دیہی معیشت اور تین آرڈیننس

Updated: September 15, 2020, 8:32 AM IST | Editorial

دیہی علاقوں کے غریب تر لوگوں کیلئے منریگا اہم ذریعۂ آمدنی ہے۔ یہ اسکیم یو پی اے کے دورِ حکومت میں جاری کی گئی تھی۔ ۲۰۱۴ء میں جب نئی حکومت نے یوپی اے کے دور کی بہت سی چیزوں کو بدلنا یا ختم کرنا چاہا تب اس اسکیم سے بھی صرف ِ نظرکیا جارہا تھا مگر ریاستوں نے اسے جاری رکھنے پر اصرار کیا بلکہ یہ تک کہا کہ اس کا بجٹ بڑھانا چاہئے

Farmer - Pic : INN
کسان ۔ تصویر : آئی این این

دیہی علاقوں کے غریب تر لوگوں کیلئے منریگا اہم ذریعۂ آمدنی ہے۔ یہ اسکیم یو پی اے کے دورِ حکومت میں جاری کی گئی تھی۔ ۲۰۱۴ء میں جب نئی حکومت نے یوپی اے کے دور کی بہت سی چیزوں کو بدلنا یا ختم کرنا چاہا تب اس اسکیم سے بھی صرف ِ نظرکیا جارہا تھا مگر ریاستوں نے اسے جاری رکھنے پر اصرار کیا بلکہ یہ تک کہا کہ اس کا بجٹ بڑھانا چاہئے۔ کورونا اور لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ حالات میں جبکہ قومی معیشت ڈانواڈول ہے، دیہی معیشت کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے البتہ منریگا سے دیہی علاقوں میں اُمید اور امداد کی روشنی برقرار ہے۔ 
 اس اسکیم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا فائدہ اُٹھانے والوں میں خواتین کی تعداد زائد از پچاس فیصد ہے۔ دیہی معیشت میں خواتین کی شرکت برسوں پرانی روایت ہے جو خاندانی آمدنی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس اعتبار سے بھی منریگا کے سود مند ہونے کی سند ملتی ہے۔ اسی لئے، موجودہ حالات میں منریگا کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت ہے مگر ایسا ہو نہیں رہا ہے۔ ایک حالیہ سروے میں ۴۵؍ فیصد لوگوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اُن کے دیہاتوں میں منریگا کی اسکیم اب تک بحال نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ کئی لوگوں کو، جن کے علاقوں میں اس اسکیم کے تحت کام جاری تھا، جون کی اُجرت نہیں ملی تھی۔ یہ سروے ۹؍افراد کی ایک ٹیم نے کیا جو اس قسم کا تیسرا مختصر سروے تھا۔ اس کی تفصیل ’’اسکرول ڈاٹ اِن‘‘ پر میگھنا یادو کی رپورٹ میں ملتی ہے۔ اس کا اہم ترین نکتہ ۶۸؍ فیصد لوگوں کا یہ انکشاف تھا کہ ’’لوگ ایک وقت کا کھانا ترک کررہے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن نے اُن کی آمدنی میں سیندھ لگا دی ہے۔‘‘
 بلاشبہ، آمدنی کے کم ہوجانے یا ذریعۂ آمدنی کے ختم ہونے کا مسئلہ دیہی علاقوں تک محدود نہیں ہے مگر اس کالم میں مذکورہ دیہی صورتحال پر اس لئے روشنی ڈالی گئی ہے کہ معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ اثر دیہی زندگی ہی پر پڑتا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد کے حالات اس کا ثبوت ہیں۔ اس کا ایک اور ثبوت کسانوں کی خود کشی بھی ہے۔ البتہ، کورونا کی وباء اور لاک ڈاؤن سے پیدا شدہ حالات ملازمت، تنخواہ، کاروبار، تجارت، محنت، مزدوری، اُجرت گویا ہر چیز کو متاثر کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالات ملک میں ۳۵۴؍ ملین لوگوں کو غربت کے غار میں دھکیل دینگے جس کی وجہ سے ملک کے غریبوںکی تعداد بڑھ کر ۶۲۳؍ ملین ہوجائے گی۔ کورونا کی وجہ سے شہری معیشت کا متاثر ہونا بھی یقینی دکھائی دے رہا ہے مگر کوئی نہیں جانتا کہ دیہی معیشت کس طرح اپنا وجود برقرار رکھ سکے گی۔
 یہ حالات ہی کیا کم سنگین تھے کہ حکومت نے زرعی اصلاحات کے نام پر تین آرڈیننس جاری کرکے زراعت پیشہ لوگوں کو مزید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں اور اُن کی تنظیموں نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ ان آرڈیننسیز کو واپس لے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان ’اصلاحات‘ کی وجہ سے چھوٹے کسانوں کا جینا دوبھر ہوجائے گا کیونکہ وہ بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے ساتھ کنٹراکٹ فارمنگ کا بیڑہ نہیں اُٹھا پائینگے۔ حکومت کی جانب سے طے ہونے والی ’’اقل ترین قیمت‘‘ (منیمم سپورٹ پرائز) میں ان کیلئے بڑی راحت تھی۔ ان آرڈیننسیز کا بغور مطالعہ کرنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے دعوؤں کے برخلاف، تین میں سے ایک بھی آرڈیننس کسانوں کیلئے نفع بخش نہیں ہوگا۔ وہ نقصان اُٹھائیں گے جبکہ ٹریڈرس فائدہ۔ 
 نئے قوانین کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ریاستی اختیارات کم ہوجائینگے، ان کی آمدنی متاثر ہوگی اور مارکیٹ کمیٹیاں اپنا اثر کھو دیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ غریب کسان، جو پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھا، زیادہ بڑے اور سنگین مسائل میں گھر سکتا ہے جو عارضی یا وقتی نہیں ہوں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK