قربانی کرنے والے اخلاصِ نیت اور تقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ کو راضی کرسکتے ہیں

Updated: July 31, 2020, 9:33 AM IST | Dr Muhammed Tahir Al Qadiri

ایثار کا معنی ہے کہ انسان کو کسی چیز کی حاجت اور ضرورت ہو لیکن اس کے باوجود کسی دوسرے ضرورت مند انسان کو وہ چیز دے۔ تاریخِ اسلام ایثار و قربانی کے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ مومن کی ان ہی صفات کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا: ’’اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو

Eid al Adha - Pic : INN
عیدالاضحی۔ تصویر : آئی این این

 ایثار و قربانی کا جذبہ: ایثار کا معنی ہے کہ انسان کو کسی چیز کی حاجت اور ضرورت ہو لیکن اس کے باوجود کسی دوسرے ضرورت مند انسان کو وہ چیز دے۔ تاریخِ اسلام ایثار و قربانی کے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ مومن کی ان ہی صفات کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا: ’’اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو۔‘‘(الحشر:۹)
ہماری عبادات بھی ہمیں ایثار و قربانی کا درس دیتی ہیں۔ نماز خواہشِ نفس کی قربانی، زکوٰۃ مالی ایثار اور حج و عمرہ ہمیں مالی و جانی ہر دو طرح کے ایثار کا درس دیتے ہیں لیکن محبت کی اصطلاح میں ان سب عبادات کا مقصود اپنی محبوب ترین چیز کو اپنی محبوب ترین ذات کے طلب کرنے پر اس کے سپرد کر دینا ہے۔
مشیت ِ ایزدی اور رضائے الٰہی کی خاطر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے فوراً تیار ہو گئے۔ اپنی محبوب ترین چیز دوسرے کو دینے کا جذبہ اس وقت تک پیدا نہیں ہوتا جب تک اس سے بے پناہ محبت نہ ہو جس کے سپرد چیز کی جا رہی ہے۔ قربانی کا یہ جذبہ خود سپردگی اور تسلیم و رضا سے پیدا ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے عشق تھا اس لئے مشکل امتحان سے آسانی سے گزر گئے۔
عید کے دن مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں جانور قربان کر کے وہ جذبہ ایمانی اپنے دلوں میں تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اللہ کی رضا کے لئے ہمیں جانور تو کیا جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔
گویا قربانی کا اصل مدعا مسلمان کے اندر جذبۂ ایثار اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر شے قربان کرنے کے لئے مستعد ہو جائیں اور بڑی سے بڑی قربانی دینے میں تساہل اور تردّد نہ کریں۔ عید الاضحی کے دن اس خیال کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جذبہ قربانی کسی صورت ماند نہ پڑے اور ہم میں اتنی جرأت و ہمت ہونی چاہئے کہ اگر دین، قوم، ملک اور معاشرہ بھی ہم سے قربانی مانگے تو ہم پیچھے نہ ہٹیں اور ہر قسم کی قربانی پیش کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کریں۔
ہدیۂ تشکر، گناہوں کی معافی کا ذریعہ:
 عید الاضحی کے روز قربانی کا ایک بڑا مقصد بارگاہِ رب العزت میں ہدیہ تشکر پیش کرنا بھی ہے۔ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھے کی قربانی قبول فرما کر انسانیت کو زندگی کی عظیم نعمت سے نوازا۔ یوں قربانی کیلئے انسانوں کے بجائے جانوروں کی قربانی کو قیامت تک کیلئے ملت ِ ابراہیمی پر لازم قرار دے کر بنی نوعِ انسانی پر بے پایاں احسان فرمایا۔  دستورِ زمانہ ہے کہ کوئی کسی پر احسان کرتا ہے تو محسن کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے جس سے محسن خوش ہوکر مزید نوازتا ہے۔ اظہارِ شکر مزید انعام و اکرام کا ذریعہ ہے۔ علاوہ ازیں انسان کی اپنی زندگی بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے عبارت ہے۔ لا تعداد نعمتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ محسنِ حقیقی کا اس طرح سے شکر ادا کیا جائے کہ زندگی مکمل طور پر سراپا تشکر بن جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔‘‘(البقرہ: ۱۵۲)
زندگی جیسی عظیم نعمت کا شکر اسی صورت میں کما حقہ ادا ہو سکتا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو اسے رضائے الٰہی کے لئے قربان کر دیا جائے۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی=حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
علاوہ ازیں  ۱۰؍ ذی الحجہ کو ادا کیا جانے والا عمل ِ قربانی گناہوں کی بخشش کا بھی ذریعہ ہے۔ 
قربانی کی روح:
  قربانی کا عمل صرف جانور ذبح کرنے پر موقوف نہیں بلکہ قربانی یہ ہے کہ اپنی جان و مال، عزت و آبرو، راحت و آرام، سکون و اطمینان، خواہشاتِ نفسانی اور جو کچھ انسان دنیاوی زندگی میں چاہتا ہے، اُسے رضائے الٰہی کیلئے قربان کر دے۔ 
 اس سلسلے میں قربانی کی اہم اقسام درج ذیل ہیں:
lجان کی قربانی: جان کی قربانی سے مراد ہے زندگی کے تمام معاملات اور امور کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کر دینا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
’’تم میں سے کوئی ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھ کو اپنے مال، اہل و عیال اور تمام انسانوں سے زیادہ نہ چاہے۔‘‘(نسائی، السنن، کتاب الایمان و شرائعة، باب علامة الایمان)
جان کی قربانی حقیقت میں یہ ہے کہ سب کچھ اس طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے جیسے مردہ غسال کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ جب روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی ہے تو مردے کی کوئی خواہش اور حرکات و سکنات نہیں رہتی، اب غسال اسے جس طرح چاہے پلٹے، سیدھا کرے، دائیں کرے، بائیں کرے، پیٹ کے بل لٹا دے یا کمر کے بل، بندہ اب کسی چیز اور عمل پر قادر نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام میں جان کی قربانی یہ ہے کہ بندۂ مومن معاملات زندگی کے حوالے سے سب تدبیریں بروئے کار لائے لیکن نتائج کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خود کو اس طرح سپرد کر دے جس طرح مردہ غسال کے سپرد ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، بے شک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے۔‘‘(آل عمران:۲۶)
اب یہ اﷲ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ کسی کو کرسی پر بٹھا دے یا خاک نشین کر دے… اہل ثروت میں سے کر دے یا کنگال… صحت دے یا بیماری…  زندگی دے یا موت… لیکن بندۂ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اس بات پر یقین رکھے کہ ہر شے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی کی رضا کے لئے اپنی تمام خواہشات کو قربان کر دے۔ فقط رضائے الٰہی کا طالب رہنا بندے کا شیوہ ہونا چاہئے جیسا کہ مقربانِ بارگاہِ الوہیت کی تعریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وہ صرف اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘(الانعام:۵۲)
الغرض جان کی قربانی کا تقاضا یہ ہے کہ جھوٹی ’’انا‘‘ اور ان تمام سفلی خواہشات کو قربان کر دیا جائے جو انسانی جسم و روح کی تباہی و ہلاکت کا باعث ہیں۔
l مال کی قربانی: مال کی قربانی سے مراد یہ ہے کہ حلال، پاکیزہ اور پسندیدہ مال اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے خرچ کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔‘‘(آل عمران:۹۲)
اس آیت کریمہ میں اپنی سب سے پسندیدہ اور محبوب چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ہے۔ اس لئے مستحب عمل یہی ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت، فربہ، بے عیب، توانا، نہایت عمدہ اور نفیس ہو تاکہ انسان اس کی طرف رغبت و کشش محسوس کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو موٹے تازے، سینگوں والے، کالے، اور سیاہ دھاری دار ہوتے۔‘‘(ابن ماجه، کتاب الاضاحی)
اس حدیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ حضور نبی اکرم ﷺ  قربانی کے لئے سب سے اچھا جانور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ذبح فرماتے۔ 
قبولیتِ قربانی کا معیار: 
 قربانی کی قبولیت میں جو چیز کار فرما ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حسنِ نیت اور صدق و اخلاص ہے۔ عمل اگر صدق و اخلاص کی بنا پر ہو تو وہ اگرچہ قلیل تر ہی کیوں نہ ہو، انسان کا درجہ بلند تر کر دیتا ہے۔ وہی عمل اگر صدق و اخلاص، نیک نیتی اور للّٰہیت سے خالی ہو تو خواہ وہ عمل پہاڑ کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر ایک مسلمان دکھاوے کیلئے بہت بڑے اور کثرت سے جانور خریدے  تاکہ لوگ متاثر ہوں تو اس سے لوگوں کی نظروں میں بہت بڑا ہونا تو دکھایا جاسکتا ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے ہاں ایسا شخص بڑا نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں پچھلی صف پر بیٹھا ہوا وہ آدمی بڑا ہو جس میں قربانی کرنے کی سکت بھی نہ ہو لیکن اس کا دل چاہ رہا ہو کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں اﷲ تعالیٰ کی رضا کیلئے قربانی کرتا۔ قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود لیکن حسنِ نیت کی وجہ سے اس کو اللہ کی بارگاہ میں وہ اجر مل جاتا ہے جو ریا کاری کی قربانی کرنے والے کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتا ۔
قربانی کا قبول ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ قربانی کس نیت سے دی جا رہی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور جو شخص اﷲ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے (یعنی ان جانداروں، یادگاروں، مقامات،احکام اور مناسک وغیرہ کی تعظیم جو اﷲ یا اﷲ والوں کے ساتھ کسی اچھی نسبت یا تعلق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں) تو یہ (تعظیم) دلوں کے تقویٰ میں سے ہے (یہ تعظیم وہی لوگ بجا لاتے ہیں جن کے دلوں کو تقویٰ نصیب ہو گیا ہو)۔‘‘ (الحج:۳۲)
اس ارشاد ربانی میں تقویٰ کو دل کی کیفیت قرار دیا گیا ہے۔ قربانی کے جانور اللہ تعالیٰ کے قرب کے لئے ذبح کئے جاتے ہیں۔ ان کی نسبت چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہو جاتی ہے اس لئے یہ شعائر اللہ میں سے ہو جاتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لئے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے۔‘‘(الحج:۳۶)
قرآن و سنت کے تمام احکام کو سامنے رکھ کر انسان اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ جاتا ہے کہ خدا کی بارگاہ میں جس شے کی قدرو منزلت ہے وہ اس کی ظاہری صورت نہیں بلکہ اس میں پنہاں حسنِ نیت اور دلوں کا تقویٰ ہے۔ قربانی کرنے والے اخلاصِ نیت اور تقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ کو راضی کرسکتے ہیں لیکن اگر قربانی سے تقویٰ ہی نصیب نہ ہو تو پھر قربانی کرنا محض ایک رسم رہ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK