صرف چار واقعات یہاں نقل کئے جارہے ہیں مگر ان سے اندازہ ہوگا کہ گاندھی جی کس طرح سوچتے تھے اور کس چیز کو کتنا مانتے تھے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 9:38 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
صرف چار واقعات یہاں نقل کئے جارہے ہیں مگر ان سے اندازہ ہوگا کہ گاندھی جی کس طرح سوچتے تھے اور کس چیز کو کتنا مانتے تھے۔
(۱) گاندھی جی نے ڈرنا چھوڑ دیا
رات بہت اندھیری تھی اور موہن (موہن داس کرم چند گاندھی) کو تو ویسے بھی بھوت پریت سے بڑا ڈر لگتا تھا۔ اندھیرے میں اکیلے جاتا تو یہی خوف کھائے جاتا کہ ابھی کسی کونے سے کوئی بھوت یا چڑیل نہ آدھمکے۔ اس رات کو تو سچ مچ ہی ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ موہن کو کمرے سے باہر جانا تھا۔ باہر نکلا تو جیسے پیر جم گئے۔ دل دھونکنی کی طرح چلنے لگا۔ خوش قسمتی سے قریب ہی گھر کی پرانی دائی امبھا کھڑی تھی۔ اس نے ہنس کر پوچھا: ’’کیا ہوا موہن؟‘‘
’’مجھے ڈر لگ رہا ہے دائی‘‘موہن نے کہا۔ ’’دھت پاگل، ڈر کاہے کا؟‘‘
’’کتنا اندھیرا ہے، دیکھو تو۔ کہیں کسی بھوت پریت نہ آجائے۔ ‘‘ موہن نے پھسپھسا کر کہا تو دائی پیار سے موہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولی: ’’اندھیرے سے بھی کوئی ڈرتا ہے بھلا! بس رام کا نام جپتے چلو، بھوت پریت قریب بھی نہیں آ پائیں گے اور تمہارا کوئی بال بھی بانکا نہیں کرسکے گا۔ رام تمہاری حفاظت کرینگے۔ ‘‘ امبھا کی بات سے موہن کی ہمت بندھی۔ دل مضبوط کرکے رام کا نام لیتے ہوئے وہ آگے بڑھ گیا۔ اس دن سے موہن کا خوف جاتا رہا۔ اب وہ کبھی بھی خود کو تنہا محسوس نہ کرتا، اسے یقین تھا کہ جب تک بھگوان رام ساتھ ہیں، اس وقت تک کوئی بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
یہیں سے رام نام اس کے جینے کا منتر بن گیا اور آپ جانتے ہیں زندگی کی آخری گھڑی میں بھی یہی نام اس کی زبان پر تھا۔
یہ بھی پڑھئے: گاندھی جی کی اہم خصوصیات جنہیں ہر طالب علم کو یاد رکھنا چاہئے!
(۲) گاندھی جی اور ماسٹر جی
موہن اپنے مزاج کے اعتبار سے بہت شرمیلا تھا۔ جیسے ہی پاٹھ شالہ میں چھٹی کی گھنٹی بجتی وہ بستہ اُٹھا کر گھر کی طرف بھاگتا اور دوسرے لڑکے راستے بھر دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتے چلتے۔ کوئی لڑکا راستے میں کھیلنے کے لئے رُک جاتا تو کوئی کچھ کھانے پینے کے لئے۔ لیکن موہن نہ اِدھر دیکھتا نہ اُدھر۔ کیونکہ اسے ہمیشہ یہی ڈر رہتا تھا کہ لڑکے اسے پکڑ کر اس کا مذاق بنائیں گے۔
ایک مرتبہ اسکول میں انسپکٹر آئے۔ ان کا نام مسٹر گائلس تھا۔ انہوں نے لڑکوں کو انگریزی کے پانچ لفظ لکھنے کے لئے دیئے۔ موہن نے چار لفظ تو لکھ لئے مگر پانچواں ’’کیٹل‘‘ نہیں لکھ سکا۔ ماسٹر نے دیکھا کہ موہن نے یہ لفظ نہیں لکھا تو اس نے انسپکٹر کی نظر بچا کر اشارہ کیاکہ ساتھ والے کی سلیٹ سے نقل کرلو لیکن موہن پھر بھی خاموش بیٹھا رہا۔ سب لرکوں نے پانچوں لفظ صحیح لکھے جبکہ موہن نے صرف چار ہی لکھے تھے۔
انسپکٹر چلے گئے تو ماسٹر صاحب موہن پر خوب بگڑے۔ انہوں نے کہا: ’’مَیں نے اشارہ تو کیا تھا کہ ساتھ والے لڑکے کی سلیٹ پر سے نقل کرلو۔ تمہیں تو نقل کرنا بھی نہیں آتا۔ ‘‘ ماسٹر صاحب کی یہ بات سن کر لڑکے خوب ہنسے۔ اب موہن گھر کی طرف چلا تو دکھی نہیں تھا۔ و ہ جانتا تھا کہ جو کچھ اس نے کیا وہ ٹھیک ہی تھاالبتہ اُسے افسوس یہ تھا کہ ماسٹر جی نے ہی اسے نقل کرنے کی ترغیب دی تھی جبکہ انہیں تو نقل کرنے والوں کو روکنا چاہئے تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اِن ۹؍ کتابوں سے سیکھیں سوال کرنا اور زندگی کو مختلف نظر سے دیکھنا
(۳) گاندھی جی کی اصول پسندی
جب گاندھی جی جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ) میں وکالت کرتے تھے تو ان کا دفتر گھر سے تین میل دور تھا۔ گاندھی جی کے ساتھی شری پولک نے ایک دن ان کے یعنی گاندھی جی کے تیرہ سالہ بیٹے منی لال سے ایک کتاب دفتر سے لانے کیلئے کہا تھا۔ منی لال بھول گیا۔ شام کو شری پولک نے کتاب مانگی تب منی لال کو وہ یاد آئی۔ بات گاندھی جی تک پہنچی تو انہوں نے بیٹے کو بلا کر بڑے پیار مگر سختی سے کہا: ’’بیٹا! مَیں جانتا ہوں کہ رات اندھیری ہے اور راستہ سنسان، آنے جانے کا فاصلہ بھی چھ میل ہے لیکن تم نے پولک صاحب سے کتاب کا وعدہ کیا تھا اس لئے اسی وقت جا کر لے آؤ۔ ‘‘ باپو کا حکم سن کر ’’با‘‘ (کستوربا، مہاتما گاندھی کی اہلیہ) اور گھر کے دیگر لوگ سہم گئے۔ یہ کیسی سخت سزا تھی۔ کہاں وہ کم عمر لڑکا اور کہاں وہ اندھیری رات اور خطرناک راستہ۔ لڑکا راستہ بھول گیا تو؟ کتاب تو کل بھی آسکتی ہے۔ یہ خیال سبھی کے دل میں آیا لیکن بولنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ لوگ جانتے تھے کہ باپو جو بات کہہ دیتے ہیں وہ پتھر کی لکیر بن جاتی ہے۔ بہرحال، خاموشی توڑنے کی ہمت کلیان بھائی نے کی۔ انہوں نے کہا: ’’کتاب مَیں لا دیتا ہوں۔ ‘‘ باپو نے نرمی مگر سخت لہجے میں کہا: ’’وعدہ تو منی لال نے کیا تھا نا!‘‘ کلیان جی نے کہا: ’’اچھی بات ہے۔ منی لال جائے لیکن اس کے ساتھ مجھے بھی جانے دیجئے۔ ‘‘ یہ مشورہ باپو مان گئے اور اس کے نتیجے میں منی لال کلیان جی کے ساتھ گیا اور کتاب لاکر پولک صاحب کو دی۔ پھول سے زیادہ نرم اور لوہے سے زیادہ سخت باپو نے منی لال سے وہ کام کرا کر چھوڑا جس کا وعدہ اس نے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اِن ۹؍ ملازمتوں کا ابھی وجود نہیں مگر مستقبل میں ان کی مانگ ہوگی!
(۴) گاندھی جی اور چھوٹی پنسل
بمبئی میں کانگریس کا بڑا اجلاس ہورہا تھا۔ گاندھی جی کچھ دن پہلے ہی افریقہ سے لوٹے تھے۔ اجلاس کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کیلئے کاکا صاحب کالیکر آئے ہوئے تھے جو جدوجہد آزادی میں شامل رہے، سماجی مصلح تھے مگر گاندھی جی کے معتقد تھے۔ ایک دن گاندھی جی اپنی میز کے پاس کچھ تلاش کررہے تھے۔ کا کا صاحب نے انہیں پریشان دیکھ کر پوچھا:’’کیا ڈھونڈ رہے ہیں باپو؟‘‘ باپو نے جواب دیا: ’’میری پنسل کھو گئی ہے، چھوٹی سی ہے۔ ‘‘
ایک پنسل کے پیچھے باپو اتنا پریشان ہو رہے ہیں، یہ کاکا صاحب کو اچھا نہیں لگا۔ فوراً اپنی پنسل دینے لگے۔ گاندھی جی نے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے کہا: ’’نہیں نہیں مجھے تو وہی چھوٹی سی پنسل چاہئے۔ ‘‘ یہ سن کر کاکا صاحب بولے: ’’فی الحال یہ رکھ لیجئے، بعد میں مَیں آپ کی پنسل تلاش کر دوں گا۔ اس وقت اسے ڈھونڈنے میں آپ کا وقت برباد ہورہا ہے۔ ‘‘ باپو نے کہا: ’’وہ ننھی سی پنسل میرے لئے بہت قیمتی ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ وہ مجھے مدراس میں ایک چھوٹے سے لڑکے نے بہت پیار سے دی تھی، وہ کھوجائے، یہ مَیں کیسے سہہ سکتا ہوں۔ وہ اُس بچے کے پیار کی نشانی تھی۔ ‘‘کا کا صاحب نے مزید کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ کچھ کہنا بے کار ہے۔ وہ بھی گاندھی جی کے ساتھ مل کر پنسل تلاش کرنے لگے۔ آخر وہ مل گئی۔ کاکا صاحب نے دیکھا کہ پنسل کا وہ ٹکڑا دو انچ سے بھی کم تھا مگر گاندھی جی پنسل پاکر بہت خوش ہوئے۔ وہ کوئی معمولی پنسل نہیں تھی۔ وہ ایک بچے کے پیار کی نشانی تھی اور بچوں کی محبت باپو کے لئے بہت قیمتی تھی۔