رونی اسکرووالا: جاگتی آنکھوں کا خواب

Updated: March 15, 2021, 12:27 PM IST | Shahid Nadeem

مشہور فلمساز رونی اسکرووالا کی کتاب ڈریم وِدھ یورآئیزاوپن ‘ ان کے دودہائی سے زائد پر پھیلے کامیاب اور ناکام تجربات کا نچوڑ ہے

Ronnie Screwvala - Pic : INN
رونی اسکرووالا ۔ تصویر : آئی این این

 گرانٹ روڈ کی پُرپیچ گلیوں میں پلنے بڑھنے والا یہ پارسی نوجوان آج نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک فلمی دنیا کا ایک اہم اور معتبر نام بن چکا ہے۔ کئی کامیاب فلمیں ان کے نام کا حصہ  بن چکی ہیں۔ فلمساز اور تقسیم کار کی حیثیت سے اس کی اپنی شناخت ہے۔ اپنی کاروباری سوجھ بوجھ کی بدولت اکیسویں صدی    کے دنیا  کے ۷۵؍ بااثر لوگوں میں ان کا نام شامل ہے۔ ٹائم اور فورچیون میگزین نے انہیں اپنی فہرست میں جگہ دی ہے۔ یوٹی وی کیبل نیٹ ورک ان کے ذہن کی پیداوار ہے۔ یہ وہ دورتھا جب دوردرشن کے علاوہ اورکوئی چینل موجود نہیں تھا ۔وہ اپنے خاندان کے پہلے فرد ہیں جنہوںنے صنعت وتجارت میں قدم رکھا۔
  رونی اسکرووالا کی کتاب ڈریم وِدھ یورائزاوپن ‘ ان کی دودہائی سے زائد پر پھیلے کامیاب اور ناکام تجربات کا نچوڑ ہے۔ اپنے معاونین اور عزیزوںکا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں  میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کتاب لکھوں گا ، لیکن  سال بھر سے بھی کم عرصہ میں بالآخر میں نے لکھنا شروع کردیا۔ کھلے دل کا یہ تجربہ کافی پرجوش ثابت ہوا، گزرے وقت کی راہ گزر میں گھومتے پھرتے ان حیران کن لوگوں کو یاد کرنا جن کے  ساتھ کام کرنے یا شراکت کا مجھے موقع ملا، یاد داشت  کے اوراق  پلٹتے ہوئے ان سحر انگیز لمحوں کے ساتھ ساتھ خوفناک لمحوں کو دوبارہ جینا خاصہ سنسنی خیز رہا۔ یہ سب ماضی کے گوشوں میں احتیاط سے رکھے بہت سے سبق سامنے آئے ہیں جب اپنے اس نئے سفر پر روانہ ہورہا ہوں۔ میرے سامنے موجود  ہیں‘‘ 
 رونی اسکرووالا کی کاروباری زندگی کا آغاز اسی کی دہائی میں کیبل ٹی وی سے ہوا، اس کے بعد انہوںنے لیزر ٹوتھ برش بنانے کی صنعت میں قدم رکھا، یہ کام اتنا پھیلا کہ پورے ملک میں اپنی قسم کا سب سے بڑا کاروباربن گیا۔شوق پورے کرنے کے لئے وہ اسٹیج اور ٹیلی ویژن کی طرف متوجہ ہوئے، نوے کی دہائی میں یوٹی وی کی بنیاد رکھی۔ اپنی  ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اکثر لوگ مجھ سے میرے تجربات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ زیادہ ترکامیابی کے بارے میں آخر ناکامی کے بارے میں کیوں نہیں، میرے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے۔ ابتدائی دنوں کی ہی ایک مثال لے لیں، میری پہلی بالی ووڈ فلم دل کے جھروکے سے ایسی فلاپ ثابت ہوئی کہ آپ نے اسے شاید ہی دیکھاہو۔ اور اگرکسی نے دیکھا ہو تو بھی اسے قبول نہیں کرے گا، لیکن بطور فلمساز اس فلم نے مجھے جو سبق دیا اس نے مجھے  اس میدان  میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ اپنی اس پہلی کوشش میں فلم بنانے کا نہایت قابل اعتراض  انداز اپنایا۔کوشش تھی کہ بالی ووڈ کا ہرطرح کا  مسالہ کام میں لایا جائے، ایک ولن، ایک ہیرو، پیار محبت ،۶؍ گانے اور تین گھنٹے کی فلم۔ فلم کے آخری بار ایڈیٹنگ کیلئے جاتے وقت ہی مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ ہم چاہے جوکرلیں، فلم ناکام ہوگی۔ میرے لئے  اوگاڈ (یا خدا) کا لمحہ فلم کا ایک منظرتھا  جس میں ایک ناگ دودھ پیتا ہے ۔ منظر اتنا طویل تھا کہ تمام کوشش کے باوجود میں سمجھ نہیں سکا کہ یہ منظر آخر فلم میں کیوں ہے، ہدایت کار کا اصرارتھا کہ ناگ خوش بختی کی علامت ہے۔ فلم میں دس کروڑ لگے تھے ( آج کے حساب سے پچاس کروڑ)سب کے سب گنوابیٹھے۔اس فلم کی ناکامی نے رونی کو ایک نیا حوصلہ اور ہمت عطا کی،  وہ اپنے کام میں مستقل  مزاجی سے جمے رہے اور عام روش سے ہٹ کر فلمیں بنانے اور بازار میں اتارنے کی پوری تیاری کی،  وہ  لکھتے ہیں دوسری فلمیں جو ہم نے بنائیں وہ عام فلموں سے الگ تھیں۔کھوسلہ کا گھونسلا، فیشن، کائی پوچے، کمینے ،پان سنگھ تومر، پیپلی لائیو اورراج نیتی ۔  
 رونی اسکرووالا، اپنی بیوی زرینہ کے ساتھ کانس فلم فیسٹیول  کے لئےگئے ہوئے تھے۔      وہ ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر کرتےہیں۔ ہمارا ارادہ تین دن  ٹھہرنے کا تھا، آخری روز ہم نے سنا کہ آدھی رات کو سنجے لیلا بھنسالی کی دیوداس کا عالمی پریمیر ہونے والا ہے۔ شاہ رخ خان ، ایشوریہ رائے ، مادھوی دکشت اور سنجے اس میں شریک ہوں گے۔ زرینہ اورمیں نے دعوت نامہ کے لئے تگ ودو کی ، کافی کہنے سننے کے بعد قطار میں لگنے کے بعد دوسری بالکنی میں جگہ مل ہی گئی۔بہرحال دعوت نامہ میں لباس کے بار ے میں ہدایت درج تھی۔ میرے پاس سوٹ نہیں تھا (آج بھی نہیں ہے، مجھے عام پتلون، ٹی شرٹ اور بنا  فیتے کے جوتے پسند ہیں) ہم  نے فوراً کرایے پر سوٹ حاصل کیا ۔ رات گیارہ بجے زرینہ  میں  ہوٹل سے پیدل نکلے۔ ایک ہزار سے زائد شائقین کا ہجوم آدھی رات کو بالی ووڈ کی ایک فلم کے پریمییر کیلئے  موجود تھا۔ ہم بھی سڑک کنارے ستاروں کو دیکھ کر ہاتھ ہلانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔ جلد ہی ایک عالیشان بگھی  آئی، جس میں شاہ رخ، ایشوریہ،  مادھوری اور سنجے شان سے کھڑے تھے۔  مجھے یہاں بھارت کی یہ شان دیکھ کر خوشی اور فخر کا احساس ہوا۔ 
   رونی اسکرو والا کی ایک پسندیدہ فلم ’سودیس‘ بھی ہے، جس کے نام پر انہوںنے ’’سودیس فاؤنڈیشن‘‘ قائم کیا۔ ۲۰۰۳ء کے بھارت کے گاؤں میں اسے فلمایا گیا تھا۔  رونی کے مطابق ’’فلم کی خاص لوکیشن مہابلیشور اور پنچ گنی  کے دامن میں آباد وائی نامی جگہ تھی، جو اپنے مندروں اور کرشنا ندی تک  اترنے والی گھاٹوں تک جاتی ہے۔ خوبصورت جگہ تھی ، لیکن پورا دیہاتی علاقہ۔ اس ہوٹل سے جہاں فلم اداکار اوردیگر کام کرنے والے ٹھہرے تھے۔ کار سے ایک طرف  آنے جانے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا۔  ایک روز کی بات ہے  شوٹنگ کا سلسلہ شاہ رخ کے کردار کو ایسے گاؤں لے گیا جہاں ریل سے ہی جاسکتے تھے۔ وہ گاؤں کے سب سے غریب بوڑھے آدمی سے ملنے جانا تھا۔ واپسی کے دوران اپنی روح میں جھانکنا تھا، یہ ملاقات اور یہ سفر انہیں اپنے پرانے گھر کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ بالی ووڈ میں اشوتوش کی شہرت فلم کے ہر فریم میں مکمل سچائی لانے والی ضدی ہدایت کار کی ہے۔ یہ ان کا اصرار تھا کہ بوڑھے کی جھوپڑی اصلی ہو اورہرطرف  پہاڑیوں سے گھرا ویران علاقہ ۔ ہم صبح کارسے طے شدہ لوکیشن کے لئے ایک گھنٹہ کے سفرپر نکلے ۔ شاہ رخ کو ان دنوں پیٹھ کا  مسئلہ پریشان کررہا تھا۔ جب جب گاڑی جھٹکے سے اچھلتی شاہ رخ درد سے  جبڑے کس لیتا اوردانت دبا لیتا۔ ہمارا استقبال ایک بالکل ویران بنجر زمین کے ٹکڑے نے کیا۔ جس کی رونق ایک عدد چھوٹی سی جھوپڑی بڑھا رہی تھی ۔ شاہ رخ نے اپنی درد سے کراہتی  پیٹھ کو کھینچ تان کر حیرت سے اس منظر پر نظر دوڑائی اور سر ہلاکر سپاٹ  لہجے میں کہا، یہاں توکچھ بھی نہیں ہے، ہم اسے فلم سٹی میں بھی فلما سکتے تھے۔    لیکن اس تبصرے کے بعد پورا دن توجہ اور خلوص سے کام کرتے رہے۔ جیسے اس شاٹ کے لئے ہم مناسب جگہ پر تھے۔
 لنچ کے دوران جھلسا دینے والی گرمی میں کام چلاؤ چھتری کے نیچے بیٹھے تھے میں اپنا تجسس روک نہ سکا اور سوال کرہی ڈالا ۔’’آشو! میں سوچ رہا  تھا کہ اس  لوکیشن میں انوکھا کیا ہے، جو ہم ناظرین کو دکھانا چاہتے ہیں۔‘‘ آشو نے تیکھی نظروں سے مجھے دیکھا اور میرے شانے کے پیچھے دور فاصلے پر کھڑے ایک عجیب وغریب  تین چوٹیوں والی  پہاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ شاہ رخ جب بوڑھے سے ملنے کے لئے جھوپڑی میں داخل ہوتو پیچھے وہ حیرت انگیز منظر دکھائی دے۔سواتین گھنٹہ کی فلم  میں تین سیکنڈ کا منظر ، لیکن جب و ہ منظر دیکھتا ہوں تو اس ٹیم کے لئے فخر سے بھر جاتا ہوں، جو اپنے یقین پر قائم رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK