• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سنہری دریا کا بادشاہ

Updated: October 02, 2026, 9:40 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

معروف انگریز مصنف جان رسکن کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی کنگ آف دی گولڈن رِیور ‘‘ The King of the Golden Riverکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کسی زمانے میں آسٹریا کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے، اسٹیریا، میں ایک ایسی وادی تھی جسے دیکھنے والا اس کی زرخیزی پر حیران رہ جاتا۔ چاروں طرف بلند اور پتھریلے پہاڑ تھے جن کی چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی تھیں۔ پہاڑوں سے آبشاریں اور ندی نالے بہتے تھے، لیکن ان میں سے ایک آبشار سب سے زیادہ مشہور تھا۔ وہ ایک بلند چٹان سے مغرب کی طرف گرتا تھا۔ دن کے آخری حصے میں جب سورج کی روشنی وادی کے دوسرے حصوں سے رخصت ہو جاتی، تب بھی اس آبشار پر سورج کی کرنیں پڑتی رہتیں۔ دور سے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا جیسے چٹان سے سونے کی بارش ہو رہی ہو۔ اسی وجہ سے لوگوں نے اسے سنہری دریا کا نام دے رکھا تھا۔ اس دریا کے آس پاس کی زمین اتنی زرخیز تھی کہ وہاں کی فصلیں بھرپور ہوتیں، سیب سرخ اور انگور نیلے ہوتے۔ لوگ اس وادی کو خزانہ وادی کہتے تھے۔ 
یہاں تین بھائی؛ شوارٹز، ہانس اور گلیوک بھی رہتے تھے۔ بڑے دونوں بھائی، شوارٹز اور ہانس، شکل و صورت اور مزاج دونوں میں سخت تھے۔ ان کی بھنویں ہمیشہ تنی رہتیں، آنکھیں چھوٹی اور بے رونق تھیں، اور ان کے چہروں پر ایسی سختی رہتی کہ لوگ ان کے سامنے آنے سے گھبراتے تھے۔ وہ اچھے کسان ضرور تھے مگر ان میں رحم نہیں تھا۔ وہ ہر اس جاندار کو ختم کر دیتے جسے وہ اپنی آمدنی کیلئے نقصاندہ سمجھتے۔ پھر چاہے وہ پرندے ہوں، جانور ہوں یا ملازم۔ دونوں بھائی دولتمند اور ظالم ہوتے گئے۔ وہ اناج اس وقت تک روک کر رکھتے جب تک بازار میں قیمتیں زیادہ نہ ہو جاتیں، پھر اسے مہنگے داموں فروخت کرتے۔ ان کے پاس سونے کے ڈھیر تھے مگر کسی غریب کو ایک سکہ یا روٹی کا ٹکڑا دینا بھی انہیں گوارا نہ تھا۔ لوگوں نے ان کے ظلم اور لالچ کی وجہ سے انہیں ایک نام دے دیا تھا: کالے بھائی۔ لیکن چھوٹا بھائی گلیوک ان سے مختلف تھا۔ وہ ابھی بارہ برس کا تھا۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں، چہرے پر معصومیت اور دل بے حد نرم تھا۔ وہ سبھی سے محبت سے پیش آتا۔ اس کے بھائی اسے کمزور اور بے وقوف سمجھتے تھے۔ گلیوک کی زندگی میں آرام نہیں تھا۔ کبھی اسے کھانا پکانے کے کام پر لگا دیا جاتا، کبھی جوتے صاف کرنے پر، کبھی فرش دھونے پر۔ اگر وہ کام ذرا بھی دیر سے کرتا تو اسے مار بھی پڑتی۔ پھر بھی وہ اپنے بھائیوں سے نفرت نہیں کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: نیلی صلیب

سردیوں کی شام تھی مگر تیز بارش ہو رہی تھی۔ گلیوک بھائیوں کا انتظار کر رہا تھا۔ تبھی دروازہ کھلا۔ شوارٹز اور ہانس اندر داخل ہوئے۔ وہ بھیگے ہوئے اور غصے میں تھے۔ تبھی انہیں باورچی خانے میں ایک اجنبی شخص دکھائی دیا۔ وہ ایک نہایت عجیب سا بوڑھا آدمی تھا۔ اس کا قد بہت چھوٹا تھا، لباس غیر معمولی تھا اور سر پر مخروطی شکل کی ٹوپی تھی۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ باورچی خانے میں پانی بھرا ہوا تھا، مگر وہ شخص ایسے کھڑا تھا جیسے اسے اس کی کوئی پروا نہ ہو۔ شوارٹز نے حیرت سے پوچھا، ’’یہ کون ہے؟‘‘ گلیوک نے کہا، ’’یہ بہت بھیگا ہوا تھا، اس لئے میں نے اسے اندر آنے دیا۔ ‘‘ 
بوڑھے آدمی نے ادب سے جھک کر سلام کیا۔ ’’میرا نام South-West Wind (ساؤتھ ویسٹ وِنڈ، یعنی جنوب مغربی ہوا) ہے۔ ‘‘ دونوں بھائی پہلے تو اسے گھورتے رہے، پھر اس کا مذاق اڑانے لگے۔ لیکن وہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ وہ جنوب مغربی ہوا کا انسانی روپ تھا، اور اس رات وہ کالے بھائیوں کے گھر ان کی لالچ اور سنگدلی کا حساب لینے آیا تھا۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ ان کے ظلم سے واقف ہے اور انہیں اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہونا چاہئے۔ مگر شوارٹز اور ہانس نے اس کی بات ماننے کے بجائے اسے بھی حقیر سمجھا۔ 
رات گہری ہوئی۔ ہوا تیز ہوتی گئی۔ پھر اچانک طوفان شروع ہو گیا۔ کھڑکیاں کانپنے لگیں، دروازے زور زور سے بجنے لگے اور بارش نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کچھ ہی دیر میں پانی گھر کے اندر داخل ہونے لگا۔ کالے بھائی خوفزدہ ہو گئے۔ وہ جس قدرتی طاقت کو مذاق سمجھ رہے تھے، اب وہ ان کے سامنے پوری شدت کے ساتھ موجود تھی۔ رات بھر طوفان برپا رہا۔ صبح ہوئی تو خزانہ وادی کا نقشہ بدل چکا تھا۔ جہاں کبھی سبز کھیت لہلہاتے تھے، وہاں سرخ ریت اور کیچڑ پھیلا ہوا تھا۔ درخت، فصلیں اور مویشی سیلاب میں بہہ چکے تھے۔ گھر کا نچلا حصہ تباہ ہو گیا تھا اور ان کی جمع کی ہوئی دولت بھی پانی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ 
باورچی خانے کی میز پر صرف ایک چھوٹا سا سفید کارڈ باقی رہ گیا تھا جس پر لکھا تھا: ساؤتھ ویسٹ وِنڈ۔ 
خزانہ وادی کی تباہی کے بعد تینوں بھائیوں کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ پھر شوارٹز اور ہانس نے اپنی بربادی کا الزام ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کر دیا۔ کوئی یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ ان کی سنگدلی اور لالچ نے انہیں اس انجام تک پہنچایا تھا۔ دونوں پریشان تھے کہ اب وہ دولت کہاں سے حاصل کریں گے۔ گلیوک خاموش تھا۔ اسے اپنی وادی کی تباہی کا دکھ تھا۔ اسے ان غریب لوگوں اور بے زبان جانوروں کا خیال آ رہا تھا جنہوں نے اس تباہی میں سب کچھ کھو دیا تھا۔ تینوں بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس علاقے سے چلے جائیں گے۔ 
کئی دن کے سفر کے بعد وہ شہر پہنچے۔ وہاں انہوں نے ایک سنار کے ہاں کام حاصل کر لیا۔ شوارٹز اور ہانس نے جلد ہی سونے چاندی کے کام میں مہارت حاصل کر لی اور کچھ عرصے بعد اپنی دکان بھی کھول لی۔ لیکن دولت حاصل کرنے کے بعد بھی ان کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ پہلے کی طرح لالچی اور خود غرض رہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی کی سالگرہ

گلیوک ان دونوں کے ساتھ دکان میں کام کرتا تھا، مگر اسے ان کے رویے سے سخت تکلیف ہوتی۔ وہ لوگوں کو دھوکا دے کر چیزیں مہنگے داموں فروخت کرتے، کمزور لوگوں سے زیادہ قیمت وصول کرتے اور ہر موقع پر اپنا فائدہ تلاش کرتے۔ ایک دن ان کے پاس ایک عجیب سا پرانا برتن آیا۔ وہ دیکھنے میں معمولی تھا۔ شوارٹز نے اسے دیکھ کر کہا کہ اسے پگھلا کر کسی اور چیز میں استعمال کر لینا چاہئے۔ انہوں نے برتن کو پگھلانے کیلئے بھٹی میں ڈال دیا۔ جیسے ہی برتن گرم ہوا، اس میں سے ایک عجیب سی آواز آئی۔ تینوں بھائی چونک گئے۔ بھٹی کے اندر سے دھوئیں کی ایک لہر نکلی اور اس کے بیچ ایک چھوٹا سا عجیب و غریب شخص نمودار ہوا۔ 
اس نے اپنے آپ کو سنہری دریا کا بادشاہ بتایا۔ وہ وہی پراسرار بادشاہ تھا جو پہاڑوں کے اندر رہتا تھا اور سنہری دریا کے راز کی حفاظت کرتا تھا۔ اس نے کہا، ’’تم نے مجھے آزاد کیا ہے، مَیں بدلے میں تمہیں دولت دوں گا لیکن تمہیں میری باتوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ ‘‘
اس نے کالے بھائیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’اگر تم دولت چاہتے ہو تو چرچ سے مقدس پانی لو اور سنہری دریا کے سرچشمے تک جاؤ۔ اگر تم مقدس پانی سنہری دریا کے سرچشمے میں ڈالو اور اسے ضائع نہ کرو نیز تمہارا دل لالچ سے پاک ہو تو چشمے کا پانی سونے میں بدل جائے گا۔ ‘‘ بھائیوں نے یہ شرط سنتے ہی دولت کا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے شوارٹز نے پہاڑ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے چرچ سے مقدس پانی لیا اور بڑی مشکل سے چشمہ تک پہنچا۔ وہاں ایک غریب پیاسے آدمی نے اس سے پانی مانگا۔ شوارٹز کو بادشاہ کی شرط یاد تھی۔ اگر اس نے پانی کسی اور کو دے دیا تو اس کا منصوبہ ناکام ہو سکتا تھا۔ اس نے غریب کو پانی دینے سے انکار کر دیا اور آگے بڑھ گیا۔ لیکن جیسے ہی وہ چند قدم آگے گیا، اس کی ٹانگیں بھاری ہو گئیں۔ اور وہ زمین پر گر پڑا۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی، مگر اس کا جسم پتھر کی طرح سخت ہوتا گیا۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ مکمل طور پر پتھر کا مجسمہ بن چکا تھا۔ وہ سنہری دریا تک نہ پہنچ سکا۔ اس کا لالچ ہی اس کی سزا بن گیا۔ 
جب شوارٹز کئی دن تک واپس نہ آیا تو ہانس نے سوچا کہ شاید وہ کامیاب ہو گیا ہے اور اب سارا خزانہ اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا ہے۔ وہ بھی مقدس پانی لے کر پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں وہی غریب پیاسے شخص نے پانی مانگا۔ ہانس نے بھی اسے پانی دینے سے انکار کر دیا۔ اور پھر اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو شوارٹز کے ساتھ ہوا تھا۔ اب دونوں بڑے بھائی پہاڑ پر خاموش پتھروں کی طرح پڑے تھے۔ 
دونوں بھائی نہ لوٹے تو گلیوک سنہری دریا کی طرف جانے کیلئے تیار ہوا۔ اس کا سفر بھائیوں سے بھی زیادہ مشکل تھا کیونکہ موسم خراب تھا اور پہاڑ پر برف پڑ رہی تھی۔ لیکن اس کے دل میں دولت کا لالچ نہیں تھا۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ بھائیوں کی قسمت معلوم کرے اور اگر ممکن ہو تو ان کی مدد کرے۔ پہاڑ پر چلتے ہوئے اسے ہانس کا پتھر دکھائی دیا۔ اور چند میل کے فاصلے پر شوارٹز بھی تھا۔ گلیوک کو سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ وہ افسوس کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ راستہ اب نہایت دشوار ہو چکا تھا۔ اس کے قدم برف میں دھنس رہے تھے۔ بالآخر، وہ سرچشمے تک پہنچا، بوتل نکالی۔ 
لیکن عین اسی وقت ایک ننھا سا بچہ سامنے آ گیا۔ بچہ سخت سردی اور پیاس سے بے حال تھا۔ اس نے پانی مانگا۔ گلیوک کو بادشاہ کی شرط یاد آئی۔ لیکن اس کے سامنے پیاسا بچہ تھا۔ اس نے مقدس پانی کی بوتل کھولی اور پانی کا آخری قطرہ بھی بچے کو پلا دیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی اپنی آزمائش ناکام ہو چکی ہے۔ اسے نہ سونا ملا اور نہ بھائیوں کو واپس لانے کا کوئی راستہ۔ لیکن وہ افسردہ نہیں تھا۔ وہ پلٹ ہی رہا تھا کہ اچانک پہاڑ کے اندر سے آواز آئی، ’’گلیوک!‘‘ وہ رُک گیا۔ ’’تم نے دولت کیلئے پانی نہیں بچایا۔ تم نے اسے ایک پیاسے کو دے دیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کی تلاش تھی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دھاگے کا ٹکڑا

گلیوک کے سامنے روشنی پھیل گئی جس کے درمیان سنہری دریا کا بادشاہ ظاہر ہوا۔ وہ پہلے سے زیادہ شاندار تھا۔ اس کے لباس اور چہرے پر ایسی روشنی تھی جسے دیکھ کر گلیوک کی آنکھیں چند لمحوں کیلئے چندھیا گئیں۔ بادشاہ نے کہا، ’’تم نے اپنے بھائیوں کی طرح آزمائش میں اپنی خواہش کو منتخب نہیں کیا۔ تم نے ایک اجنبی کی ضرورت کو اپنی خواہش سے زیادہ اہم سمجھا۔ یہی تمہیں اس خزانے کا حقدار بناتا ہے۔ ‘‘ گلیوک نے حیرت سے اپنی خالی بوتل کی طرف دیکھا۔ ’’لیکن میرے پاس تو پانی بھی نہیں بچا۔ ‘‘ بادشاہ مسکرایا۔ ’’یہ پانی کی نہیں نیت کی آزمائش تھی۔ ‘‘ پھر اس نے گلیوک کو حکم دیا کہ وہ دریا سے تین قطرے لے کر سنہری دریا کے سرچشمے میں ڈال دے۔ گلیوک نے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی پانی کے قطرے دریا میں گرے، ایک عجیب تبدیلی شروع ہو گئی۔ پانی کی سطح پر سنہری روشنی پھیل گئی۔ چٹانوں کے درمیان بہتا ہوا پانی جیسے پگھلے ہوئے سونے میں بدلنے لگا۔ سورج کی روشنی میں دریا اس طرح چمکنے لگا کہ پورا پہاڑ سنہری دکھائی دینے لگا۔ گلیوک حیرت سے یہ منظر دیکھتا رہا۔ 
بادشاہ نے کہا، ’’اب یہ دریا جہاں سے گزرے گا، وہاں کی زمین کو خوشحالی دے گا۔ مگر یاد رکھنا، دولت تبھی نعمت ہے جب اس سے دوسروں کی زندگی بہتر ہو۔ ‘‘
گلیوک نے سر جھکا دیا۔ اس کے ذہن میں فوراً اپنے بھائی آ گئے۔ ’’کیا میرے بھائی واپس آ سکتے ہیں ؟‘‘ بادشاہ نے کہا، ’’تمہارے دل میں ان کیلئے اب بھی محبت ہے؟‘‘ ’’وہ میرے بھائی ہیں۔ ‘‘ بادشاہ نے جواب دیا، ’’تو پھر جاؤ۔ ‘‘ گلیوک پہاڑ سے اترنے لگا۔ جب وہ وہاں پہنچا جہاں ہانس اور شوارٹز کے پتھر پڑے تھے تو اس نے دیکھا کہ ان پر عجیب سنہری روشنی پڑ رہی ہے۔ پتھروں میں دراڑیں پڑیں اور پھر دونوں بھائی اپنے اصلی روپ میں لوٹ آئے۔ وہ حیرت اور خوف سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ گلیوک ان کے سامنے کھڑا تھا۔ دونوں بھائیوں نے اسے دیکھا تو شرمندہ ہوگئے۔ اب انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ لالچ نے انہیں پتھر بنا دیا تھا۔ 
شوارٹز نے آہستہ سے کہا، ’’گلیوک، ہمیں معاف کر دو۔ ‘‘ گلیوک نے بھائیوں کو گلے لگا لیا۔ پھر تینوں بھائی وادی کی طرف روانہ ہوئے۔ اب خزانہ وادی پہلے جیسی نہ تھی۔ سنہری دریا کا پانی جب دوبارہ اس کی زمینوں سے گزرا تو وادی میں نئی زندگی پیدا ہونے لگی۔ کھیت دوبارہ سرسبز ہونے لگے، باغوں میں پھل آنے لگے اور لوگوں کے گھروں میں خوشحالی لوٹنے لگی۔ گلیوک نے دولت کو اپنے تک محدود نہیں رکھا۔ اس نے ضرورتمندوں کی مدد کی، کسانوں کو زمین دی، مسافروں کیلئے راستے بنوائے اور اس بات کا خیال رکھا کہ وادی کی خوشحالی صرف چند لوگوں کے ہاتھ میں نہ رہے۔ اس کے دونوں بھائی بھی بدل گئے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ سمجھا کہ دولت کا مقصد اسے جمع کرتے رہنا نہیں بلکہ اسے صحیح جگہ استعمال کرنا ہے۔ 
اور سنہری دریا؟ وہ آج بھی اپنی چمکتی ہوئی لہروں کے ساتھ پہاڑوں سے اترتا تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر حیران ہوتے، مگر گلیوک جانتا تھا کہ اس کی اصل سنہری چمک پانی میں نہیں، اس سبق میں تھی جو اس نے اپنی زندگی سے سیکھا تھا، یعنی سچی دولت وہ نہیں جو انسان اپنے لئے جمع کرتا ہے؛ سچی دولت وہ ہے جو دوسروں کے کام آتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK