ویران سڑکوں پر اجتماعی اموات کا منظر

Updated: May 17, 2020, 4:22 AM IST | Dr Mushtaque Ahmed

مزدوروں پر کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں، انہیں دو وقت کی روٹی ملنا بھی محال ہوگیا ہے،اسلئےوہ ملک کے مختلف شہروں سے بے سروسامانی کے عالم میں سیکڑوں کیلومیٹر کا سفر پیدل ہی طے کر رہے ہیں مگر ویران سڑکوں پر بھی مزدوروں کو کچلنے اور انہیں موت کی نیند سلانے کا قیامت خیز عمل جاری ہے

Migrant - Pic : PTI
مہاجر مزدور ۔ تصویر : پی ٹی آئی

کورونا نے پورے انسانی معاشرے کو تباہ وبرباد کردیا ہے ۔ دنیا کا کوئی ایسا حصہ نہیں جہاں کورونا کے وائرس نے اپنا اثر نہ چھوڑا ہو ۔ اب جب کہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کورونا سے امروز و فردا میں نجات ملنے والی نہیں ہے ، کیوںکہ ساری دنیا اس لا علاج مرض کی دوا تشخیص کرنے میں اب تک ناکام ہے ۔ عالمی طبی آرگنائزیشن یعنی ڈبلو ایچ او نے گزشتہ دنوں یہ واضح کردیا ہے کہ اب دنیا کو کورونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا اور جس طرح ایچ آئی وی اور ایڈس کی دوا اب تک کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے، اسی طرح کورونا سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس لئے پوری دنیا میں آہستہ آہستہ معطل زندگی، حرکت میں آرہی ہے۔
  اپنے ملک ہندوستان میں بھی حکومت نے چند شرائط کے ساتھ لاک ڈائون میں کچھ رعایت دینے کی بات کہی ہے ۔ ایک دو دنوں میں چوتھے مرحلے کے لاک ڈائون کی مدت کا اعلان ہوگا اور اس کے بعد سب کچھ واضح ہوجائے گا کہ آخر ملک میں کب تک اور کن شرائط کے ساتھ کہاں لاک ڈائون جاری رہے گا؟لاک ڈائون کی وجہ سے ملک کس قدر اثر انداز ہوا ہے، اس سے ہم سب واقف ہیں کہ اس کورونا نے ملک کی معیشت کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ دیگر شعبۂ حیات کیلئے بھی مشکلیں پیدا ہوئی ہیں  جس پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔اس لئے حکومت نے کئی طرح کے خصوصی مراعات کا اعلان تو ضرور کیا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ خصوصی پیکیج ہمارے مسائل کے حل نہیں ہیں، البتہ ان سے تھوڑی سی راحت ضرور ملے گی ۔بالخصوص اس لاک ڈائون ملک کے سات کروڑ سے زائد یومیہ مزدور کی زندگی بد حال ہوگئی ہے ۔ ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا لیکن شہر در شہر سے رواں دواں ان کا قافلہ رکا نہیں ہے۔اب حکومت کی طرف سے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی جا رہی ہیں اور کئی ریاستی حکومتوں نے بسوں کا انتظام بھی کیا ہے ۔ باوجود اس کے سڑکوں پر ہجوم در ہجوم مزدوروں کا قافلہ چل رہاہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس لاک ڈائون کے عرصے میں جب سڑکوں پر گاڑیوں کا چلنا برائے نام ہے اس کے باوجود ویران سڑکوں پر مزدوروں کی اجتماعی موت ہو رہی ہے۔ روزانہ سڑک حادثات ہو رہے ہیں اور مزدوروں کی اس حادثے میں جاں بحق ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔مرنے والوں کی تصویروں کودیکھ کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہےلیکن ان مزدوروں کو کچل کر گزرنے والوں کو ترس نہیں آتا۔
  جس دن سے لاک ڈائون کا آغاز ہو اہے، اسی دن سے سڑک حادثے میں مرنے والوں کی خبریں آرہی ہیں اگرچہ قومی میڈیا میں ان مزدوروں کی موت کی خبروں کو جگہ کم ہی مل رہی ہے مگر آج کے اطلاعاتی انقلاب نے سوشل میڈیا کو جو فروغ دیا ہے اس کی وجہ سے مزدوروں پر ہو نےوالے مظالم کی خبریں دب نہیں پا رہی ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ شہر میں ایک ساتھ دو لوگوں کے کچل کر مرنے کی خبر آئی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس لاک ڈائون کے عرصے میں ٹریفک کم ہے اور حفاظتی دستوں کی نگرانی بھی ہے ۔ اس کے باوجود لکھنؤ جیسے حساس شہر میں کوئی تیز رفتار گاڑی ایک سائیکل پر سوار میاں بیوی دونوں کو کچل کر نکل جاتی ہے اور اس کا سراغ تک نہیں لگتا۔
  واضح ہو کہ لکھنؤ شہرمیں یومیہ مزدوری کرنے والا ایک مزدور اپنی سائیکل پر اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر مدھیہ پردیش کیلئے نکلا تھا۔ وہ کئی دنوں سے بھوک کا شکار تھااور لاک ڈائو ن کی وجہ سے اسے کام ملنے کی امید بھی نہیں تھی۔ اپنی جھوپڑی سے محض دو چار کلو میٹر دور شہر میں ہی وہ حادثے کا شکار ہوگیا ۔ اس کے دونوں بچے تو بچ گئے مگر خود وہ دونوں موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ریل حادثے میں مزدوروں کی جو موت ہوئی، اس سے تو پورا ملک واقف ہے ۔اسی طرح مظفرنگر میں ایک ساتھ ۶؍ مزدوروں کو ایک تیز رفتار ٹرک نے کچل دیا اور سب کی جائے حادثے ہی پر موت ہوگئی۔یہ سب مزدور بہار کے رہنے والے تھے اور  پیدل ہی اپنے گھروں کو نکل گئے تھے۔ اسی طرح کچھ دن پہلے بلند شہر کے پاس بھی د و مزدوروں کو کچلے جانے کی خبر عام ہوئی تھی۔ اس سے پہلے مہاراشٹر کی سڑکوں پر بھی کئی مزدوروں کی سڑک حادثے میں موت ہو چکی ہے ۔
 غرض یہ کہ ایک طرف مزدوروں پر کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ انہیں دو وقت کی روٹی ملنا بھی محال ہوگیا ہے اوروہ ملک کے مختلف شہروں سے ہزاردو ہزار کیلومیٹر پیدل نکل پڑے ہیں ۔ ان کے پائوں کے چھالوں کو دیکھ کر بڑا سے بڑا سنگ دل بھی اشکبار ہو جاتا ہے۔ معصوم بچوں کے پائوں کے آبلوں کو دیکھا نہیں جاتا اور بد حال عورتوں کی تصویر خون کے آنسو رلانے لگتی ہے۔ ان حالات میں بھی ہماری ویران سڑکوں پر اس طرح سے مزدوروں کو کچلنے اور انہیں موت کی نیند سلانے کا قیامت خیز عمل جاری ہے ۔اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر اس لاک ڈائون میں تیز رفتار گاڑیوں پر نکیل کیوں نہیں کسی جا رہیہے۔
  ایک طرف کورونا کے خوف نے ان کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے تو دوسری طرف ہماری بے حسی نے ان کی موت کا سامان پیدا کردیا ہے ۔آخر بس ، ٹرک یا دوسری گاڑیاں چلانے والے ان مزدوروں کے قافلوں کو کیوں نہیں دیکھ پاتے؟ جب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے مزدور  پیدل ہی  اپنے گھروں کو جا رہے ہیں تو ان کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنایا جانا چاہئے نہ کہ ظالمانہ ۔ یہ خبر راحت کی ضرور ہے کہ جہاں کہیں سے بھی یہ مزدور گزر رہے ہیں، آس پاس کے علاقے کے لوگ باگ ان کی مدد کررہے ہیں ، ان کی بھوک پیاس مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بلا تفریق مذہب وملّت ایسا کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس وبا کے دور میں بھی ناپا ک سیاست جاری ہے مگر عوام الناس نے اس سیاست کو ناکام کیا ہے کہ سڑکوں پر چل رہے مزدوروں کو پانی پلانے والوں میں وہ چہرے بھی ہیں جس چہرے کو نشانہ بنایا جاتارہاہے۔ ایک طرف قدرتی آفات ہیں تو دوسری طرف مزدوروں کیلئے سرکاری قانون بھی ستم ڈھانے والے بن رہے ہیں۔
  واضح ہو کہ اترپردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات کے بعد بہار میںبھی مزدوروںکیلئے یومیہ کام کے اوقات بارہ گھنٹے کئے جانے کے قانون بنائے گئے ہیں ۔ اگرچہ بہار حکومت نے اپنے نوٹیفکیشن میں یہ واضح کیا ہے کہ انہیں زیادہ کام کے بدلے معاوضے بھی دیئے جائیں گے ۔ ریاستی حکومتوں کی دلیلیں ہیں کہ باہرکی کمپنیوں کی آمد کو یقینی بنانے کیلئے ایسا کیا جا رہا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اس قانون سے مزدوروں کی صحت پر مضر اثرات رونما ہوںگے۔ 
 مختصر یہ کہ اس کورونا کی وبا نے یوں تو ہر طبقے کی زندگی کو اثر انداز کیا ہے لیکن سب سے زیادہ مزدور طبقے کی زندگی متاثر ہوئی ہے کہ ان کے پائوں کے نیچے کی زمین بھی کھسک گئی ہے اور اس کے سرسے آسمان کو بھی تنگ کیا جا رہاہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہی مزدور طبقہ معمارِ وطن ہے کہ ان کے خون پسینے ہی سے شہر آباد ہواہے اور جن سڑکوںپر تیز رفتار گاڑیاں انہیں روند رہی ہیں وہ سڑک بھی ان ہی کے ہاتھوں کی دین ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK