جمہوریت کے پیمانوں پر از سر نوغور کرنے کی ضرورت

Updated: July 26, 2020, 9:02 AM IST | Arqam Noorulhasan

قانونی اور عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے راجستھان میں ایک منتخبہ حکومت اپنا اقتدار بچانے کی جدوجہد کرتی ہوئی نظر آرہی ہے، ۲۰۱۴ء میں بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے یہ جو سلسلہ چل پڑا ہے یہ جمہوریت کا استحصال کرنے والا ہے، اب تک دل بدلی کے قانون کے معنی متعین نہیںکئے جاسکے ہیں، پارٹیوں سے وفاداری تبدیل کرنا کوئی قابل اعتراض بات نہیںرہ گئی ہے ، یہ صورتحال سنگین نہیں،انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے

Ashok Gehlot - Pic :PTI
اشوک گہلوت ۔ تصویر : پی ٹی آئی

راجستھان میں اقتدار پر قابض  رہنے اور اقتدا ر حاصل کرنے کی کشمکش اب جس مرحلے میں داخل ہوچکی ہےاس سے اور کچھ نتیجہ اخذ کیاجائے یانہ کیاجائےیا اس سے کچھ اور ثابت ہو نہ ہو، اتنا ضرورہےکہ ان سارے پیمانوں ، معیارات اور ضوابط پر از سر نوسنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہےجن پر اب تک ملک میں جمہوریت اور اس سے متعلقہ قوانین کا دارومدار رہا ہے اور ان اصولوں اورضوابط پر حکومتیں قائم رہی ہیں۔مرکز میں ۲۰۱۴ء  میں بی جےپی کے ا قتدار میں آنے کے بعدسے کئی ریاستوں میں منتخبہ حکومت کے ساتھ پیسےکی طاقت کے ذریعے یہی کچھ کرنے کی مذموم کوششیں کی گئیں جو اس وقت  راجستھان میں دیکھنے کو مل رہی  ہیں۔یہ صورتحال معمولی نہیں بلکہ انتہائی سنگین ہے۔ اس سلسلے کو روکنے کے اقدامات نہیں کئےگئے تو اس سے ملک میں انتخابی جمہوریت کی بنیاد یں کھوکھلی اورکمزور ہو کررہ جائیں گی ۔
         ۲۰۱۴ء کے بعد سے  وہ گواہو، کرناٹک ہو ، مدھیہ پردیش ہو یا اب راجستھان ، انتخابی دور سے گزرنے کے بعد  یہاںدَل بدلی کا کھیل کھیلا گیا۔اراکین کی خریدوفروخت ہوئی۔مرکز میں اقتدار میں ہونے کا فائدہ ا ٹھاتے ہوئے بی جےپی نے اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین کو توڑنے کیلئے بے دریغ پیسے لٹائے، وزارتوں اور قلمدانوں کا لالچ دلایا اور عوامی فیصلے  کے بعد قائم ہونے والی مستحکم حکومتوں کو غیرمستحکم کرنےمیں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ان ریاستوں میں  پیسے اور اقتدا ر کی طاقت کے آگے نہ کسی قانون وضابطے کی پروا کی گئی اورنہ ہی کوئی قانون زیر بحث آسکا۔ کچھ بات ہوئی تو بس اراکین کی خریدوفروخت کی ، پیسے کی اورانہیں ریاستوں کے باہر ہوٹلوںمیں چھپا کر رکھنے کی۔اصل میں اقتدار کا کھیل ہوتا ہی کچھ ایسا ہے۔اس میں قوانین کی پاسداری نہیں کی جاتی  بلکہ پیسے کی طاقت کے ذریعے اس پر حرـص اور لالچ کا پردہ ڈال دیاجاتا ہے۔ پھر بکنے والے کو کچھ نظر آتا ہے  نہ خریدنے والے کو۔باقی رہے اسپیکراورگورنرتووہ کچھ باغی اراکین کو نوٹس جاری کرنےکی رسمی کارروائی نبھادیتے ہیں،کچھ کو عارضی مدت کیلئے معطل کیاجاتا ہے اور کچھ پرووٹنگ میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔لیکن اس سے بھی وہ نتائج بر آمد نہیں ہوتے جن سے قانون کی بالادستی  ثابت ہوتی ہو بلکہ ہوتا بس اسی حد تک  ہے کہ کچھ نوٹس اورکارروائی کے ذریعے کسی ایک پارٹی کے حق میںفیصلہ کی راہ ہموار کی جاتی ہے جو بازی اپنے حق میں پلٹنے کی طاقت رکھتی ہو۔جبکہ دیکھا جائے تو یہ معاملہ بہت ہی سنگین  ہے۔اس طرح منتخبہ اور مستحکم حکومت اوراس کے اراکین کو توڑنے کی کوششوں سے جو ان برسوں میں دیکھنے کو ملی ہیں، سیاسی نظام کو ایک بڑے جھٹکے سے دوچارہونا پڑا ہے۔قومی سیاست مذاق بن چکی ہے۔عوام بھلے ہی اس پر خاموش ہیںلیکن  اب وہ بھی  یہ کھیل اور ڈرامہ بازی سمجھ گئے ہیں۔یہی صورت ملک میں ایک عوامی انقلاب کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے  اور یہی حالات  کاتقاضا بھی ہے۔
         مدھیہ پردیش میںجیوتیرا دتیہ سندھیا  اور ان کےقریبی اراکین  کے بی جے پی کا دامن تھامنے  کے بعد سے  یہ سوال اور بھی گہرا ہوگیا کہ پارٹیوں سے وفاداری کا معیار کیاہےاوراس دَل بدلی کے قانون کے کیا معنی جس میں کھلم کھلا ایوان بالا(راجیہ سبھا) کی سیٹ  کا لالچ دے کر ایک پارٹی دوسری پارٹی  کے ممبر کوتوڑ سکتی  ہے؟جیوتیرا دتیہ سندھیا اور ا ن کے قریبی اراکین اسمبلی ایک منتخبہ حکومت کے ساتھ بے وفائی کے مرتکب ہوئےلیکن یہاں نہ کوئی عوامی احساس زیر بحث آیااورنہ کوئی قانونی واخلاقی پہلو۔ حالانکہ کانگریس کے ساتھ وہ کم وبیش ۲۰؍ سال  وابستہ رہے۔ سندھیا کی راہ پر راجستھان میں سچن پائلٹ چل پڑے ہیںحالانکہ وہ ریاست  کے نائب وزیر اعلیٰ  ہیں۔ بتایاجاتا ہےکہ وزیر اعلیٰ اشو ک گہلوت کے ساتھ ان کے اختلافات گزشتہ کئی مہینوں سے چل رہے ہیں۔ ان اختلافات کی نوعیت  اب تک سامنے نہیںآئی ہے لیکن میڈیامیں آنے والی خبروں کے مطابق اشوک گہلوت  اوران کے درمیان گزشتہ کئی مہینوں سے رابطہ نہیںرہا  ہے۔ایک اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے گزشتہ دنوں اشوک گہلوت  نے کہا تھا کہ’’ سچن پائلٹ کی کچھ حاصل کرنے کی ضرورت سے زیادہ چا ہ کی وجہ سے ریاست بحران کی زد میں آئی ہے۔ان کے پاس محدود اراکین ہیںاورسبھی بی جے پی کے ہاتھوںکا مہرہ بنے ہوئے  ہیں۔‘‘سچن پائلٹ اور ان کے قریبی اراکین  نے نا اہل قراردئیے جانے کے خلا ف ہائی کور ٹ میںدرخواست دی تھی  ، اس پر عدالت  نےیہ فیصلہ سناتے ہوئے انہیںراحت دی کہ ان کے خلاف کارروائی نہیںکی جاسکتی۔غور کیجئےکہ عدالتی ، مرکزی اور گورنر کے اختیارات کی سطح پر اب تک یہی طے نہیں کیاجاسکا ہےکہ سچن پائلٹ اور ان کے رفیقوں پر دل بدلی کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔سچن پائلٹ نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔کانگریس سے وابستہ ہیں۔  وہ اپنے ساتھی ایم ایل ایز کے ساتھ ہریانہ  میں جا بیٹھتے ہیں۔ اس بحران میں ان کا بی جے پی کی طرف رجحان صاف نظر آتا ہے لیکن عدالتی اور قانونی بنیادوں پر اب تک یہ تعین نہیں کیاجاسکا ہےکہ ان پر دل بدلی کے قانون کا اطلاق کیاجائے یا نہیں جبکہ ایک نائب وزیر اعلیٰ کاا س طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونا کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ چونکہ یہاںدل بدلی  کے قانون کے اب تک معنی ہی متعین ہی نہیں   ہےاسلئےکانگریس کے نائب وزیر اعلیٰ کا بی  جے پی کی طرف علی الاعلان  جھکاؤ بھی گورنر کلراج مشرا ، عدالت اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کیلئے کوئی قابل اعتراض اورپریشانی کی بات نہیں ہے۔اس صورتحال کو اگر ہم ملک کی جمہوریت کیلئےخطرناک نہیں سمجھتے تو حالات کے دھماکہ خیزہونے میں دیر نہیں لگے گی ۔
         اس دوران پائلٹ کو منانے کی کوششیں بھی ہوئیں لیکن بات پھر وہیںآکرجہاں سے شروع ہوئی تھی ۔ امید پیدا ہوگئی تھی کہ راجستھان میںحکومت بچ جائے گی لیکن اب نوبت تحریک اعتماد تک آپہنچی ہے ۔تحریک اعتمادثابت کرنے کا مرحلہ جمہوریت کیلئےکوئی خوشگوار مرحلہ نہیںہوتا ۔ یہ مرحلہ ان ساری پیچیدگیوں کےبعدآتاہے جن میں جمہوریت پہلے سے ہی پامال ہوتی رہتی ہے۔ راجستھان میںاب گورنر کلراج مشرانے اس راہ میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کردی ہے۔اشوگ گہلوت کے مطالبہ پر ان کے اسمبلی اجلاس بلانے میں ٹال مٹول کے رویے کو ایک منتخبہ حکومت کے ساتھ سوتیلے سلوک کےزمرے میں رکھا جائے گا۔    یہاں بھی گورنر اقتدار کی طاقت  کے آگےدبتے اورجھکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اس پورے پس منظر میں کانگریس کی اجاگرہونے والی خامی  اور کمز وری سے انکار نہیں کیاجاسکتا لیکن  جب طاقت کے ذریعے اقتدار چھیننے کی کوشش کی مثالیں سامنے آتی ہیںتو اس صورت میں ایک مستحکم  بنیادقائم کرنےکی گورنر کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے لیکن ادھر گزشتہ کچھ برسوں میں دیکھا گیا ہےکہ گورنر بھی  بی جے پی حکومت کے اشاروںپر عمل کرنے کا ثبوت دیتےآئے ہیں۔یہاں بھی اصولِ جمہوری و غیر جانبداری پامال ہوتا ہےلیکن  اب اس درد کا احساس کون کرے اورکون کس کو احساس دلائے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK