سابق رکن اسمبلی کا فون بھی بند ، عدالت میں پیشگی ضمانت کیلئے عرضی داخل کی، بی جے پی کی اپنی حلیف پارٹی کے لیڈر پر تنقیدیں۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 9:56 AM IST | Pune
سابق رکن اسمبلی کا فون بھی بند ، عدالت میں پیشگی ضمانت کیلئے عرضی داخل کی، بی جے پی کی اپنی حلیف پارٹی کے لیڈر پر تنقیدیں۔
گزشتہ دنوں پونے کے ایک معروف کانٹریکٹر اور ڈیولپر خلیل شیخ نے خودکشی کر لی تھی۔ انتہائی قدم اٹھانے سے قبل خلیل شیخ نے جو ویڈیو جاری کیا تھا اس میں انہوں نے اپنی موت کیلئے سابق رکن اسمبلی رویندر دھنگیکر اور ان کی اہلیہ سمیت ۱۴؍ افراد کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ پولیس نے ویڈیو اور لاش کے پاس سے ملے سوسائڈ نوٹ کی بنیاد پر رویندر دھنگیکر سمیت ۱۴؍ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا تھا جسکے بعد سے رویندر دھنگیکر اور ان کی اہلیہ پرتبھا دھنگیکر غائب ہیں ۔ البتہ انہوں نے قبل از گرفتاری ضمانت کیلئے عدالت میں عرضی داخل کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کریٹ سومیا کا مالیگاؤں کے تعلق سے نیا شوشہ
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پونے کے گل ٹیکری علاقے میں رہنے والے خلیل شیخ نے اپنے ہی گھر میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ موت سے قبل انہوں نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس میں الزام لگایا تھا کہ رویندر دھنگیکر اور ان کی اہلیہ کے علاوہ کچھ مقامی لیڈران نے تعمیراتی کاموں میں ان کے ساتھ پارٹنر شپ کی تھی لیکن پیسوں کی ادائیگی نہیں کی تھی اس کی وجہ سے وہ مقروض ہو گئے تھے اور ان پر دبائو تھا۔ جب ان لوگوں سے اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا تو وہ انہیں دھمکانے لگے۔ اسی لئے وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ پولیس کو معاملہ درج کرنا پڑا کیونکہ لاش کے پاس سے سوسائڈ نوٹ بھی ملا تھا۔ اس وقت رویندر دھنگیکر نے کہا تھا کہ وہ خلیل شیخ کے تمام پروجیکٹوں سے الگ ہو گئے تھے اس لئے ان کا خلیل شیخ کی خود کشی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اب وہ اچانک غائب ہو گئے ہیں۔ ان کا فون بھی بند آ رہا ہے۔ اس معاملے میں خود دھنگیکر کی پارٹی کی حلیف بی جے پی نے ان پر تنقید کی ہے۔ بی جے پی کے پونے میونسپل کارپوریشن میں ہاؤس لیڈر گنیش بیڈکر نے کہا کہ’’ خلیل شیخ کی موت کے معاملے میں ملزمین بنائے گئے افراد کا اس طرح غائب ہو جانا بالکل غلط ہے۔ آج جب اس ( خلیل شیخ کے )خاندان کو تسلی دینے کی ضرورت ہو تو ان کا یوں بھاگ نکلنا غلط ہے۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ پر کریک ڈاؤن کیخلاف اپوزیشن کا شدید رد عمل
جو لوگ کل تک دیویندر فرنویس اور چندرکانت پاٹل کے خلاف باتیں کر رہے تھے وہ آج منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ یہ معاملہ پوری طرح قابل مذمت ہے۔‘‘ یاد رہے کہ رویندر دھنگیکر پہلے پونے کی قصبہ سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن جیت چکے ہیں لیکن ۲۰۲۴ء کے اسمبلی الیکشن میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس کے بعد وہ شیوسینا (شندے) میں شامل ہو گئے ۔ مہایوتی میں شامل ہونے کے باوجود انہوں نے بی جے پی پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اب وہ خود ایک سنگین جرم کے معاملے میں ملزم بنائے گئے ہیں۔ ایسی صورت میں بی جے پی انہیں گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔