البتہ دوسراکوئی رنگ حتیٰ کہ قدرے سیاہی مائل ہو تو اس کی بھی گنجائش ہے
EPAPER
Updated: March 03, 2023, 11:25 AM IST | mufti azizur rahman fathpuri | Mumbai
البتہ دوسراکوئی رنگ حتیٰ کہ قدرے سیاہی مائل ہو تو اس کی بھی گنجائش ہے
اگر کسی کے داڑھی کے بال چالیس سال کی عمر سے کم میں سفید ہو جائے تو کیا کالا خضاب لگایا جا سکتا ہے؟
فیروز شاہ ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق :خالص سیاہ خضاب کی حرمت نص حدیث سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوںگے جو کالاخضاب لگائیں گے جیسے کبوتر کا سینہ، ان پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی۔ دوسری ایک روایت کے مطابق بروز قیامت سیاہ خضاب لگانے والوں کے چہرے سیاہ کردیئے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے؛ لہٰذا اصولاً خالص کالے خضاب کی تو قطعاً گنجائش نہیں ملتی البتہ وسمہ اور مہندی جس کا رنگ قدرتی طور سے سرخ ہوتا ہے، حضرات صحابہ میں اس کا معمول تھا۔ علماء نے لکھاہے کہ خالص سیاہ خضاب کی تو گنجائش نہیں البتہ دوسراکوئی رنگ حتیٰ کہ قدرے سیاہی مائل ہو تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ خالص سیاہ خضاب کی ممانعت کا جو حکم ہے صرف میدان جہاد میں برسر پیکار غازیوں کے لئے جنگی حکمت عملی کے تحت وقتی استثناء ہے نہ کہ دائمی۔دوسری شادی، بڑھاپے کی شادی یا چالیس سال سے کم عمر وغیرہ کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں۔ امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے ایک قول سے کچھ نرمی سمجھ میں آتی ہے لیکن اس کے مطابق کسی کا فتویٰ نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
نابالغ بچہ اور ایصال ثواب
اگر کسی بالغ کا انتقال ہو جائے تو دعا استغفار میں، ایصال ثواب میں لوگ کوشش کرتے ہیں مگر نا بالغ بچے کے انتقال کی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟
فراز احمد ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق:لوگوں نے اپنے طور پر ایصال ثواب کے لئے جو طریقے اپنا رکھے ہیں ان سب سے قطع نظر نفس ایصال ثواب برحق اور اہل سنت کا متفقہ فیصلہ ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ انسان اپنے کسی بھی نیک عمل کے ثواب کی نیت دوسرے کسی کے لئے کرسکتا ہے۔ نیکی مالی ہو یا بدنی مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور صدقہ خیرات وغیرہ (بعض حضرات کے متعلق سننے میں آتا ہے کہ وہ تلاوت قرآن کے ایصال ثواب کے قائل نہیں، علامہ ابن قیم نے اس کے متعلق بجاطور سے یہ سوال کیا ہے کہ جب دوسری نیکیوں کے ثواب کی نیت کی جاسکتی ہے تو تلاوت قرآن جو ایک عظیم نیکی ہے آخر اس کا ثواب کیوں نہ پہنچےگا) شریعت نے اس کے لئے کوئی طریقہ خاص نہیں بتایا لہٰذا امت کو کسی خاص طریقے کا پابند سمجھنا یہ بھی صحیح نہیں نیز مزید کسی اہتمام کی ضرورت بھی نہیں۔ بندہ یہ نیت کرلے کہ اس عمل کاثواب فلاں کو پہنچے بس اتنا کافی ہے۔ جس کے لئے نیت کی ہے اسے بھی فائدہ ہوگا اورصاحب عمل بھی محروم نہ رہے گا۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ دکھاوا اور رسمی خانہ پری وغیرہ کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ۔
یہ تفصیل برسبیل تذکرہ اس لئے لکھ دی گئی تاکہ لوگ ایصال کی حقیقت سے واقف رہیں، خود ساختہ رسموں کو ایصال ثواب نہ سمجھیں۔ ورنہ اصل سوال نابالغ کے لئے ایصال ثواب کا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ نابالغ شرعاً احکام شرعیہ کا مکلف ہی نہیں۔ اس کے نیک اعمال کاثواب بھی ماں باپ اور سرپرستوں کو ملتا ہے جبکہ اس کے لئے کسی اخروی سزا کا کہیں تذکرہ نہیں اس لئے نابالغ کے واسطے ایصال ثواب کی ضرورت ہی نہیں۔ بالغوں اور نابالغوں کے لئے نماز جنازہ کی دعاؤں پر خود غور کرلیں ۔بالغ کی دعائے جنازہ میں پہلاہی جملہ ہے :’’اے اللہ ہمارے زندوں اور مرنے والوں کی مغفرت فرما‘‘ جبکہ بچوں اور بچیوں کے جنازے کی جو دعائیں منقول ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اے اللہ اسے ہمارے لئے باعث اجر اور ذخیرہ ٔآخرت بنا ۔‘‘اسی سے سمجھ میں آجانا چاہئے کہ نابالغ کیلئے ایصال ثواب کا نہ کوئی ذکر ہے نہ ضرورت۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
مختلف شہروں میں قیام اور قصر
ایک خاتون دوحہ قطر میں مقیم ہیں۔ ایک مہینے کے ارادے سے امارات کا سفر کرتی ہیں مگر مختلف شہروں میں کچھ وقت (ہفتہ دو ہفتہ) گزارنا پڑتا ہے۔ اس صورت میں وہ قصر کریں گی یا پوری نماز پڑھیں گی؟
معاویہ حسین ،قطر
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: احناف کے نزدیک جب کوئی مکلف بندہ اپنے وطن سے دور حالت سفر میں ہو تو اس کے لئے قصر کا حکم ہوگا لہٰذا وہ جب تنہا یا کسی مسافر امام کی اقتدا ءمیں نماز ادا کرے تو چار کی جگہ صرف دو پر اکتفا کرے البتہ دوران سفر اگر کسی جگہ بستی قصبہ یا شہر میں مسلسل پندرہ دن تک رہنے کی نیت کرلے تو پوری نماز پڑھے۔لیکن یہ اس وقت ہے جب پندرہ دن تک کسی ایک ہی مقام پر رہ کر رات گزارنے کی نیت ہو، اگر دوچار دن کسی شہر میں دو چار دن کسی دوسرے شہر یا بستی میں رہنے کی نیت ہو تو وہ بدستور مسافر رہےگا مقیم نہ ہوگا۔ ہمارے علم کے مطابق امارات ایک مستقل وفاقی مملکت ہے جس میں متعدد شہر اور بستیاں واقع ہیں۔ خاتون اگر کسی ایک شہر یا بستی میں پندرہ دن مسلسل رکنے کی نیت کریں تو مقیم کہلائیںگی اور قصر کے بجائے اتمام یعنی پوری چار رکعتیں پڑھنے کی مکلف ہوںگی ورنہ دوچار دن یہاں دوچار دن وہاں رہنے کی صورت میں بدستور مسافررہیںگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
بقیہ مہر کا وارث کون ہے
ایک شخص کی بیوی کا انتقال ہوگیا اور اس کا مہرمتعین کیا تھا دو تولہ سونا۔ اس شخص نے مرحومہ کی حیات میں اسے ڈیڑھ تولہ ہی ادا کیا تھا اس لئے اب جو باقی ہے وہ کس کو دینا ہے ؟ مرحومہ کے والدین کو یا کسی اور کو؟
حافظ عابد ،نئی دہلی
باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق: شوہر کی زندگی میں بیوی کا انتقال ہوجائے تو بحیثیت ایک وارث کے، شوہر بھی اس کے ترکہ میں سے حصہ پاتاہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مرحومہ صاحب اولاد ہے تو شوہر کو کل ترکہ کا ایک چوتھائی ملےگا، اولاد نہ ہو تو نصف یعنی آدھے کا حقدار ہو گا، ماں باپ ہوں تو اولاد ہویا نہ ہو بہر صورت وہ بھی حقدار ہوتے ہیں ۔انہیں کب کتنا ملےگا اس میں تفصیل ہے لیکن وہ محروم کبھی نہیں ہوتے؛ مہر بھی ترکہ میں شامل ہے اور جس کی ادائیگی باقی ہے وہ شوہر پر قرض ہے جس میں شوہر کا حصہ بھی ہے؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر مرحومہ صاحب اولاد تھی تو اس کا چوتھائی جو شوہر کا حق ہے اسے کسی کو دینے کی ضرورت نہیں، ماں باپ کو ان کا حصہ دینے کے بعد مابقی تین چوتھائی میں سے جو بچےگا وہ اولاد کو دیا جائےگا۔ اولاد نہ ہوتو شوہر آدھے کا خود حقدار ہوگا اور آدھا ماں باپ کو دیا جائےگا؛ لہٰذا کل چھ حصے بناکر تین شوہر کے، ایک ماں کا اور دو حصے باپ کے ہوںگے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم