ڈیویژنل کمیٹی نے امراوتی کی طالبہ کو او بی سی سرٹیفکیٹ دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اس کا مذہب جین ہے۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 9:51 AM IST | Nagpur
ڈیویژنل کمیٹی نے امراوتی کی طالبہ کو او بی سی سرٹیفکیٹ دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اس کا مذہب جین ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ذات کے سرٹیفکیٹ سے متعلق داخل کردہ عرضداشت پر سماج کے دوران کہا ہے کہ ’’ مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بدلتی۔‘‘ عدالت نے کہا کہ پیدائشی طور پر حاصل کی گئی ذات صرف اس وجہ سے تبدیل نہیں ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی خاص مذہب کو اپناتا ہے یا اس کی پیروی کرتا ہے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ نے عرضی گزار کو ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔
اطلاع کے مطابق امراوتی سے تعلق رکھنے والی انجینئرنگ کی طالبہ پراچی سدھیر نیٹکے(۲۰) نے او بی سی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے درخواست دی تھی لیکن ڈیویژنل کاسٹ سرٹیفکیٹ تصدیق کمیٹی نے اس کی درخواست کواس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ اسکول کے خارجہ سرٹیفکیٹ میں اس کی ذات کے خانے میں ’سیتوال جین‘ درج تھا۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ ’جین‘ سماج او بی سی فہرست میں شامل نہیں ہے۔پراچی نیٹکے نے اس کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جسٹس ارمیلا جوشی۔ پھالکے اور نویدیتا مہتا کی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور کمیٹی کے حکم کو منسوخ کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: کریٹ سومیا کا مالیگاؤں کے تعلق سے نیا شوشہ
عدالت نے کہا کہ اسکول سرٹیفکیٹ میں مذہب کے ذکر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور ثبوتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ویجلنس ٹیم کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پراچی نیٹکے کا خاندان وانی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ خاندان جین مت کی پیروی کرتا ہے، لیکن اس سے ان کی پیدائشی ذات کو تبدیل نہیں کرتا ہے۔ اس کے بعد، عدالت نے متعلقہ کمیٹی کو چار ہفتوں کے اندر پراچی نیٹکے کووانی برادری کا کاسٹ ویلڈٹی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔یاد رہے کہ کاسٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے طلبہ کو کافی تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔