بابائے قوم کی شہادت ہوئی تھی۔
  المیہ یہ ہے کہ دہلی پولیس تماشائی رہی اور قاتل اپنے ہاتھوں میں ریوالور لے کر لہراتا رہا ۔ اتنا ہی نہیں اس نے جامعہ کے طلبہ پر گولی چلانے سے پہلے سوشل میڈیا پر اپنی تصویریں بھی ڈالی تھیں۔ اب پولیس اس کو نابالغ قرار دے رہی ہے اور رام بھکت گوپال کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے ۔ ظاہر ہے ہمارے یہاں جو عدلیہ کا نظام ہے یا پھر پولیس عملے کا تفتیشی عمل ہے وہ کب سچائی تک پہنچے گا، یہ کہنا مشکل ہے لیکن اس عمل نے اتنا تو ملک کے ان تمام شہریوں کو فکر مند کردیا ہے جو ملک کی سا  لمیت اور تکثیریت کے علمبردار ہیں ،ملک میں مذہبی منافرت کے خلاف ہیں اور ملک کی بد تر ہوتی اقتصادی صورتحال سے پریشان ہیں۔
  حسبِ روایت جامعہ کے حادثہ پر مختلف سیاسی جماعتوں کا ردِ عمل آیا ہے اور سب نے اسے قابلِ مذمت قرار دیا ہے اور افسوس  بھی ظاہر کیا ہے ۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب تک اس قاتل کی حمایت میں کوئی سیاسی جماعت کھل کر نہیں آئی ہے لیکن یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس شخص کو مشتعل کرنے والے کون لوگ ہیں؟ اب جبکہ دہلی کرائم برانچ نے اس کی تفتیش شروع کی ہے تو عوام کا مطالبہ یہ بھی ہوگیا ہے کہ اس شخص کے پسِ پردہ کون ہے ؟اس کا بھی پردہ فاش ہو؟ لیکن حالیہ دنوں میں دہلی پولیس کا جو رویہ رہا ہے اس سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اصل مجرم کا چہرہ سامنے آسکے گا۔
  دراصل شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ملک گیر سطح پر آئین کے پاسداروں کی صف بندی ہورہی ہے اور لاکھ کوششوں کے بعد اس صف بندی میں کسی طرح کی دراڑ واقع نہیں ہو رہی ہے اور نہ اس پر مذہبی رنگ حاوی ہو سکا ہے ۔مخالفین اپنی ناکامیوں سے بوکھلا گئے ہیں اور اب سیدھا حملہ مسلمانوں پر ہونے لگا ہے ۔ ایسا جان بوجھ کر کیا  جا رہاہے تاکہ دہلی کے اسمبلی انتخاب کے نتائج کو متاثر کیا جا سکے۔ اب تو دہلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال کو بھی انتہا پسند کہا جانے لگا ہے۔ شاہین باغ کے پُر امن طریقے سے تحریک چلانے والوں کے خلاف جس طرح نفرت انگیز بیان بازی کی گئی ہے اور لوگوں کے اندر مذہبی جنون پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ شاید کامیاب نہ ہو لیکن جامعہ کے طالب علم شاداب فاروقی پر گولی چلانے کا واقعہ یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ ملک میں کس طرح مذہبی جنون حاوی ہو رہاہے؟ سچائی یہ ہے کہ ۱۹۹۲ء کے بعد ملک میں شدت پسند تنظیموں نے ہزاروں اسکول کے جال بچھائے ہیں ۔ مختلف ناموں سے چلنے والے ان تعلیمی اداروں میں معصوم ذہنوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف زہر بھرنے کا کام جاری ہے۔
  آج سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں کہ کس عمر کے نوجوان مذہبی جنون میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور انسانی برادری کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔ اس میں قصور صرف ان شدت پسند تنظیموں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے ان سربراہوں کا بھی ہے جو خود کو مبینہ طورپر سیکولر کہتے ہیں، وہ بھی اس نفرت انگیز تعلیمی اداروں کی بنیاد میں کسی نہ کسی طرح معاون رہے ہیں ۔اب جبکہ پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے اور اس کی سرپرستی کی جا رہی ہے تو وہ کھلے عام ملک کے قانون کو چیلنج کر رہے ہیں ۔ کبھی جے این یو کے کیمپس کا نظارہ سامنے آرہا ہے تو کبھی جامعہ کے احاطے میں دہلی پولیس کے ساتھ سول ڈریس والے شدت پسند تنظیموں کے ارکان معصوم طلبہ پر قہر برپا کرتے ہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے کیمپس میں جو کچھ ہوا، اس کیلئے تو وہاں کے وائس چانسلر کی ابن الوقتی شامل تھی کہ اس کے کہنے ہی پر طلباء وطالبات پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور لڑکیوں کو راتوں رات ہاسٹلوں سے باہر کیا گیا  لیکن جامعہ کا واقعہ تو اعلانیہ ہے کہ ہمارے آئین کا حلف لینے والوں نے اسے مشتعل کیا ہے اور اس نے ایک ایسے دن کا انتخاب کیا کہ ہم ہندوستانیوں کیلئے۳۰؍ جنوری مسیحائے امن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہوتا ہے اور اس دن ملک میں امن وچین کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بابائے قوم کے پیغام کو تحفظِ انسانیت کیلئے نسخۂ کیمیا قرار دیا جاتاہے مگر اسی بابائے قوم کی دھرتی پر اُسی دن لہو لہان معصوم چہرے کی تصویر پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے۔ اس سے ملک کی جو شبیہ ہے وہ نہ صرف مسخ ہوئی ہے بلکہ پوری دنیا اب فکر مند ہے کہ آخر ہندوستان میں ہو کیا رہاہے؟کون غلط ہے  اور کون صحیح ہے؟ اور اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
  یہاں اس حقیقت کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ملک کی سالمیت کے خلاف کسی طرح کی بیان بازی نہیں ہونی چاہئے۔ سی اے اے کی مخالفت جمہوری حق ہے، اس کیلئے تحریک چلانے والوں کو یہ آزادی ہے کہ وہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی باز یابی کیلئے گامزن رہیںمگر ان کی صف سے کوئی ایسی آواز نہیں اٹھنی چاہئے جو ہمارے آئین کے خلاف ہو ۔جذباتی نعروں سے پرہیز بھی ضروری ہے کیوں کہ سی اے اے پر ظاہر وباطن دونوں میں طرح طرح کی شطرنجی چالیں چلی جا رہی ہیں۔ ریاست بہار میں ہمارے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک طرف این پی آر میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف این پی آر کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔ ان ہی کی پارٹی کے دو سرکردہ لیڈر پون ورما اور پرشانت کمار کو پارٹی سے نکال باہر کردیا گیا ہے کیوں کہ وہ سی اے اے کی مخالفت کر رہے تھے۔
  اسی طرح بہت سے لیڈران ہیں جو حالیہ این پی آر اور این آر سی کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں لیکن وہ حکومت کے ساتھ بھی ہیں اسلئے اس تحریک کے ذمہ داران کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ چاق وچوبند رہیں اور بیدار بھی رہیں۔یہ ایک انوکھی تحریک ہے کہ جس کا کوئی قائد نہیں ہے۔ ہر وہ شہری جو اس سے متاثر ہونے والا ہے یعنی اقلیت، دلت ،آدیباسی ، پسماندہ اور لاکھوں خانہ بدوش جن کی شہریت خطرے میں ہوگی وہ اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ اس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں، اسلئے لاکھ کوششوں کے بعد یہ تحریک مذہبی اور مسلکی تنازعوں کی شکار نہیں بن سکی ہے مگر آنے والے دنوں میں اس تحریک کو کچلنے کی کوشش ہوگی اور کیسے ہوگی؟ اس کا نمونہ جامعہ کے طلبہ پر دن کے اجالے میں اور محافظِ قانون کی موجودگی میں پیش کیا  جا چکا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK