آج مہاتما کا یوم ولادت ہے۔ تعلیمی انقلاب آپ کے لئے اُن کی پانچ اہم خصوصیات کا اعادہ کررہا ہے جو اُن کی پہچان ہیں۔ کوئی پوچھے کہ پانچ خوبیاں کون سی تو آپ بتا سکیں کہ یہ ہیں پانچ خصوصیات۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 9:37 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
آج مہاتما کا یوم ولادت ہے۔ تعلیمی انقلاب آپ کے لئے اُن کی پانچ اہم خصوصیات کا اعادہ کررہا ہے جو اُن کی پہچان ہیں۔ کوئی پوچھے کہ پانچ خوبیاں کون سی تو آپ بتا سکیں کہ یہ ہیں پانچ خصوصیات۔
کسی چیز کا علم ہونا الگ بات ہے اور اُس سلسلے کے سوال کا فوری جواب دینا الگ۔ تعلیمی انقلاب پڑھنے والے طلبہ سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ جواب اُن کی نوکِ زبان پر رہے۔ مثلاً کوئی پوچھے کہ گاندھی جی کی پانچ خصوصیات کون سی ہیں جن کے ذریعہ وہ پہچانے جاتے ہیں تو اس میں شک نہیں کہ آپ جواب دے سکیں گے مگر ممکن ہے سوچ سوچ کر دیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ فوراً جواب دیں۔ اس سے سوال کرنے والے کو حیرت انگیز مسرت ہوگی کہ ارے واہ، آپ نے تو لمحے بھر کی بھی دیر نہیں کی۔ اچھا طالب علم وہ ہے جو صحیح جوابوں سے زیادہ اپنے جوابات کی بے ساختگی سے سوال کرنے والے کو حیرت میں ڈالتا ہے۔ تعلیمی انقلاب پڑھنے والے طالب علموں کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ملاحظہ کیجئے مہاتما کی پانچ خصوصیات:
(۱)اہنسا (Non-violence)
یہ ہے گاندھی جی کا وہ نظریہ جس کے سبب وہ دُنیا بھر میں مشہور ہیں اور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اَہنسا کا معنی آپ جانتے ہیں، عدم تشدد، نان وائلنس۔ گاندھی جی کی قیادت میں ہندوستانی قوم نے انگریزوں کے خلاف جو جنگ لڑی وہ عام جنگوں سے اس لئے مختلف تھی کہ اس میں جنگی ہتھیار استعمال نہیں کئے گئے بلکہ انگریزوں کے خلاف اہنسا کو ہتھیار بنایا گیا یعنی کچھ بھی ہو ہم تشدد کا سہارا نہیں لیں گے بلکہ اپنی بات منواکر رہیں گے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ گاندھی جی کی قیادت میں ہم ہندوستانی آزادی کا مطالبہ منوانے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی پڑھئے: گاندھی جی کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات
(۲) سادگی (Simplicity)
گاندھی جی کی دوسری سب سے بڑی خصوصیت تھی سادگی۔ طرز عمل کی سادگی، طرز فکر کی سادگی، طرز زندگی کی سادگی۔ گاندھی جی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔ کم سے کم ساز و سامان کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ اپنے سوٹ بوٹ سے نہیں، شاندار لباس کے ذریعہ نہیں، عمدہ جوتوں اور گھڑیوں کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنے خیالات اور حکمت و دانائی سے لوگوں کو متاثر کرتے تھے۔ انگریزوں کے خلاف عام جنگوں جیسی جنگ لڑی جاتی تو اربوں روپے برباد ہوتے۔ یہ مزاج کی سادگی ہی تھی جس نے دُنیا کو اہنسا کا فلسفہ دیا اور جیت کر دکھایا۔
(۳) ڈسپلن(Discipline)
گاندھی جی کی تیسری سب سے بڑی خصوصیت تھی ڈسپلن یعنی نظم و ضبط۔ سحر خیزی یعنی صبح سویرے جاگنا اور وقت پر اپنے دن کا آغاز کردینا اُن کے ڈسپلن کا حصہ تھا۔ جس کی زندگی میں ڈسپلن ہو اُس کے لئے اپنے ہدف کو پانا مشکل نہیں رہ جاتا۔ وقت پر جاگنا ہی نہیں وقت پر سونا، وقت پر ہر کام کرنا اُن کی عادت تھی۔ ڈسپلن ہی میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان اُتنا ہی کھائے جتنا ضروری ہو۔ ایسا انسان خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے اور ہر کام آسانی سے مکمل کرلیتا ہے۔ اُن کا نظریہ تھا کہ ڈسپلن سے اندرونی طاقت پیدا ہوتی ہے جو سرگرم عمل رہنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اِن ۹؍ کتابوں سے سیکھیں سوال کرنا اور زندگی کو مختلف نظر سے دیکھنا
(۴) سچائی (Truth)
گاندھی جی کی چوتھی سب سے بڑی خصوصیت، جو پہلی بھی ہوسکتی ہے، سچائی پر یقین تھی۔ وہ سچ کی تلاش میں رہتے تھے۔ اُن کی کتاب The Story Of My Experiments With Truth جس کا ’’تلاش حق‘‘ کے نام سے اُردو میں ترجمہ ہوچکا ہے، یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ سچ تک پہنچنا چاہتے تھے، سچ پر یقین رکھتے تھے اور سچ ہی کو مانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ جھوٹ آدمی کو رُسوا بھی کرتا ہے اور ناکامی کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ سچ سے پیدا ہونے والی طاقت کے ذریعہ ہی انہوں نے انگریزوں کے فریب کو شکست دی۔
(۵) سخت محنت(Hardwork)
گاندھی جی کی پانچویں سب سے بڑی خصوصیت تھی سخت محنت(ہارڈ ورک)۔ اس کا ثبوت اُن کے حالاتِ زندگی میں جا بجا ملتا ہے۔ انہوں نے وکالت بھی کی اور چرخا بھی کاتا، وہ روزانہ دُعائیہ مجلس بھی منعقد کرتے تھے اور مضامین بھی لکھتے تھے، وہ جیل بھی گئے اور اندرونِ ملک سفر بھی کیا۔ اُنہوں نے اخبار بھی نکالا اور برت بھی رکھا۔ اتنا سب کچھ سخت محنت کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔ تھک کر بیٹھ جانا اُن کا شیوہ نہیں تھا۔ وہ مشکلات سے کبھی نہیں گھبرائے، اپنی محنت اور جدوجہد پر یقین کرکے بہتر نتائج کا انتظار کرتے رہے اور بہتر نتائج ہی دُنیا کے سامنے پیش کئے۔