Inquilab Logo Happiest Places to Work

درس گاہ یا ’’درد گاہ‘‘؟

Updated: August 09, 2026, 5:14 PM IST | Mumbai

آپ نے اِس اخبار میں طلبہ کی وہ تصویر دیکھی ہوگی جس میں وہ بند (ڈیم) کے ایک ستون سے دوسرے ستون پر چھلانگ لگا کر درس گاہ تک کی مسافت کم کرنے کی ذہانت کا ثبوت تو دے رہے ہیں مگر جان کا خطرہ مول لے کر۔ مدھیہ پردیش کی یہ تصویر دل دہلا دینے والی ہے۔ مگر دل کس کا دہلے؟

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

آپ نے اِس اخبار میں طلبہ کی وہ تصویر دیکھی ہوگی جس میں وہ بند (ڈیم) کے ایک ستون سے دوسرے ستون پر چھلانگ لگا کر درس گاہ تک کی مسافت کم کرنے کی ذہانت کا ثبوت تو دے رہے ہیں مگر جان کا خطرہ مول لے کر۔ مدھیہ پردیش کی یہ تصویر دل دہلا دینے والی ہے۔ مگر دل کس کا دہلے؟ جس کے سینے میں دل ہو۔ محکمۂ تعلیم اور ضلع انتظامیہ کے پاس دل ہو تو کم از کم ایسی جانکاہ تصویریں نظروں سے نہ گزریں۔ ایسے دور میں جب سوشل میڈیا بہت کچھ ظاہر کردیتا ہے اور آنِ واحد میں دور دور تک پہنچا دیتا ہے، اہل اقتدار اور اربابِ اختیار کو اپنے فرائض سے چشم پوشی ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔ اس بات کا خوف ہمہ وقت دامن گیر رہنا چاہئے کہ کچھ بھی ایسا ہوا جس سے اُن کی کارکردگی پر حرف آیا تو اُن کی خیر نہیں۔ اس کے باوجود نہ تو ’’چوری‘‘ پکڑی جانے کا خوف ہے نہ ہی وہ احساس ذمہ داری جس کے تحت فرائض کی انجام دہی میں ہر بات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اتنی بے خوفی کیوں ہے اس کا جواب ہر خاص و عام کے پاس ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ طلبہ نے جو کیا اُنہیں وہ نہیں کرنا چاہئے۔ ہم اس سے انکار نہیں کرتے مگر سوال یہ بھی تو ہے کہ درس گاہ اتنی دور کیوں ہے کہ طلبہ کو شارٹ کٹ پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر مسافت کم نہیں کی جاسکتی تو کیا رسائی کی سہولتیں فراہم نہیں کی جاسکتیں؟ 
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لئے کہ حکومت نے تعلیم کو اپنی ضمنی یا ذیلی ذمہ داری سمجھ لیا ہے۔ ملک میں ایک لاکھ سے زائد اسکول ایک ٹیچر کے بھروسے پر کیوں چل رہے ہیں ؟ کوئی دے سکتا ہے جواب؟ سال ۲۵۔ ۲۰۲۴ء میں ملک بھر میں تقریباً ۸؍ ہزار اسکولوں میں ایک بھی طالب علم نہیں تھا۔ کوئی دےسکتا ہے جواب کہ کیوں نہیں تھا؟ انہی ’’نو اسٹوڈنٹ اسکولوں ‘‘ میں ۲۰۸۱۷؍ اساتذہ تدریسی اُمور پر فائز تھے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ جب اسکول میں طلبہ ہی نہیں ہیں تو اساتذہ کس کو پڑھا رہے ہیں ؟ ایسے سوالات پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں مگر جوابات ندارد ہیں۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جس طرح اسکولوں کا نصاب ہوتا ہے اسی طرح حکومتوں کا بھی نصاب ہونا چاہئے۔ اگر ایسا کوئی نصاب مرتب ہوا تو اس میں تعلیم کو پہلے سبق کے طور پر شامل کیا جانا چاہئے۔ سب کیلئے تعلیم اور سب کیلئے فری تعلیم۔ کوئی داخلہ امتحان نہیں بلکہ سب کچھ میرٹ پر۔ میرٹ کا تعین غیر جانبدار ادارہ کرے۔ اس کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کیلئے خصوصی ٹریبونل ہو جس میں میرٹ کے تعین کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مہینے بھر کے اندر شنوائی ہو۔ جب اس طرح کا نظام قائم ہوگا تب صورت حال بدلے گی اور وکست بھارت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا یعنی جب تک ایک ٹیچر سے کام چلایا جائیگا اور طالب علم نہ ہونے کے باوجود ہزاروں اساتذہ مامور رہیں گے تب تک بہت کچھ ہوتا رہے گا جیسا کہ ہورہا ہے۔ مقام ِ افسوس ہے کہ وہ ادارہ جس میں بدعنوانی صفر ہونی چاہئے وہ بدعنوانی کی آماجگاہ ہے۔ یہ نہ ہوتا تو پرچے لیک نہ ہوتے۔ یہ نہ ہوتا تو ایک ٹیچر پورا اسکول نہ چلاتا۔ یہ نہ ہوتا تو اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دراصل آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اہل اقتدار نے درس گاہ کو ’’درد گاہ‘‘ بنا دیا ہے۔ 

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK