ملئے شارجہ کے حکمراں ڈاکٹر شیخ سلطان بن القاسمی سے، جو اپنی علم و تحقیق سے دوستی کی بدولت دنیا کی کئی یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔
ڈاکٹر شیخ سلطان بن القاسمی۔ تصویر: آئی این این
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ حکمراں طبقہ اپنے فاضل وقت میں اپنی شان و شوکت اور عیش و عشرت میں مبتلا رہتا ہے۔ لیکن ایک منفرد مثال شارجہ کے حکمراں شیخ سلطان بن القاسمی کی بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے بیش قیمت سال مطالعہ اور علمی تحقیق میں صرف کئے ہیں۔ شیخ سلطان نے ۱۹۸۵ء میں بحر ِ عمان میں پرتگالی حکمرانی کے دور پر جو ۱۴۹۷ء سے ۱۵۵۷ء تک تقریباً ڈھائی سو سال پر محیط تھا، تحقیق کی اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، بعد ازاں اسے کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔ ان کی تحقیق The Portuguese in the Sea of Oman کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔
متن کی دستیابی سے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ اس کے لئے انہوں نے برٹش انڈیا لائبریری میں قدیم کتابوں کا مطالعہ کیا اور اہم شواہد اور دستاویز اکٹھا کیں جو تقریباً ۲۱؍ جلدوں پر مشتمل ہیں اور جو علمی و تحقیقی کام کرنے والوں کے لئے بیش قیمت اور مستند ذریعہ ہیں۔
شیخ سلطان نے اس کے لئے طویل عرصہ انڈیا آفس میں مطالعہ اور تحقیق میں صرف کیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات ایک ہندوستان خاتون سے ہوئی جو وہاں ریسرچ کے لئے گئی ہوئی تھیں۔ ان کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ اس تعلق سے ممبئی لائبریری میں بھی کتابیں موجود ہیں۔ چنانچہ وہ ممبئی بھی آئے اور انہوں نے یہاں موجود کتابوں سے نہ صرف استفادہ کیا بلکہ کتابوں اور دیگر دستاویز کی انتہائی سلیقہ سے ترتیب و تدوین کو دیکھ کر متاثر بھی ہوئے ۔ شیخ سلطان نے یہاں موجود اہم کتب کی کاپیاں بنوائیں اور دیگر دستاویز کے ساتھ انہیں محفوظ کرلیا تاکہ وہ مستقبل میں کام آسکے۔
شیخ سلطان بن محمد القاسمی کی سرپرستی میں شارجہ علم اور ثقافت کے فروغ کے لئے مختلف پروگرام اور نمائشوں کا اہتمام کرتا ہے۔ ان کی علم دوستی کی بدولت انہیں دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگریاں بھی حاصل ہوچکی ہیں۔